"میک اپ سے میک اوور تک"‎

(Surat Khan, )

کبھی کسی نے سوچا ہے کہ میک اپ کو اردو کیا کہا جاتا ہے۔کسی اور کو معلوم ہو بھی تو مجھے نہیں معلوم تھا۔اسی لیے تو میں نے میک اپ کی اردو ڈھونڈنے کے لیے اتنی تگ ودو اور تحقیق کی۔اس سلسلے میں کی گئی چھان بین کے مطابق مختلف لوگوں کی مختلف آراء تھی۔ مثلاً:
کسی نے کہا،یہ کیسا بیوقوفانہ سوال ہے۔میک اپ کو میک اپ ہی کہتے ہیں اور کیا؟
کسی نے سرخی پاؤڈر تو کسی نے کجل (کاجل) مسواک کہا،کچھ دانشمند افراد نے افراد نے ہار سنگھار اور بناؤ سنگھار کے معنی بھی بتلاۓ۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو میک اپ انگریزی کے دو الفاظ" میک"جس کے معنی بنانا اور" اپ"جس کے معنی اوپر کے ہیں۔اگر اصطلاح میں بھی اس کے معانی کو ٹٹولا جائے تو تقریباً وہی مطلب نکلتا ہے، مثلاً؛ اللّہ تعالٰی کی طرف سے بنائی گئی اشکال کو مزید بہتر کرنا،سجانا،سنوارنا وغیرہ وغیرہ۔

شروع شروع میں تو میک اپ کا مطلب صرف چہرے کو سجانا سنوارنا تھا۔جس کے سب سے اہم اار سرخی، پاؤڈر،کاجل،مسواک ہی تھے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ میک اپ سے میک اوور ہو گیا۔اب تو اس کے شعبوں میں فیشل،فیس پالش،تھرائیڈنگ،اپر لپ،باڈی ویکس،مینی کیور،پیڈی کیور وغیرہ وغیرہ۔ابھی اس کے علاوہ بالوں اور ناخنوں کی انڈسٹریز علیحدہ ہیں۔اور اس کام میں استعمال ہونے والے اوزار تو لا محدود ہیں۔سب سے اچھی بات یہ ہے کہ میک اپ ایک ایسا بزنس ہے جس کے ایکسپرٹ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔اس شعبے میں کاری گری میں خواتین وحضرات کا برابر کا حصہ ہے۔اور میک اپ کروانے کا شوق تو ہمارے اس قدر زیادہ ہے کہ"اف" کی بجائے منہ سے"اووووووووووووووف" برآمد ہو تا ہے۔ہمارے ملک میں میک اپ کے شائقین ایسے بھی ہیں جن کے گھر کھانے کو کچھ ملے نہ ملے،مگر ان کی خواتین کے پرس سے بھرے ضرور ملتے ہیں۔

کہتے ہیں پرانے زمانے میں لوگ اپنے سامان میں تلوار اور خشک گوشت ضرور رکھتے تھے۔جس طرح آج کل کی خواتین سرخی جسے جدید الفاظ میں کہ لپ اسٹک کہا جاتا اور آئینہ اپنے پرس میں ضرور رکھتی ہیں۔ابھی حالیہ دنوں کی بات ہے،میں بس میں سفر کر رہی تھی کہ کہ ایک عورت کو قے آگئی،اس کے شوہر بیچارے اتنی جدوجہد کے بعد محترمہ کے اندر سے برآمد ہونے والے مواد کو شاپروں کے ذریعے ٹھکانے لگایا۔تھوڑی دیر بعد جب اس پر میری نظر پڑی تو وہ طرارے بھر بھر کے لپ اسٹک لگا رہی تھی۔
میں اس کی طرف دیکھ کر مسکراؤں اور وہ میری طرف غصے سے گھورے،جیسے اپنے حسن کے تواتر میں ممکن ہوئی کمی بیشی پر پشیمان ہو۔

