’’حمد ‘‘ اور شوکت محمود شوکت ؔ کی حمدیہ شاعری

(Shahzad Hussain Bhatti, Attock)

اظہر محمود تنہا ؔ
استاذ شعبہ اُردو
ہر خوبی اور کمال جس کا اظہار کوئی اختیار اور ارادہ سے کر ے۔ اس تعریف اور ستائش و ثنا کو ’’حمد ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اصطلاح میں ’’حمد ‘‘ کا لفظ ایسے کلام پر صادق آتا ہے جس میں اﷲ تعالیٰ ، خالق ِکون ومکاں کی ذات و صفات اور قدرتوں کا اظہار و اقرار اور تحسین و توصیف کی گئی ہو۔
 
کہا جاتا ہے کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ادب کہیں خلا میں تخلیق نہیں ہوتا۔ اسی طرح ادب، دینی یا لادینی اور اسلامی و غیر اسلامی کی تفریق سے بھی بالا تر ہوتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعر یا ادیب کا کوئی نہ کوئی مذہب اور مشرب ضرورہوتا ہے۔ بہ حیثیتِ مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ دینِ اسلام انسانی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس لیے زندگی کی مثبت اور دائمی اقدار کے فروغ کا متمنی ہے۔ تخلیق کار کوئی بھی ہو،ہمیشہ سچائی اور مثبت سوچ کا علم بردار ہی ہوتا ہے، اور اگر لکھنے والا مسلمان ہوتو وہ کیوں کر اپنے دین کی دائمی تعلیمات سے صرفِ نظر کر سکتا ہے ۔ سچا اور کھراادب جمالیاتی پہلوؤں ،فنی تقاضوں اور معیاری اسلوب ہی سے اپنی قدرو قیمت منواتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مندرجات میں  زبان بیان کی فصاحت ، بلندی خیالی اور دیگر صوتی و معنوی خصائص نے اس کی شعریت اس درجہ بڑھا دی ہے کہ پڑھنے اور سننے والے دونوں اس کی تاثیر میں کھوسے جاتے ہیں ۔
 
ادب و شعر کی تاریخ پر بہ غو رنگاہ دوڑائی جائے تو ایسا شاذ ہی نظر آتا ہے کہ ’’حمد ‘‘ کو باقاعدہ ایک صنف کے طورپر اختیار کیا گیا ہے ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ دکنی عہدِ ادب کی شعری تخلیقات ،بالخصوص صنفِ مثنوی کی ترتیب و تقسیم میں باقاعدہ آغاز حمدیہ اشعار ہی میں ملتا ہے اور یہی سلیقہ کم و بیش شمالی ہند کے شعرا کے دواوین کے اندر بھی نظر آتا ہے ۔ ۱۸۵۷؁ء کے انقلاب کے بعد سیاسی ، سماجی اور اقتصادی صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی و قوع پذیر ہوئی ۔ادبی سطح پر جدت اور بدلاؤ آیا اور چند اصنافِ ادب بے رواج ہوگئیں ،مگربیسویں صدی تک کم بیش اُردو کے ہر شاعر نے اپنی توفیق اور خوش بختی کے مطابق حمدِ باری تعالیٰ میں گل افشانی کی ہے اور آج تک کے شائع ہونے والے شعرا کے مجموعوں میں ایک دو حمودضرور شامل نظر آتی ہیں جب کہ بیسویں صدی میں بھی چند گنتی کے شعراہی ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے باقاعدہ ایک صنف کے طورپر حمدیہ شاعری کو اختیار کیا اور ’’حمد ‘‘ کے مجموعہ ہائے کلام قارئینِ ادب کو پیش کیے۔ اکیسویں صدی کے ادبی منظر نامے پر ابھرنے والا غالباً واحد شاعر شوکت محمود شوکت ؔہے۔ جس کا حمدیہ شعری مجموعہ ’’اﷲ اکبر‘‘دیوناگری رسم الخط میں پٹنا سٹی (انڈیا) اور اُردو رسم الخط میں اسلام آباد ، پاکستان سے منصہ شہود پر آیا ہے اور قارئینِ ادب سے برابر داد و تحسین سمیٹ رہا ہے۔
شوکت ـ ؔ کا تعلق ایک نہایت پس ماندہ قصبے سے ہے جہاں کی بیشتر آبادی پشتو زبان بولنے والی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ لوگ زیادہ شوق سے افواج پاکستان میں شامل ہوتے ہیں ۔ دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں ادبی افق پر دمکتا ستار ا،واحد شاعر شوکت محمود شوکتؔ ہے جو ادیب ، محقق و مدوّن ، ماہر تعلیم او رانٹر کالج چھب میں بہ طور پرنسپل مامورہے ۔ شوکت ،ؔعلاّمہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پی ۔ ایچ ۔ڈی کا طالب علم بھی ہے ۔ اس سے قبل شوکتؔدوشعری مجموعوں ، ایک نعتیہ مجموعے ، ’’نگارشاتِ ساغری (تحقیق و تدوین )اور اٹک کے نمائندہ شاعر مشتاق عاجز کی شخصیت وفن کی تنقید و تحقیق پر مبنی مضامین پر مشتمل کتاب ’’خراج ‘‘کا مرتب بھی ہے۔
 
