مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا 20واں یوم تاسیس بعنوان اسلام ہے پہچان

(Tanveer Ahmad Awan, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

مسلم سٹوڈنٹس آگنائزیشن 11 جنوری 2002 کو معرض وجود میں آنے والی طلبہ تنظیم ہے ،جوغلبہ اسلام و استحکام پاکستان کا واضح موقف اور مستقل نصب العین رکھتی ہے ،یہ اپنی حیثیت میں آزاد اور خود مختار ہونے کی وجہ سے دیگر طلبہ تنظیموں سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے،انتہائی قلیل عرصہ میں اس طلبہ تنظیم نے وطن عزیز کے طول وعرض میں پھیلے دینی وعصری تعلیمی اداروں میں یکساں وجود رکھنے کی وجہ سے غیر معمولی حیثیت حاصل کرلی ہے،یہ واحد تنظیم ہے جس نے سب سے پہلے ملا اور مسٹر کی تفریق کے خاتمے کا نعرہ لگایا اور دونوں طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے معاشرے میں پھیلی طبقاتی تفریق کے خاتمے کا آغاز کیا ۔اس تنظیم کا یہ خاصہ رہا ہے کہ اپنے قیام سے آج تک یکساں نظام تعلیم او رطلبہ کے حقوق کے لیے ہمیشہ برسر میدان نظر آئی ہے،اور نظریہ پاکستان اور اسلامی و مشرقی اقدار کے تحفظ اورفروغ کے لیے شعور و آگہی کی جدوجہد کرتی رہی ہے ،نوجوان نسل میں دین ووطن کی محبت اور ترقی کے لیے جذبہ کی آبیاری کی نظریاتی وفکری محنت ایم ایس او پاکستان کا خاصہ ہے، مظلوموں کی آواز بننے کے ساتھ ساتھ کشمیر ،برما اور فلسطین کے مظلوموں کے لیے بھی صدائے احتجاج بلند کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،جب کہ مقدس شخصیات کے تحفظ ،ناموس رسالت اور ناموس صحابہ و اہلبیت کے لیے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا فعال کردار زبان زدِ عام ہے۔
ایم ایس او پاکستان خودمختاراور مستقل طلبہ تنظیم ہے ،جس کا ہر رکن جذبہ حب الوطنی اور دین کی محبت سے سرشار ہے۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی20 سالہ جد وجہد اس امر کی عکاس ہے کہ اس نے ہمیشہ اسلامی روایات اور مشرقی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثرآواز اٹھائی ہے ،اس طلبہ تنظیم نے اس ذمہ داری کونوجوانواں میں بیدار کیا،جو امت محمدیہ کے ہر فردپر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ واشاعت اورشعائر اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری کو بھرپورانداز میں ادا کرے ،اور انفرادی و اجتماعی طور پرذہن سازی اورمذہبی اقدار کی جانب رغبت ، اہمیت اورضرورت کوا جاگر کرنے میں کردار ادا کرے تا کہ ہرایک مسلمان کونظریاتی طور پرمضبوط ہو، اس کے قول وعمل، گفتارو کردار میں سو فیصد اسلام اورایمان کی خوشبومہکتی ہو اور وہ اپنے اعلیٰ ترین کردار و سیرت کی بنیاد پر انسانیت کو اپنا جیسے بن جانے کی دعوت دے سکے۔مسلم سٹوڈ نٹس آرگنائزیشن پاکستان اس طرز پرنوجوانوں میں فکری اور نظریاتی محنت اور جدوجہد کو اپنائے ہوئے ہے کہ وہ گفتار سے زیادہ کردار کے مسلمان ثابت ہوں۔ایم ایس او پاکستان جمہوری و شورائی طرز پر اپنا تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے ، ہر سال نئے ناظم اعلیٰ کا شوریٰ کے ذریعہ انتخاب ہوتا ہے ، ہرسال سیشن کے اختتام پر عہدیداران تمام کارکنان کے سامنے احتساب کے سخت ترین عمل سے گزرتا ہے ،جو کہ اس طلبہ تنظیم کے پھلنے ،پھولنے اور ترقی کا راز ہے۔

