|
|
مامتا ایک ایسا جذبہ ہے جو دنیا میں کسی بھی نام سے ہو لیکن اس کے احساسات
اپنی اولاد کے لئے ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔یہ وہ قیمتی اثاثہ ہے جو اپنی
اولاد کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کو تیار رہتی ہے اور بدلے میں سوائے
محبت کی ایک نظر کے اور کچھ نہیں مانگتی۔۔۔لالی ووڈ میں کام کرنے والی اکثر
مائیں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کی اس مشکل دنیا کو بھی سنبھالتی
رہیں۔۔۔اور کچھ ایسی بھی ہیں جن کے بچے بھی اسی فیلڈ میں آئے۔۔۔ |
|
نیلو اور شان شاہد |
حال ہی پاکستان کی لیجنڈ اداکارہ نیلو شاہد نے زندگی کی آخری سانسیں لیں
اور فلم انڈسٹری میں سب ہی افسردہ تھے۔۔۔نیلو پاکستان کی ان اداکاراؤں میں
سے تھیں جنہوں نے نا صرف خود عزت اور وقار کے ساتھ کام کیا بلکہ اپنے بیٹے
کو جب انڈسٹری میں لائیں تو اس کے اندر بھی ملک و قوم سے ایمانداری کا جذبہ
کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔۔۔یہ سفر آسان نہیں تھا کہ بچوں کے ساتھ فلم کی
زندگی کو سنبھالا جائے لیکن شاید انہوں نے یہ کام اس لئے بھی اور محنت سے
کیا کہ ان پر یہ الزام نا آئے کہ کیونکہ ماں فلم انڈسٹری سے تھی اس لئے بچے
کی تربیت اچھی نہیں کی۔۔۔انہوں نے اور ان کے شوہر ریاض شاہد نے یہ فریضہ
بخوبی انجام دیا۔۔۔ |
|
|
نشو اور صاحبہ |
پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک اور نام نشو بیگم ہے جنہوں
نے نوجوانی میں بھی بہترین کام کیا اور بعد میں لالی ووڈ کی ماں کی گدی بھی
سنبھالی۔۔۔اپنی چھوٹی سی بیٹی کو فلم انڈسٹری میں لے تو آئیں لیکن اپنی
نگاہوں کے حصار میں ہی رکھا۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی بھی ان کی تربیت
پر انگلی اٹھائے۔۔صاحبہ کو کبھی بھی نازیبا لباس پہننے کی اجازت نہیں ملی
بلکہ اگر شوٹ پر پہنچ کر بھی کپڑے سمجھ میں نا آئیں تو وہ بہت شور مچاتیں
اور کپڑے پھر ان کی مرضی کے منگوائے جاتے جو ڈھکے ہوئے ہوں۔۔۔پھر ریمبو سے
شادی کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے طور پر کافی تحقیق بھی کی اور ریمبو کو
پرکھا بھی۔۔۔کیونکہ لالی ووڈ میں ہونے کے باوجود ان کی بیٹی میں ہیروئنز
والی سمجھ نہیں تھی۔۔۔ |
|
|
افشاں قریشی اور فیصل
قریشی |
نوجوانی سے ہی فلم انڈسٹری میں اپنا ایک مقام بنانے والی
افشاں قریشی نے زندگی کے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے۔۔۔شوہر کی بیماری، چھوٹے سے
بیٹے کی پرورش، مالی وسائل کے لئے محنت۔۔۔اس وقت ان کی والدہ کا بہت ساتھ
رہا۔۔۔لیکن وہ اپنے بیٹے فیصل قریشی کو ہر طرح سے مضبوط اور قابل بنانا
چاہتی تھیں۔۔۔اکثر اسے پی ٹی وی یا تھیٹر میں ساتھ لے جاتیں۔۔۔ٹڑیننگ کا
ایک حصہ یہ بھی تھا کہ فیصل قریشی ہر طرح کے نام سے ملے اور اداکاری کے ہنر
کو سمجھے۔۔۔بچپن سے ہی انہوں نے بھی اپنے بیٹے میں یہ جراثیم دیکھ لئے تھے
اور انہوں نے کبھی بھی فیصل قریشی کو کسی معاملے میں روکا نہیں بلکہ حوصلہ
اور ہمت دی۔۔۔افشاں قریشی اب بھی ڈرامہ انڈسٹری میں ماں کا کردار نبھاتی
ہیں اور بیٹے بھی کسی سے کم نہیں |
|