’’اﷲ اکبر‘‘ شوکتؔکا حمدیہ شعری مجموعہ ہے جسے بزمِ تخلیق و تحقیق ،ا سلام آباد نے ۲۰۲۰؁ء میں شائع کرنے کی سعادت پائی ہے۔ مجموعہ دیدہ زیب ، رنگین ، پھول دار اوراق میں طباعت آشنا ہوا ہے۔ سبزرنگ کا سرورق کعبۃ اﷲ کی دل کش تصویر اور ’’اﷲ اکبر‘‘کے سر نامہ سے منور ہے اور فلیپ فریدہ انجم (پٹنا سٹی، انڈیا) ،پروفیسر محمد ثقلین ضیغم(اسلام آباد) اور ڈاکٹر محمد ساجد نظامی (مکھڈ شریف )کی توصیفی و تنقیدی آرا سے مزین ہے۔ جب کہ انتساب ’’مخلوقِ خدا کے نام ‘‘ کے عنوان سے ایک قطعہ کی صورت میں تحریر ہے ۔ نیز تنویر پھول( امریکا) نے شوکتؔ کی ا س حمدیہ شاعری کی توصیف شاعر انہ پیرائے میں کرتے ہوئے علم الاعداد کے مطابق تاریخ سنِ عیسو ی بھی نکالی ہے۔ یہ حمدیہ مجموعہ کلام دو بیتیوں کی ہیئت میں مرقوم ہے جن کی تعداد ننانوے ہے۔ چار حمود ،غزل کی ہیئت میں شامل ہیں جب کہ تہلیل ، فاتحہ ، حدیثِ قدسی اور جرمن شاعر گوئٹے کی نعتیہ نظم ، آزاد نظم کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں۔
 
شوکت محمود شوکتؔنے ’’حمد‘‘ کے روایتی انداز اور سادگی و سلاست سے الگ ایک نیا رنگ اور منفرد لہجہ اپنایا ہے۔اسلوبی اعتبار سے بھی شاعری کے فن ،اس کی باریکیوں اور نزاکتوں کا خیال رکھا ہے۔ امید واثق ہے کہ متذکرہ حمدیہ شعری مجموعہ کے تخلیقی ادب پر نہایت مثبت اور دور رس مرتب ہوں گیاور نئے لکھنے والے شعرا میں ایک باقاعدہ صنف کی پذیرائی کے ساتھ ایک تحریک بھی پیدا ہوگی ۔
 