تحریک پاکستان میں قائد اعظم کی امیدوں کا مرکز ومحور نوجوان طلبہ تھے ،جب کہ یہ حقیقت ہے کہ تعمیروترقی ا ور استحکام پاکستان میں بھی نوجوان طلبہ کا کردار ناگزیر ہے،مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی محنت کا محور و مرکز بھی یہی نوجوان ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں کو طبقاتی نظام تعلیم نے ملا اور مسٹر کی واضح تفریق میں تقسیم کررکھا ہے ، پھر عصری تعلیم گروہی ،لسانی اور صوبائی تفریق کا شکارہے،جس کے نتائج معاشرے میں عیاں ہیں ۔ایم ایس او پاکستان نے سب سے پہلے ملااور مسٹر کی تفریق کے خاتمے کا اعلان کیا،دو انتہاؤں پر کھڑے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے کے مواقع فراہم کئے ،ملک و ملت کی ترقی کے لیے دونوں گروہوں کے نظام تعلیم کی اہمیت کو واضح کرکے مستقبل میں ملکی ترقی اورصالح قیادت کے لیے ان نوجوانوں کے غیر معمولی کردار کی اہمیت کو واضح کیا ۔مصور پاکستان علامہ محمد اقبال ؒ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی امنگوں کے مطابق نوجوان طلبہ کو جدید دور کے چیلنجز سے نبردآزماہونے کے لیے تعلیمی تیکنیکی اور فنی مہارتوں سے مزین ،اور معاشرے میں مثبت اور فعال سرگرمیوں کو سرانجام دینے کے لیے راہنمائی فراہم کرتی ہے ، جذبہ حب الوطنی ،اسلامی اقدار، تعلیمات سے آگاہی کے لیے فکری اور نظریاتی سوچ مہیا کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی دو عشروں پر محیط جدوجہد پورے ملک کے طلبہ کی مقبول آواز بن چکی ہے،دینی مدارس اور جامعات کے طلبہ کرام ہوں یا کالجز اور یونیورسٹیزکے سٹوڈنٹس ہر ایک ایم ایس او پاکستان کے نام ،کام اور کاز کا معترف نظر آتا ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے مثبت اور تعمیری جدوجہد کی وجہ سے قومی مذہبی ،علمی ،سیاسی اورسماجی شخصیات کا اعتمادحاصل کیا ہے ،جنہوں نے مختلف مواقع پر ایم ایس او پاکستان کے پروگرامز میں شرکت کرکے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ طلبہ اورمستقبل کے حوالے سے اس جدوجہد اور محنت کو اہم قرار دیا ۔شہید ناموس رسالت شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق شہید ؒ،فخر پاکستان سابق DG.ISIجنرل (ر)حمید گل ؒ،مولاناقاری محمدحنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،مولانا محمد احمد لدھیانوی سربراہ اہلسنت و الجماعت ،مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا زاہدالراشدی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل ،سینیٹرومرکزی راہنما جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا عبدالغفورحیدری، ڈاکٹر علی محمد علی الباروم(ام القریٰ یونیورسٹی ۔مکہ مکرمہ)شیخ ابو الجود محمود السامری (مدینہ منورہ)سردار محمد یوسف‘سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امورپاکستان ،راجہ ظفر الحق ،علی محمد خان،سردار عتیق احمد خان صدر مسلم کانفرنس،سردار محمد یعقوب سابق صدر و وزیراعظم آزارجموں وکشمیر ،اسد دورانی سابق ڈی جی آئی ایس آئی ،مشیر وزیراعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہرمحمود اشرفی چیئرمین پاکستان علماء کونسل،حافظ حسین احمد ،مولانا قاضی عبدالرشید ،ترجمان وفاق المدارس العربیہ مولانا عبدالقدوس محمدی ،الشیخ مولانا ولی خان المظفر،معروف مذہبی سکالرمفتی محمدزبیر،معروف ادیب ومصنف مولانا عبدالقیوم حقانی،صحافی و تجزیہ نگارخورشید ندیم ،معروف کالم نگار ومفکر اوریا مقبول جان ،سینئرصحافی مجیب الرحمن شامی سمیت قومی شخصیات MSOپاکستان کے فکری،نظریاتی،اصلاحی اور علمی سیمینارز اور کنونشنز میں تشریف لاکر نوجوانوں کی فکری و نظریاتی آبیاری کرتی رہی ہیں۔

