|
|
اکثر گھروں میں بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح پالنے کا رواج ہے ،،،کہنے کو اس میں
کوئی مضائقہ تو نہیں لیکن پھر اس کے نتائج بھی کچھ اتنے تسلی بخش
نہیں۔۔۔بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح پالنا کوئی فخر نہیں بلکہ ان کے حلیے کو نا
بدل کر بھی ان میں وہی خود اعتمادی اور وہی حوصلہ پیدا کیا جاسکتا ہے جو
انہیں معاشرے میں ممتاز رکھے۔ کچھ شوبز خواتین کو دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ
انہوں نے لڑکوں کی طرح دکھنے کا سوچ لیا ہے۔۔۔ |
|
ہما خواجہ |
ہما خواجہ پاکستانی گلوکارہ ہیں اور کافی عرصہ سے دبئی میں ہی مقیم
ہیں۔۔۔ہما ایک ائیر ہوسٹس بھی ہیں اسلئے وہ زیادہ تر دبئی میں ہی رہتی
ہیں۔۔۔حال ہی میں ان کے والد کا بھی انتقال ہوا ہے جس نے ہما کو اندر سے
بہت کمزور کر دیا ہے۔۔ہما کو سالوں سے چھوٹے بالوں کے ساتھ مردانہ اطوار
میں ہی دیکھا گیا ہے۔۔۔حالانکہ ان کی آواز بہت اچھی ہے لیکن انہوں نے کبھی
بھی لڑکیوں کی طرح خود کو نا دکھایا اور نا ہی انہیں اس میں کچھ خاص مزہ
آتا ہے۔۔۔ہما خواجہ کی شادی بھی نہیں ہوئی اور انہیں اس کا کوئی شوق بھی
نہیں۔۔۔وہ زیادہ تر اپنے دوستوں اور اپنی فیملی کے ساتھ ہی خوش رہتی
ہیں۔۔۔ان کی دو اور بھی بہنیں ہیں اور ایک بھائی۔۔۔گھر میں والد نے ہمیشہ
بیٹیوں کو بہت اہمیت دی اور ہما بھی ایک بہترین بیٹی ثابت ہوئیں- |
|
|
ہما نواب |
ہما نواب نے تو ایک انٹرویو میں یہ صاف کہہ دیا کہ انہیں
شادی کرنے کا دل ہی نہیں چاہتا۔۔۔وہ بچوں کو بھی کچھ دیر تک تو پیار کر
سکتی ہیں لیکن پھر انہیں برداشت نہیں ہوتا بچوں کا رونا دھونا، یا ان کی
ضدیں۔۔۔ہما نواب کی ظاہری حالت بھی مردانہ ہے اور ڈراموں میں وہ چاہے کتنا
ہی مشرقی کردار کریں لیکن وہ آتی وہی اپنے چھوٹے بالوں کے ساتھ ہیں اور
انہیں اپنا یہ حلیہ کافی پسند ہے۔۔۔ایک عرصہ تک ہما سے پوچھا گیا ان کی
شادی کے حوالے سے لیکن انہوں نے کبھی اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں
کی۔۔۔ہما کا کہنا ہے کہ مجھے یاد بھی نہیں رہا کیونکہ میں اپنے کام میں
جنونی ہو چکی تھی۔۔ |
|