’’اﷲ اکبر ‘‘ کے مطالعے سے جو جمیل وصف قاری کو سب سے پہلے متوجہ اورمستنیر کرتا ہے۔ وہ شوکت ؔکی محبت ہے جس کا مرکز و محور صرف اور صرف محبوبِ حقیقی ، خالقِ کائنات کی پاک ذات ہے جو سارے کمالات کی مالک اور جملہ حسن وجمال کی خالق ہے۔ درحقیقت محبت کی بنیاد ہی کمالات اور حسن و جمال ہوتے ہیں۔ شاعر باربار اس بات کا اقرار اور اظہار کرتا نظر آتا ہے کہ انسان کو سچی ہدایت دینے والا، حقیقی ہمدرد ،اس کے کام بنانے والا ، روزی رساں ، عیب پوشی کرنے والا ، حقیقی شافع، نافع ، حافظ ، علیم و خبیر ، بصیر و سمیع ، غائب ، موجود ، شاہد ، مشہود ، معبود و مسجود جب سب کچھ وہی واحد ، و حید ، وحدہ لاشریک ہے تو انسان اور بندے کو بھی چاہیے کہ بس اُسی سے لو لگائے اور صرف اسے ہی اپنا مشکل کُشا ، حاجت روا ، مالک الملک مان لے اور سرِ تسلیم خم کرلے ۔ شوکت محمود شوکتؔ نے اپنی دوبیتی حمدیہ شاعری میں یہی سب بتانے سمجھانے اور اپنانے کی نہ صرف سعی کی ہے بل کہ قارئین کے لیے بھی ایک دعوتِ فکر چھوڑی ہے۔ شوکتؔ کے یہ اشعار اُسی ذات ِ باری تعالیٰ کا مراقبہ ہیں جو اپنے بندوں کی گستاخیوں پر بے حد تحمل سے کام لیتا ہے اور جس کے احسانات اور نوازشوں کی کوئی حد نہیں ہے ۔
خدائے رحمان ، اس قدر تُو شفیق ٹھہرا
کہ ذکر تیرا دلِ حزیں کا رفیق ٹھہرا
رحیم اتنا کہ عاصیوں کے لیے بھی ، مولا
کریم ٹھہرا ، غفور ٹھہرا ، خلیق ٹھہرا

ڈاکٹرمحمد ساجد نظامی نے اپنے مضمون میں بالکل بجالکھا ہے :
’’ ’’اﷲ اکبر ‘‘ میں شامل حمدیہ کلام عشق الٰہی کے بے انت جذبات سے لبریز ، اخلاص و وفا کی اچھوتی نکہت سے مملو اور حرزِ جاں بنتے ہوئے روحانی تخیلات اور وارداتِ قلبی پر مشتمل ہے ۔۔۔۔۔۔۔کلام کی ندرت اور نغمگی نے ماحول کو بقعٔہ نور بنار کھا ہے جس میں اس کی روح و جد کناں ہے‘‘۔( مشمولہ مجموعہ، ص ۳۳)

شاعر کے اقرار باللسان و تصدیق بالقلب کی سچی ، سُچی اور عملی تصوریر درج ذیل دوبیتی میں نظر آتی ہے۔ جہاں وہ پورے تیقن اور رضا سے اپنے مقصدِ حیات کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔
رہے پیشِ نظر شوکتؔ ، سدا حکمِ خداوندی
اطاعت ہو محمدؐ کی ، شریعت کی ہو پابندی
منم آں شوکتِؔ مفتوں کہ عشقِ تُو دوانہ کرد
بریں نازم ! کہ می دارم رہِ عثمانؔ مروندی

محمد ﷺ کی سچی اتباع اور غلامی اور خالقِ کون ومکاں رب تعالیٰ کی خالص عبادت اور فرماں برداری کی وہی صورت شاعر کے لیے قابلِ قبول ہے جو عثمان مروندی کی تھی ۔ صِراطَ اَلذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم کے مصداق شوکتؔبھی ایسی ہی انعام یافتہ اور مثالی ہستیوں کے نقوشِ قدم کو اپنے لیے مشعلِ راہ خیال کرتا ہے۔ اس حمدیہ مجموعہ میں چھ دوبیتیاں فارسی زبان میں ملتی ہیں جن میں شاعر نے احکامات الٰہی جو قرآن اور احادیثِ نبوی ﷺ میں موجود ہیں، کو منظوم کیا ہے۔
خدائے پاک کافی است ، شوکتؔ پاسبانی را
زِغم ہائے زمانہ می کشیدم شادمانی را

میں سورۃ الزمر کی اس آیت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔اَلَیسَ اﷲ ُبِکَافِِ عَبدَہ وَیُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِینَ مِن دُونِہِ O
ترجمہ:۔ ’’ کیا اﷲ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یہ لوگ آپ کو اﷲ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں ۔‘‘

