مشتاق در بھنگوی کی شاعری پر ایک نظر

(Mushtaque Darbhangwi, India)

 مشتاق در بھنگوی کی شاعری پر ایک نظر
تحریر: رومانہ رومیؔ

غزل اُردو شاعری کی سب سے جاندار اور سخت جان صنف ثابت ہوئی ہے۔ اس میں تہذیب و شائستگی کے جو رویے نظر آتے ہیں وہ اُردو شاعری کی کسی اور صنف میں موجود نہیں۔ غزل ہمیشہ سے نہ صرف لکھنے والوں بلکہ اُردو ادب سے لگاؤ رکھنے والوں میں بھی مقبول اور کامیاب رہی ہے۔ غزل اُردو شاعری کی صرف ایک صنف ہی نہیں بلکہ ایک مزاج بھی بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو شاعری کے قارئین کو جتنی آسودگی غزل پڑھ کر ہوتی ہے اتنی اُردو شاعری کی کسی اور صنف کو پڑھ کر نہیں ہوتی۔ غزل اُن اصنافِ سخن میں سے ہے جن کی ہیئت میں تبدیلی یا تجربے کی کوئی گنجائش نہیں۔ غزل میں جو تجربے ہوئے یا ہو سکتے ہیں وہ صرف ان کے موضوع، زبان، اسلوب، موسیقی، فضا اور لہجے سے ہی ممکن ہیں اور اسی لیے میر تقی میرؔ سے لے کر حالیؔاوراقبالؔ جیسے بڑے بڑے شاعروں نے اس میں رومانیت کے ساتھ ساتھ انقلابات جیسے موضوعات کو بھی قلم بند کیا ہے۔

زمانے کے بدلتے ہوئے تیور اور معاشرے کے تبدیل ہوتے ہوئے مزاج نہ صرف تہذیبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ زبان و لہجے، نشست و برخاست سے لے کر ہماری سوچ میں بھی کئی طرح کی تبدیلی کی وجہ بنتے ہیں۔ اور اسی تبدیلی کو شعور ی یا لاشعوری طور پر اپنے اندر جذب کر کے اظہار کی بھرپور قوت کے ساتھ نئے لب و لہجے میں شاعری کرنے والوں میں ایک منفرد نام محترم جناب مشتاق در بھنگوی صاحب کا بھی ہے۔ اُن کی شاعری کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک حساس دل کے مالک ہیں اسی لیے اُن کی نوکِ قلم ہمیشہ درد میں ڈوبی ہوئی پائی جاتی ہے اور اُن سے نکلنے والے الفاظ کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اُن کے چند کاٹ دار اشعار ہمارے سامنے ہیں:
اُس حکومت سے اُمیدِ انصاف کیا
ظلم پر جس کی بنیاد ڈالی گئی
امن واماں کے نام پر لائی گئی جو فوج
خائف ہیں اُس سے اور بھی میرے یہاں کے لوگ
آپ نے خونیں مناظر کے سنے ہیں قصّے
میری آنکھوں نے تو دیکھا ہے لہو کا دریا

لفظوں کے یہ نشتر چلانا، ظلم کے خلاف آواز اُٹھانا اور معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کو قلم بند کرناایک جرأت مند اور حساس احساسات رکھنے والے قلم کار کا ہی وطیرہ ہو سکتا ہے وہ بھی خاص طور پر غزل کی صنف میں جو کہ ایک نہایت مشکل کام ہے کیوں کہ غزل کو پڑھنے والے غزل کو زیادہ تر عشقیہ انداز میں ہی پسند کرتے ہیں مگر اِب تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں غزل تفریحِ طبع سے نکل کر آگے بڑھ چکی ہے اور لوگ اب کھلی آنکھوں سے زندگی کی سچائیوں کو دیکھنا، سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں:
گھر کے بٹوارے کا جھگڑا بھی عجب جھگڑا ہے
میرا بھائی بھی سمجھتا نہیں بھائی مجھ کو
حاصل سکون شہر کے محلوں میں ہے کسے
دِل کا سکوں تو گاؤں کی مٹی کے گھر میں ہے
کسی کم ظرف سے احسان کی اُمید مت رکھنا
کبھی میں دِل کو سمجھاؤں کبھی دِل مجھ کو سمجھائے
میرؔ سے اُن کو کچھ خاص نسبت ہے …… ذرا دیکھیں:
چھیڑا جو کبھی سازِ سخن ، بزمِ سخن میں
تو داد کے حقدار ہوئے میرؔ بھی ہم بھی

انسان ہونے کے ناطے آج کے دور کا کوئی بھی شاعر ایسا نہیں جو اس بدلتی دنیا میں مذہبی، سیاسی اور تہذیبی حوالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو …… کہیں طبقاتی تفریق، تو کہیں سیاست کی اُٹھا پٹخ، کہیں رشتوں میں زہر گھل گیا ہے، تو کہیں غم روز گار نے اپنوں سے اپنوں کو بیگانہ کر دیا ہے۔ اس افراتفری کے دور میں جہاں ہر شخص کسی نہ کسی ذہنی اذیت کے ساتھ زندہ ہے وہاں ایک حساس سوچ رکھنے والے اُس قلم کار کے بارے میں اندازہ کریں جو اپنی ذات کے دکھ کے ساتھ ساتھ سارے عالم کا درد اور پوری قوم کے دکھ کے ساتھ دوہر ی اذیت کا شکار ہے اور اس کے باوجود وہ تخلیق کا عمل جاری رکھتا ہے اور ان اذیت بھرے لمحات کو قلم بند کرنے پر کیسے درد سے بھرتا ہوگا کہ دِل کی بات ،جذبات،احساسات کو صفحۂ قرطاس پر غزل کی صورت لانا شاعر کے لیے جوئے شیر لانے سے بھی کٹھن اور دقت طلب کام ہے ۔ایسے میں دِل ِشاعر پر ایسے ایسے کرب آمیز لمحات گزرتے ہیں کہ وہ کئی بار مرتا ہے اور کئی بار جیتا ہے :
قتل گاہیں جو یہ آباد نظر آتی ہیں
تیری خوں ریز سیاست کا اثر لگتا ہے
حکمراں آج جہاں میں جو بنے بیٹھے ہیں
میرے اسلاف سے سیکھا ہے حکومت کرنا

جناب مشتاقؔ در بھنگوی صاحب کی شاعری میں یہ درد، یہ کسک، یہ انداز اور یہ تیور اُن کے جذبات اور احساسات کی مکمل اور بھرپور ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک بیدار ذہن، درد مندانہ دل اور جرأت مندانہ حوصلہ رکھتے ہیں۔ اُن کے اس حوصلے کی داد نہ دینا زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے خالق ہی نہیں بلکہ کئی کتابوں کو مرتب کرنے میں ہر وقت مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ حال ہی میں اُن کا ایک بڑا کام ’’گوش بر آواز‘‘ کے نام سے عالمی ادب میں آکر خود کو منوا چکا ہے۔ اگر غور کریں تو ایسے بڑے بڑے کام اور ایسی جرأت مندانہ شاعری صرف ایک مرد مجاہد کے ہی بس کا کام ہے اور میں اس مرد ِ مجاہد کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ اسی طرح اُردو شاعری کے ساتھ ساتھ اُردو شعراء کے لیے بھی متحرک اور فعال رہیں …… آمین ………………………… ٭٭٭
برائے اشاعت
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mushtaque Darbhangwi

Read More Articles by Mushtaque Darbhangwi: 5 Articles with 3777 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jan, 2021 Views: 204

Comments

آپ کی رائے