رانی میرا پہلا پیار ۔۔۔اداکارہ رانی کی بیٹی رابعہ کا اپنی ماں کے لئے پیار

 
پاکستانی فلم انڈسٹری کے بہت سارے نام ایسے ہیں جنہوں نے اسکرین پر تو شہرت کے جھنڈے گاڑھے لیکن ان کی ذاتی زندگی پر اکثر پردے ہی پڑے رہ جاتے۔۔۔ایک ایسا ہی نام تھا رانی کا۔۔۔خوبصورت امراؤ جان ادا ، جن کی اداکاری اور پرفارمنس باکمال تھی لیکن ان کے انتقال کے بعد بھی بہت سے لوگ ان کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی زندگی کے راز سے انجان ہی رہے۔۔۔آج کئی برسوں بعد ان کی بیٹی رابعہ نے زندگی کے کچھ حصوں سے پردہ اٹھایا اور اپنی ماں کے حوالے سے کچھ یادیں شیئر کیں۔۔۔
 
اپنی والدہ کی پچیسویں برسی کے موقع پر رابعہ نے ایک تحریر لکھی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ جھجھکتی تھیں اپنی والدہ کے بارے میں لکھتے ہوئے کچھ جذباتی وجوہات کی بناء پر۔۔۔لیکن اب انہوں نے ہمت کی اپنے دل کو کھولنے کی۔۔۔
 
وہ کہتی ہیں کہ میں انہیں چھوٹی امی کہتی تھی۔۔۔کیونکہ شروع سے ہی ہم نے اپنی نانی کو امی جی کہا ۔۔۔ہمارے گھر کی روایت تھی کی کہ فلم کا پہلا شو سینما میں دیکھنے جاتے تھے اور ۱۹۷۹ میں فلم ’’ترانہ‘‘ کے شو پر جاکر مجھے اندازہ ہوا کہ میری ماں ایک اور زندگی بھی جیتی ہے ۔۔۔وہ زندگی جو آڈینس کے نام ہے اور سینما میں موجود لوگ ان کی پرفارمنس اور ڈانس پر جب شور مچا رہے تھے تو مجھے تھوڑی جلن بھی ہوئی۔۔۔کیونکہ میں بچپن سے ہی پانی ماں کے لئے بہت جذباتی تھی۔۔۔لیکن میں خود بھی اپنی ماں کی محبت میں ڈوب جاتی تھی جب بھی وہ کوئی کردار کرتی تھیں اور میں ان سے بہت متاثر تھی۔۔۔
 
 
مجھے یاد ہے کہ ’’امراؤ جان ادا‘‘ دیکھتے ہوئے میں کتنا روئی تھی جب انہیں پریشان کیا گیا فلم میں۔۔۔ رانی نے اپنے فلمی کیرئیر کے عروج میں میرے والد ماسٹر حسن طارق سے شادی کی۔۔۔حالانکہ مجھے اپنے والد کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بہت کم ملا کیونکہ میں چھوٹی تھی تو ان دونوں کی علیحدگی ہوگئی اور پھر ۱۹۸۲ میں والد کا انتقال ہوگیا۔۔۔
 
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ چھوٹی امی ایک ماں کے طور پر کیسی تھیں، لوگ سوچتے ہیں کہ وہ مجھے کھانے پکا کر کھلاتی ہوں گی، میرا لنچ باکس بناتی ہوں گی، مجھے اسکول چھوڑنے جاتی ہوں گی۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے کام سے بہت قریب تھیں اور میرے ساتھ وقت کم گزرتا تھا اور اسٹوڈیو یا سفر میں زیادہ وقت گزرتا تھا۔۔۔بچپن میں مجھے یاد ہے کہ وہ مجھے خاص موقعوں پر ہی زیادہ ملتی تھیں جیسے عید، سالگرہ یا کوئی چھٹیاں۔۔۔جب میں اسکول جاتی تھی تو وہ بہت رات کو آتی تھیں کام سے اور صبح جب جاتی تھی اسکول تو وہ سورہی ہوتی تھیں۔۔۔اس دور میں ہم تقریبات میں ہی مل پاتے اور خوب ہنستے اور کھیلتے تھے۔۔۔میں نے چھوٹی امی سے تاش کے پتے پھینٹنا سیکھے اور لوڈو کھیلتے ہوئے وہ اکثر مجھے جتوانے کی خاطر خود ہار جاتی تھیں۔۔۔
 
 
چھٹی والے دن ہم دونوں ریڈیو سنتے اور نقلیں اتارتے مختلف کرداروں کی۔۔۔ان میں سے ایک ان کے پسندیدہ تھے ’’الٹے پلٹے‘‘۔۔۔ایک اور پروگرام ــ’’رنگ ہی رنگ ، جیدی کے سنگ‘‘ بھی انہیں پسند تھا ۔۔۔رانی کا حس مزاح کمال تھا ۔۔۔وہ انکل جیدی کی باتوں پر جملے پنجابی میں پھینکتیں اور ہم ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجاتے۔۔۔
 
بد قسمتی سے اس اسٹارڈم کی قیمت بہت مشکل تھی، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ رانی کی اصلی زندگی بہت آسان نہیں تھی۔۔۔ایک طویل عرصہ پھیپھڑوں کے کینسر کو ہرایا، شادیاں ٹوٹیں، ڈپریشن کا شکار رہیں اور دماغی اور جذباتی حالت یہ تھی کہ ایک بار چلتی گاڑی سے کودیں خود کشی کرنے کے لئے جس کو میں نے خود دیکھا۔۔۔ان کے غموں نے سب کو ہی متاثر کیا گھر میں اور ان میں میں بھی شامل تھی۔۔۔وہ ایک عرصہ تک لڑیں اور وہ میرا آج بھی پہلا پیار ہیں۔۔۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
07 Jan, 2021 Views: 69256

Comments

آپ کی رائے