اسی طرح ایک نمازی جو کچھ تشہد میں پڑھتا اور اقرار کرتا ہے کہ’’ا َلتَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ ‘‘یعنی میری تمام قولی ، فعلی اور مالی عبادات صرف اﷲ کے لیے ہیں، کے مفہوم کو خوب صورتی سے منظوم کیا گیا ہے۔ نیزنماز ، روزہ اور تہجد کے متعلق ارشادِ نبویﷺ کو بھی منظوم کیا ہے۔
اسی پر ناز کرتی ہے بجا ، میری مسلمانی
سزا وارِ عبادت تُو ، وہ مالی ہو کہ جسمانی
٭
دعائے سحر گاہی کھولے یہ راز
کرم کے ترے سلسلے ہیں دراز
جہنم سے روزہ اگر ڈھال ہے
تو کارِ نجس سے بچائے نماز

درحقیقت یہ اﷲ کی محبت اوراس سے ملاقات کی سچی طلب ہی ہے جو ایک بندے کو ایسی سر مستی اور سرشاری عطا کرتی ہے کہ اس کے دل و دماغ سے ہر قسم کا خوف ، ڈر اور اندیشہ ہائے دور دراز تک کا فور ہو جاتے ہیں ۔

شوکت ؔکی یہ فارسی دوبیتیاں زبان کی ادبیت کے ساتھ ساتھ فکری جمالیات سے بھی مملو ہیں ۔ ایک سچے مواحد کا طرزِ زندگی اور ہمہ وقت فکر و خیال کا محور ، اﷲ وحدہ لاشریک کی خوش نودی اور احکامات ہی رہتے ہیں ۔ تو حید الٰہی ہمیشہ تو حید انسانی میں پر تو فگن ہوتی ہے۔ جس پر مکمل ایمان عملی طورپر انسان کو ہر قسم کے خوف اور مایوسی سے آزاد کر دیتا ہے۔ حُب الٰہی کا کچھ ایسا ہی اظہار شوکتؔ نے ایک فارسی دوبیتی کے پہلے شعر میں کیا ہے۔
بجز عشقِ خدا در سینہ و دل نیست می دارم
بجز ایں مشکل خوش رنگ ، مشکل نیست می دارم

ایک سچے عاشقِ الٰہی کی نمایاں پہچان اُس کا فقر اور رجائی نقطہ نظر ہے ۔وہ اﷲ کی رحمت سے قطعی مایوس نہیں ہوتا ۔ شوکت محمود شوکتؔچوں کہ درویش صفت اور فقیر منش انسان ہے اس لیے بالکل ایک معصوم چھوٹے بچے کی طرح نہایت عاجزانہ انداز میں رب ذوالجلال کے حضور اپنا مافی الضمیر بیا ن کر رہا ہے۔
طلب گارِ کرم ہوں بس، خدا سے
کہ میں واقف نہیں حرفِ دعا سے

حمدیہ مجموعہ ’’اﷲ اکبر‘‘ میں دوبیتیوں کی تعداد ننانوے ہے۔ اگر ان کا گہرائی اور توجہ سے فکر ی مطالعہ کیا جائے تو اس امر کا ا نکشاف بھی ہوتا ہے کہ بہ حیثیت مسلمان شوکت ؔ ،قرآنی علوم اور رشدو ہدایت کے جملہ منابع سے واقف اور تعلیمات سے باخبر ہے اور یہ بات اُس کی علمیت اور فہم پر دال ہے کہ اس نے اﷲ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں کو ان اشعار میں پورے سیاق و سباق کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش و کاوش کی ہے۔
 
شوکتؔنے حمد لکھتے ہوئے شعوری طورپر اپنی عاجزی وا نکسار اور عبدیت کا اظہار کیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مالکِ حقیقی رب تعالیٰ کو اپنے بندے کی یہ ادابہت بھاتی ہے۔ عام طورپر شعرا اسی انداز میں ذاتی حالات اور کم مائیگی کامقدمہ پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔شوکتؔنے ذاتی بے کسی کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کی طرف سے اﷲ کے حضور استغاثہ پیش کیا ہے۔
بشر آزاد بھی ، محصور بھی ہے
بشر مختار بھی ، مجبور بھی ہے
٭
جہاں سارا مرا زیر و زبر ہے
جسے دیکھو وہی اب نوحہ گر ہے
مدد تجھ سے طلب کرتے ہیں سارے
فقط تو ہی خدائے بحر و بر ہے

