جدید ٹیکنالوجی جدید سامری کا بچھڑا

(سید جہانزیب عابدی, KARACHI)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَـٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ ۔فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَـٰذَا إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ ہم پر قوم کے زیورات کا بوجھ لاد دیا گیا تھا تو ہم نے اسے آگ میں ڈال دیا اور اس طرح سامری نے بھی اپے زیورات کو ڈال دیا۔ پھر سامری نے ان کے لئے ایک مجسمہ گائے کے بچے کا نکالا جس میں آواز بھی تھی اور کہا کہ یہی تمہارا اور موسٰی کا خدا ہے جس سے موسٰی غافل ہوکر اسے طور پر ڈھونڈنے چلے گئے ہیں
(سورہ طٰحٰہ - 87, 88)
آیت کی تشریح:
سامری نے بنی اسرائیل کے زیورات کو پگھلا کر موسیٰ ع کے قدموں کی خاک ان پر ڈال کر گائے کا روبوٹ تیار کیا تھا۔
٭قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے زر و جواہر جو مغربیوں نے کالونیل دور میں لوٹ مار کرکے حاصل کیے اور اسلامی علم و دانش کے انضمام سے ہی آج مغربی سامریوں نے خدا ، دین خدا، اور حجت خدا کے مقابل نت نئی ٹیکنالوجیز خلق کرکے انسان کی اکثریت کو گمراہ کیا ہوا ہے۔
٭عصر دوراں کی ٹیکنالوجی کی مثال اسی سامری کے گوسالہ کی طرح ہے جس کے پیچھے بڑے سے بڑے دانشور اندھے بن چکے ہیں۔ اور اس ٹیکنالوجی کو خدا کا درجہ دے دیا ہے اور بزعم خود کہتے ہیں کہ حجت خدا حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواح لنا فدا کا خدا بھی یہی ہے اور جدید دور کے تقاضے کے تحت امام ع بھی اس ٹیکنالوجی کے محتاج ہیں۔
٭ دنیا میں عدم عدالت اور عالمی وسائل پر غیر منصفانہ حاکمیت کے باعث صرف چند کروڑ کی آبادی ہے جو نت نئے جدید وسائل سے بہرہ مند ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف اربوں انسانی کثرت اس ترقی اور ٹیکنالوجی سے دور ہے۔ ان کے پاس صاف پینے کا اپنی تک میسر نہیں اور دوسری طرف سامریوں کے پاس دولت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اس میں نہ تو سامریوں کی ذہانت کا دخل ہے نہ ہی تیسری دنیا کے مظلوم کاہل اور سست ہیں۔ بلکہ اس کی وجہ مظلوموں کی غفلت، مستیاں، عیاشیوں کے نتیجے میں سامریوں کی دھوکہ بازیاں، فریب، بغض و حسد پوشیدہ ہے۔
٭امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بحکم خدا غیبت کے دوران نفس پرست انسانوں نے الہٰی علوم اور دانشِ معصومین علیہم السلام کی خاک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علم و دانش کے ذریعے انسانی عقیدے کا استحصال کیا اور نہ صرف مادّی وسائل کو اپنے زیر نگیں کیا ہوا ہے بلکہ علم دانش و ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی روح اور نفسیات کو بھی ہائی جیک کیا ہوا ہے ۔
٭ البتہ مسلمانوں اور دیگر مظلوموں اور کمزروں کو اپنی عوام کی فلاح اور مغربی سامریوں کے مقابلے کیلئے دفاعی میدان میں جدید ٹیکنالوجی کا حصول کرنا ہے جس سے اپنے قدرتی اور مالی وسائل کی حفاظت کی جاسکے اور اپنے زیر نگین اقوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کا بندوبست بھی رکھنا ہے۔
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ۔ (اے مسلمانو!) تم جس قدر استطاعت رکھتے ہو ان (کفار) کے لئے قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔ تاکہ تم اس (جنگی تیاری) سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن کو اور ان کھلے دشمنوں کے علاوہ دوسرے لوگوں (منافقوں) کو خوفزدہ کر سکو۔ جن کو تم نہیں جانتے البتہ اللہ ان کو جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کروگے تمہیں اس کا پورا پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کسی طرح ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورہ انفال - 60)
بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
خدا کسی قوم کو دی ہوئی نعمت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے تئیں تغیر نہ پیدا کردیں کہ خدا سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے۔ (سورہ انفال - 53)
سائنسی ایجادوں سے دنیا کے کتنے افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں؟!
خود ایجاد کے فائدے مند ہونے پر اشکال نہیں ہے۔۔۔۔
مگر دنیا کی 80 فیصد آبادی جہاں پینے کا صاف پانی انسان کو میسر نہیں۔۔۔۔ وہاں تعلیم، تفریح، ہسپتال، وغیرہ کو کون پوچھے گا۔۔۔۔۔
سائنسی ایجاد تو فائدہ مند ہیں ہی مگر اس سے منافع صرف سرمایہ دار اٹھا رہاہے یا ان کے دفتری ملازمین۔۔۔۔ مزدور کے مسائل تو خیر ابھی بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔۔۔۔۔
انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے یہ حقوق کے چیمپئین ہی ہیں جو سرمایہ داری کی بھینٹ چڑھے سادہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔۔۔ دوسری طرف اسی سرمایہ دار کے ایجنٹ سائنسدان بھاری معاوضوں کے بدلے سائنس و ٹیکنالوجی کی جادوگریاں دکھا رہا ہے۔ مگر دنیا کی 80 فیصد عوام کو نہ خلائی مشن سے کچھ لینا دینا ہے نہ اونچی عمارتوں، نئے ماڈل کی گاڑیوں، موبائل کے نئے نئے ماڈلز، نہ نئی نئی ایجادات سے۔۔۔۔۔ انسانیت کے نعرے لگانے والے جھوٹے دعوے واضح ہوتے جارہے ہیں۔ ان 80 فیصد دنیا کی آبادی کو روٹی کپڑا مکان تفریح صحت اور سب سے زیادہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر عالمی معاشی ادارے کبھی نہیں چاہتے کہ کوئی فرد یا قبیلہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔۔۔۔ سیاسی مداخلتیں، معاشی بدمعاشیاں، قرض کی غلامی، معاشرے میں ناامنی پھیلانا، معاشرے کے آپ جیسے گلٹی کونشس لوگوں کو خریدنا یا فری کا خدمت گار بنانا وغیرہ کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم رکھنا۔۔۔۔ اجارہ داری جائز مقابلہ کے نتیجے میں ہو تو عقل میں آتا ہے مگر جبر دھونس اور زبردستی دھوکہ فریب سے اجارہ داری بنانا صرف ابلیس کا کام ہے۔ خیر ہے! بہت جلد ماضی کے فرعونوں امویوں عباسیوں کی طرح تاریخ سے سبق نہ لینے پر آج بھی وقت اور تاریخ و فطرت کے قوانین سے جیت نہیں سکتے۔۔۔۔ تاریخ نے جس طرح امویوں عباسیوں مغلوں عثمانیوں کو نابود کردیا آج وہی حرکتیں مغرب کررہا ہے۔ جس نے تاریخ نہیں پڑھی اور اگر پڑھی اور یاد نہیں، سبق نہیں لیا تو اسے پھر اس سائنس و ٹیکنالوجی کی بربریت کے زوال کے ساتھ تاریخ اپنا سبق خود یاد کروائے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سید جہانزیب عابدی

Read More Articles by سید جہانزیب عابدی: 44 Articles with 17198 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2021 Views: 264

Comments

آپ کی رائے