ہےنہ مزے کی بات کہ خواتین کے میک اپ زدہ چہرے کو غور سے دیکھ لیا جائے یا پھر اس کے بارے میں کوئی سوال کرلیا جائے تو انھیں اپنے میک اپ کی شان میں گستاخی لگتی ہے اور وہ آگ بگولہ ہو جاتی ہیں۔یقین نہ آئے تو آزما کر دیکھ لیں۔ مثلاً آپ کسی بھی خاتون سے کہ دیں،یہ لپ اسٹک ( سرخی) آپ کو سوٹ نہیں کر رہی ( اچھی نہیں لگ رہی )،خواہ آپ سچے بھی ہوں۔ فوراً سے پہلے تراڑ براڑ جواب ملیں گے۔

کوئی کہے گی،ہونہہ!" تم بڑے آئے مسرت مصباح کے شاگرد"۔کوئی جواب دے گی:" بندر کیا جانے ادرک کا سواد"۔یاپھر کہے گی، لاحول ولاقوۃ،" گدھا کیا جانے گلقند کیا چیز ہے"وغیرہ وغیرہ۔کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی۔ایک دن علی الصبح میرے ساتھ پڑھانے والی ایک خاتون اپنے ناخنوں پر لہسن رگڑ رہی تھی۔میں نے اس سے صرف یہ پوچھ لیا کہ اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ وہ فوراً سے غصہ کر گئی اور بولی،تم خود تو کچھ کرتی نہیں ہو۔تمہیں کیا پتا لوگ یہاں کیا کیا کچھ کرتے ہیں۔میں نے انجانے میں بیچاری پر ایک اور سوال داغ دیا۔" تو لوگ کیا کیا کچھ کرتے ہیں؟

وہ تو پھٹ ہی پڑی،پھرچٹخ چٹخ کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔صرف اتنی سی بات پر میں جتنا عرصہ وہاں رہی اس نے مجھ سے اچھے طریقے سے بات چیت نہیں کی۔اس کے علاوہ بھی میں آپ کو خواتین کے میک اپ کے ساتھ وابستہ والہانہ شوق کے بارے میں ایک اور بات بتاتی چلوں۔ایک دفعہ ہم ٹیچر ٹریننگ کے سلسلے میں گئے،وہاں پر ہمیں ٹرین کرنے والے (پڑھانے والے) صاحب نے ایک سب سے ایک سوال کیا کہ اگر آپ کو آلہ دین کا چراغ مل جائے اور اس میں سے برآمد ہونے والا جن آپ کی کوئی ایک خواہش پوری کرنے کا کہے تو وہ خواہش کونسی ہوگی؟

پتا ہے سب سے پہلے ہاتھ بلند کرنے والی لڑکی نے کیا جواب دیا۔" میں اس سے کہوں گی کہ وہ میرے لیے شہر کی بڑی بڑی دکانوں سے میک اپ کی تمام اچھی اچھی پروڈکٹس (اشیاء)چرا لائے"۔" ہے نہ مزے کی بات" ۔کیونکہ یہ کام تو کوئی بندہ بھی با آسانی انجام دے سکتا ہے اس کے لیے جن کی کیا ضرورت۔

خیر میرے خیال سے تو یہ مزے کے ساتھ ساتھ فکر کی بھی بات ہے کہ میک اپ ہماری زندگیوں میں اس قدرمخل ہو چکا ہے کہ غیر ضروری ہوتے ہوئے بھی ضروری ہو گیا ہے۔یہ شوق معصومانہ ہو یا والہانہ،ہمیں فائدہ دے یا نقصان،اچھا لگنے کی خواہش کے ہم غلام ضرور بن چکے ہیں۔یہ خواہش اس قدر شدت سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں سائنسدان زندگی کے لیے ہوا،پانی،روشنی کے ساتھ ساتھ چوتھی چیز میک اپ کو قرار دے دیں۔
ایس_ کے_ نیازی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Surat Khan

Read More Articles by Surat Khan: 10 Articles with 2749 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2021 Views: 234

Comments

آپ کی رائے