نائن الیون کے بعد وطن عزیز پاکستان اور پاکستانی عوام کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ،ان میں ایک یہ کہ امن و امان کی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ ساتھ ہمیں بحیثیت قوم اندرونی و بیرونی خطرات سے گزرنا پڑا ، ایسے حالات میں طلبہ میں مثبت سرگرمیوں کا فروغ دینا اور جذبہ حب الوطنی کو پروان چڑھانا ایم ایس او کا ہی خاصہ رہا ہے ، تعلیمی اداروں سے لسانی ،گروہی ، صوبائی اور طبقاتی تفریق سے بالا تر ہوتے ہوئے اور اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے،سیاسی وابستگیوں اور وفاداریوں سے بالاتر ہو کر طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کی ہے ،مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے مدارس کے فضلاء کو جدید دور کے چیلنجز سے نبردآزماہونے کے لیے جدیدتعلیمی اداروں اور مہارتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور کالجز و یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس کا تعلق قرآن ،امام الانبیاء ﷺ اور صحابہ کرام سمیت اسلاف سے جوڑے رکھنے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ایم ایس او پاکستان ایجوکیشن ریفارمز پر یقین رکھتی ہے کہ یکساں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم ہی ہمیں ترقی کی شاہراہ پرلاسکتا ہے۔

دوسرا چیلنج یہ تھا کہ آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مقدس شخصیات باالخصوص امام الانبیاء ﷺ اور آپ کے اصحاب و اہلبیت کوطعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جانے لگا،سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلاجانے لگا ،تو مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے احتجاجی مظاہروں سمیت ہر مؤقر فورم پرصدائے احتجاج بلند کی ، اعلیٰ سطح پرذمہ دار شخصیات کو اس مسئلہ کی سنگینی سے آگاہ کیا اور اس کے سدباب میں فعال کردار ادا کیا ۔مسلم سٹوڈ نٹس آرگنائزیشن پاکستان نے دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر طلبہ تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ مسلم طلبہ محاذ سے جانداز کردار ادا کیا ۔کرونا وباء کے دوران جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے وہیں تعلیم ، تعلیمی ادارے اور طلبہ بہت زیادہ متاثر ہوئے ، انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم کا آغاز ہوا ،طلبہ کو تعلیم ،فیسوں اور امتحانات کے حوالے سے مسائل درپیش ہوئے تو ایم ایس او پاکستان نے برمحل طلبہ کی آواز بن کر مسائل کو اجاگر کیا اور ان کے حل کے لیے صدائے احتجاج بلند کی اور حکومتی ذمہ داروں تک مسائل کو پہنچایا ،گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر نوجوانان پاکستان کی بھر پور نمائندگی کی اور مسئلہ کی سنگینی اور سدباب کے لیے جدوجہد کی ۔
 
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہر سال 11جنوری کو اپنا یوم تاسیس یوم تجدید عہد کے طور پر مناتی ہے ،موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ عنوان کا چناؤ کیا جاتا ہے ، غلبہ اسلام و استحکام پاکستان اور حقوق طلبہ کی جدوجہد کے 19سال مکمل ہونے پر ایم ایس او پاکستان نے 20ویں یوم تاسیس کو" اسلام ہے پہچان "کے عنوان کا انتخاب کیا ہے ،ان عنوان کے تحت اسلام آباد ،کراچی ،لاہور ،پشاور اور مظفر آباد سمیت ملک بھرکے چھوٹے بڑے شہروں میں سیمینارز اور تربیتی و فکری پروگرامز منعقدکئے جائیں گے ۔حالات اور احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے یقینا یہ ایک مثبت سرگرمی ہوگی۔بلاشبہ ایم ایس او پاکستان نے اپنے اس مختصر سے تنظیمی سفر میں بہت زیادہ کامیابیاں اور مقبولیت حاصل کی ہے ،اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ،یقینا کے ذمہ داران اور کارکن کے اخلاص ،ﷲیت اور قربانیوں کا ثمرہ ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 143055 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
15 Jan, 2021 Views: 137

Comments

آپ کی رائے