نونہالوں کا”ہمدرد“ بدل گیا

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
ہمدرد نونہال بدل گیا۔ اکتوبر 2020 کا شمارہ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ حیرت کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ نونہال اتنے برس تک ایک ہی روٹین میں چلتا رہا۔
قارئین!
آ پ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔جب آپ جمود کا شکار ہو جائیں تو پھر ناکامی کا سامنا ایک نہ ایک دن کرنا پڑتا ہے۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق عمل درآمد کریں تاکہ نئے رححانات آپ کو مزید کامیابی سے ہمکنار کریں۔

یہ بات اس لئے کہنی پڑی ہے کہ بچوں کے من پسندرسالے”ہمدرد نونہال“ نے اپنا رنگ روپ بدل لیا ہے۔اب یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے برسوں سے خدمات دینے والاماہ نامہ اب پہلے سے برعکس اقدامات کرنے لگا ہے۔،آج بھی اُس کے لئے بچوں کی کردار سازی اولین ہی ترجیح ہے مگر اس کا لے آؤٹ جدید ہو گیا ہے، نہ صرف یہ کہ رنگ روپ بدلا ہے بلکہ اب یہ اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی شائع ہونے لگا ہے۔

قارئین!
اگرچہ پاکستان میں یہ رجحان نیا نہیں ہے، اس سے پہلے بچوں کا رسالہ”ہلال فار کڈز“ بھی انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں شائع ہو رہا ہے، مگر بہت سے احباب اس حوالے سے بات کر رہے ہیں کہ ہمدرد نونہال رسالے کی اشاعت اُردو زبان میں ماضی کی مانند برقرار رکھنی چاہیے تھی۔بچوں کے رسائل کے علاوہ بھی کئی دیگر رسائل اور اخبارات میں انگریزی زبان میں تحریریں شائع ہو رہی ہیں۔ چونکہ ماہ نامہ”ہمدرد نونہال“ برسوں سے ایک مخصوص انداز میں چل رہا تھا،اس لئے اس کی نئی تبدیلی کو پسند نہیں کیا جا رہا ہے، یہ نا پسندیدگی محض ایک مخصوص حلقے تک ہی محدود ہے یا سب نا پسند کر رہے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا۔

لیکن دوسری طرف بچوں کے لئے یہ اب زیادہ دل کش ہو گیا ہے جیسے”بچوں کا باغ“،”جگنو“ اور ”بچوں کی دنیا“ کو چلڈرن لٹریری سوسائٹی شائع کروا رہی ہے۔بچوں کو ہمیشہ سے ہی دل کشی لبھاتی ہے تب ہی رسائل کے سرورق اورلے آؤٹ میں جدت رکھی جاتی ہے۔مگر یہاں ماہ نامہ”ُپھول“ جیسے بھی رسائل ہیں جو کہ آج بھی اپنی مقبولیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں،اگرچہ وہ دیگر رسائل کی مانند زیادہ جدت پسندی کی جانب مائل نہیں ہورہا ہے مگر پھر بھی بچوں وبڑوں میں اپنی شہرت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

قارئین!
راقم السطور کے خیا ل میں ”ہمدرد نونہال“ کی یہ تبدیلی وقت کی ایک اہم ضرورت کہی جا سکتی ہے۔ابھی حال ہی میں ”نوعمر ڈائجسٹ“ کی اولین اشاعت کے لئے جس طرح جدید تقاضوں کو مدنظر رکھ کراشاعت سے قبل رسالے کی مقبولیت میں اضافہ کیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے۔اسی طرح سے ہم ”ہمدرد نونہال“ کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ جدید دور کا بچوں کا وہ ہمدرد بن رہا ہے جو آج کے لحاظ سے رہنمائی کرنے کو تیار ہو رہا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو آج بہت سے انگریزی اسکولوں میں محض انگریزی ہی پڑھائی اور بولی جاتی ہے۔جہاں یہ صورت حال ہو تو وہاں کے طالب علموں کو اب کیسے کوئی اُردو زبان میں معیاری مضامین پڑھنے دے گا۔یہ اس لحاظ سے بہترین فیصلہ ہے کہ اگر انگریزی اسکولوں کی لائبریریوں میں ”ہمدرد نونہال“ اور اس جیسے دیگر رسائل کی ترسیل ہوتی ہے تو بچوں کو نہ صرف عمدہ اور معیاری انگریزی زبان میں مواد پڑھنے کو ملے گا۔بلکہ دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جن بچوں کی اُردو لکھنے اور پڑھنے میں کمزور ہو، وہ اس رسالے کی وجہ سے اپنی کمزوری پر کام کریں اور اچھی اُردو لکھنے اور بولنے والے طالب علم بن سکیں۔

قارئین!
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ راقم السطور کو ایک تعلیم یافتہ فرد سے چند سوالات کرنے کے لئے سوالنامہ دینا پڑا، تو معلوم ہوا کہ اُن کی اُردو لکھنے کی صلاحیت کتنے مسائل کا شکار ہو چکی ہے کہ بہت سے آسان لفظوں کو بھی غلط انداز میں لکھا گیا تھا۔
اب یہ کون بتائے گا کہ ہم آج اس مقام تک کیوں پہنچے ہیں۔ہم سب یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں سرکاری سطح پر اُردو زبان کو رائج کیا جائے مگر انگریزی کو ترجیح دی جاتی ہے۔اب اگر اُس تعلیم یافتہ شخص کی انگریزی بہترین ہے اور اُردو کمزور ہے، تو یہاں ہماری محدود سوچ بھی قصور وار ہے۔جب تک انگریزی کے ساتھ اُردو کا فروغ ممکن نہیں ہوگا تب تک ہم پھر سے رسائل وجرائد کی جانب نئی نسل کو بھی نہیں لا سکتے ہیں، جب دو انتخاب اُن کے سامنے ہونگے تو یقینی طور پر ہو سکتاہے کہ قومی زبان کی جانب اُن کا رجحان زیادہ ہونے سے اُردو زبان کی قدر وقیمت کا بھی احسا س ہو گا۔

ہمیں انگریزی کے ساتھ اُردو کو بھی لے کر چلنا پڑے گا تاکہ کم سے کم ہم اپنی قومی زبان کو ٹھیک طرح سے بول اور لکھ سکیں۔یہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب معیاری اُردو اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والے رسالے ہماری اصلاح کریں گے۔راقم السطور کو اولین تحریر سے ہی حوصلہ افزائی دینے والے ”ہمدرد نونہال“نے اگر ماضی کی مانند لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور معیار برقرار رکھا تو نونہالوں کا ہمدرد ہی رہے گا اور یہ تبدیلی جو آ ج دیکھنے کو ملی ہے وہ زیادہ مقبولیت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔اس حوالے سے رسالے کی انتظامیہ کو خاص طور پر کام کرنا چاہیے کہ کم سے کم معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور جدید تقاضوں کے ساتھ قارئین اور لکھاری حضرات کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 300 Articles with 257204 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
06 Jan, 2021 Views: 363

Comments

آپ کی رائے