آفتاب مضطر کے نعتیہ شعری مجموعے القا کی تقریب رونمائی

(shabbir Ibne Adil, Karachi)

تحریر: شبیر ابن عادل
لیجئے ہماری خبر ! کیجے نگاہِ کرم اے کہ شفیع اُمم، اے نبیِ محترم
اے کہ حبیبِ خدا، محتشم و ذی حشم ای کہ شفیعِ اُمم، اے نبیِ محترم

آپؐ ہی مصداق ہیں طہٰ و یٰسین کا، آپؐ ہی لاریب ہیں باخدا ومصفطےٰ
شافعِ روزِ جزا، غایت لوح و قلم اے کہ شفیعِ اُمم، اے نبیِؐ محترم

نطق حسیں آپ کا لہجہ ہے قرآن کا یعنی کلام آپ کا مثلِ کلامِ خدا
تآپؐ کی تقریر ہے حسن وکمالِ کلم اے کہ شفیعِ اُمم، اے نبیِؐ محترم
یہ خوبصورت نعتیہ اشعار اردو کے ہمہ جہت شاعر ڈاکٹر آفتاب مضطر کے نئے نعتیہ شعری مجموعے ' القاءٍ ' میں شامل ہیں۔ جس سے آفتاب مضطر کی شاعری کی خوبصورتی، اعلیٰ معیار اور نبی کریمﷺ سے عشق کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حال ہی میں کراچی میں فاران کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام کلب کی مولانا محمد علی جوہر لائبریری میں ہوئی۔ تقریب میں ممتاز علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس مجموعے میں تقریبا پونے تین سو نعتیں شاعری کی مختلف اصناف کی صورت میں شامل ہیں۔
آفتاب مضطر کی رائے ہے کہ اکیسویں صدی کے عصری تقاضے کے مطابق اب نعتیہ ادب میں بھی ضرورت ہے کہ نئے نئے عروضی و موسیقیانہ پیمانے وضع کئے جائیں اور پیوست اور کلیشے کو مرطوب جدت اور جدید حسیت سے جوڑا جائے ۔ طرزِ کہن پر اَڑنے کے بجائے آئینِ نو کی فضا میں اُڑنے کی فضا پیدا کرنے اور مشرقی شعریات میں جدید حسیات کا میدان ہموار کرنے کا وقت آن پہنچا ہے، ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
معروف اور نامور شاعر پروفیسرعنایت علی خان نے جو تقریب کی صدارت کررہے تھے، اس موقع پر حاضرین کے اصرار پر اپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔ ؏
کسی غم گُسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا، اسے میں نے دل سے بھلا دیا

تیرا نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اُسے کھودیا تو زمانے بھر نے ہمیں اُس سے گرادیا

میرا رہنماؐ، تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا
کہ زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا

کبھی اے عنایتِ کم نظر تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی
جو تبسمِ رخِ زیست تھا، اُسے تیرے غم نے رُلا دیا
تقریب سے کتاب کے مصنف کے علاوہ یارک شاعر ادبی فورم کے اشتیاق میر، فاران کلب انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری ندیم اقبال اور دیگر نے خطاب کیا۔
وہ شام شاعری اور عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی تھی، جس کا تاثر اب تک بہت سے شرکاء کے دل ودماغ کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں اور میری دعا ہے کہ عشق رسول ﷺ کا تاثر قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں پر قائم رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 87 Articles with 17704 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jan, 2021 Views: 166

Comments

آپ کی رائے