اڑن طشتری یا شیطانی چرخہ

(Rizwana aziz, Karachi)

اڑن طشتریوں کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں جو پریوں کی کہانیوں کی طرح ہوتی ہیں انکے بارے میں یہ نظریہ بھی ہے کہ یہ خلائی مخلوق کی سواری ہے اور یہ ہماری دنیا میں گھومنے پھرنے آتی ہیں ۔27 جنوری 2021 بدھ کے روز بھی پی آئی اے پائلٹس کو نامعلوم چیز کراچی کی فضائی حدود میں نظر آئ جہاز اسوقت 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا اسکی انہوں نے ویڈیو بھی بنائی اور اسے اڑن طشتری سے مشابہہ قرار دیا ۔اگر واقعی یہ اڑن طشتری ہے تو یہ دیکھے جانے کا دعوی کوئی پہلی بار منظر عام پر نہیں آیا آیے اسکے متعلق کچھ اور جانتے ہیں ۔

اڑن طشتری کو یو ۔ایف ۔ا و یعنی نا معلوم اڑنے والی چیزیں کہا جاتا ہے ۔یہ جدید معد ن سے تیار کی جاتی ہیں یہ اتنی چمکدار ہوتی ہیں کہ دور سے سفیدچمکدار روشنی کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔یہ بیک وقت اپنا سائز چھوٹا یا بڑا کر سکتی ہیں اسکے اندر سے نیلی ،لال اور نارنجی روشنیاں پھوٹ رہی ہوتی ہیں انکی رفتار اسقدر تیز ہوتی ہے کہ سیکنڈز نہیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں جو رفتار اب تک ریکارڈ کی جا سکی ہے وہ سات سو کلو میٹر فی سیکنڈ یعنی پچیس لاکھ بیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے پھر بھی دنیا والے اسکی اصل رفتار سے لا علم ہیں ۔یہ فضا میں ایک ہی جگہ رکی رہ سکتی ہے چیزوں اور افراد کو دور سے اپنی طرف کھنچ سکتی ہے اگر کوئی اسکے قریب جائے تو اسکے جسم میں شدید خارش شر و ع ہو جاتی ہے آنکھیں جلنے لگتی ہیں اور جسم جھٹکے لینے لگتا ہے کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے بجلی اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسے دیکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان پر وہم ،تخیل ،یا جھوٹ کا الزام لگا کر رد نہیں کیا جا سکتا 1972 میں اڑن طشتریوں کا معا ملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا گیا جہاں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور غور کیا گیا اور ركن ممالک کو ہدایت کی گئی کہ وہ انہیں دریافت کرنے والے آ لے اپنے اپنے علاقوں میں نصب کر کے اڑن طشتریوں کی حرکا ت ریکارڈ کریں را قم نے دو بار انکی حر کا ت ریکارڈ بھی کیں انکے دیکھے جانے کے واقعات جون 1400 ء سے لے کر آج تک متعدد بار ریکارڈ کیے گئے ہیں 1947 سے لے کر 1969 تک ایک رپورٹ کے مطابق 12618 اڑن طشتریاں امریکہ میں دیکھی گئیں ۔

1951 میں ایک اڑن طشتری امریکہ کے ایک فوجی ایئر پورٹ پر اتری حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دن ایئر پورٹ پر تمام تر کار وا یاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر معطل رہیں نہ کوئی فوجی اپنی جگہ سے ہلا نہ کوئی طیارہ اڑا مکمل ایمرجنسی نافذ رہی اور پھر طیارہ غائب ہو گیا ۔

1976 میں پورٹوریکو میں ایک اڑن طشتری نظر آ ی ان کو دیکھنے کیلئے ہا ے وے پر ٹریفک جام ہو گیا گاڑیوں کے انجن خودبخود بند ہو گئے ۔

1952 میں واشنگٹن ڈی سی پر اڑن طشتریاں دیکھی جاتی رہیں ایک ہی رات میں 20 اڑن طشتریاں دیکھے جانے پر حقیقت جاننے جیٹ طیارے اڑے مگر کچھ حاصل نہ ہو سکا طیار ہ جیسے ہی قریب پہنچتا یہ نا قابل یقین حد تک کی رفتار سے دور چلی جاتی ۔

پاکستان میں بھی کئی مقامات ڈ یرا غازی خان ،اٹک ،لاہور اور راولپنڈی میں انہیں دیکھا جا چکا ہے ۔
23 جنوری 2008 جنوبی ھند بھارت میں 5 اڑن طشتریاں دیکھی گئیں جنکی لوگوں نے موبائل فون سے ویڈیوز بھی بنائی ۔اڑن طشتریوں کا راز جاننے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ڈاکٹر جیسون کا کہنا ہے "یہ غیر معروف چیزیں ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بہت طاقتور مقناطیسی میدان بنانے پر قدرت رکھتے ہیں جسکی وجہ سے یہ جہازوں اور طیاروں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ بڑے بڑے جہازوں کا بغیر کسی وجہ کے غائب ہو جانا ،جہازوں اور مسافروں کا اغوا کیے جانا ،فضا میں اڑتے جہازوں کا دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو جانا اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ غائب طیاروں ،جہازوں اور مسافروں کا کوئی بھی نام و نشان نہ ملنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے اس جدید دور میں جبکہ انسان اسقدر فہم رکھتا ہے کہ وہ سمندر کی گہرائی میں موجود ابی حیوانات تک پی تحقیق کر لیتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بڑے بڑے جہازوں کا ملبہ کہیں نہیں ڈھونڈ پاۓ ۔طیاروں جہازوں کا انکے ھیڈ کواٹر سے اچانک رابطے منقطع ہو جانا گویا ریڈیو سگنلز کسی نے جام کر دیے ہوں تو کیا یہ سب جہاز ،طیارے اور مسافر اڑن طشتریوں کے پیٹ میں ہیں جن جہازوں طیاروں کے ملبے تک برآمد نہ ہوسکے ۔اڑن طشتریوں کے بارے میں سینکڑوں تحقیقی ٹیمیں بنی مگر حقائق آج تک منظر عام پر نہیں آ سکے اسکے راز سے پرده اٹھانے کے چکر میں لوگ اپنی جانوں سے گئے تو کیا یہ اڑن طشتریاں شیطان کی ملکیت ہیں اور یہ سب شیطانی چرخہ ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwana aziz

Read More Articles by Rizwana aziz: 19 Articles with 5238 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2021 Views: 279

Comments

آپ کی رائے