شوکتؔنے اﷲ تعالیٰ کے دیگر بے شمار احسانات کے اذکار و اقرار کے ساتھ ساتھ اس خاص احسانِ عظیم کا کئی بار ذکر کیا ہے کہ اس اﷲ نے اپنے خاکی بندے کو کس قدر عزو شرف اور رفعت سے نوازا کہ اسے اشرف المخلوقات کے جلیل مرتبے پر سرفراز کر دیا۔
بشر کو تُو نے بخشی ہے وہ رفعت
کہ خاکی ہو کے رشکِ نور بھی ہے
٭
تیری صناعی سے انساں ، احسنِ تقویم ہے
ذات تیری ہی خدایا واجب التعظیم ہے

شوکت نے ان دوبیتیوں میں کہیں کہیں داخلی قوافی اور کہیں لفظی تکرار سے شعوری طورپر آہنگ اور روانی پیدا کرنے کی سعی ہے ۔اس التزام سے اشعار کے بہاؤ اور لَے میں دل کشی پیدا ہوگئی ہے۔
تُو کہ ہے بے نیازِ حروف و عدد
تُو صمدٗ ، تُو صمدٗ ، تُو صمدٗ ، تُو صمدٗ
وحدہ ، وحدہ ، وحدہ ، وحدہ
تُو احد ، تُو احد ، تُو احد ، تُو احد

اسی طرح قرآنی آیات کو بھی بڑی مہارت سے اشعار میں بہ طور قوافی استعمال کیا گیا ہے کہ قاری کے منہ سے بے اختیار واہ اورسبحان اﷲ کے الفاظ ادا ہوجاتے ہیں ۔
خرچ ہو راہِ خدا میں ہر متاعِ خوب رُو
حکم ہے جب ’’لَن تَنالُوالبِرَّحتٰی تُنفِقُوا‘‘
ہو گیا مایوس تو ’’ابلیس ‘‘ کہلایا رجیم
ہے سکونِ قلب شوکتؔ ، کلمٔہ ’’ لاَتَقنَطُوا‘‘
فرید ہ انجم ، ’’اﷲ اکبر ‘‘ کے تناظر میں شوکت کی شاعری کے متعلق لکھتی ہیں :

’’حقیقت یہ ہے کہ شوکت صاحب کا کلام بہت زور دار ہوتا ہے ۔ آپ کے لکھنے کا اپنا ایک خاص اور اچھوتا انداز ہے۔ ۔۔۔۔۔۔’’اﷲ اکبر‘‘ ایک ایسے تخلیق کار کے قلم سے وجود میں آنے والی کتاب ہے جو دنیائے اُردو ادب کا گہرا علم ، ادراک، فہم اور شعور رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام ہذا سے بیشتر رموزِ شعری مترشح ہوتے ہیں ‘‘۔( مشمولہ مجموعہ ، ص ۲۳)

بہ حیثیت مجموعی’’اﷲ اکبر ‘‘ کی منظوم شاعری کا انداز، بیانیہ اور براہ راست خطابیہ ہے ۔ پورے کلام میں محب اور محبوب اور حامد و محمود کا ذکر ،سننے اور پڑھنے والوں کے کانوں میں رس گھول رہا ہے۔ دعائیہ رنگ کے سبب کلام کی تاثیر میں اضافہ ہوا ہے اور مدعا کا ابلاغ بھی سہل ہو گیا ہے ۔ بحریں کہیں چھوٹی اور کہیں متوسط ہیں ۔ شوکت محمود شوکتؔکا یہ حمدیہ مجموعہ اپنی منفرد منظومات کے باعث اُردو کے ادبی ذخیرے میں ایک وقیع اور متبرک اضافہ ہے جس کی چمک دمک ان شا اﷲ تادیر قائم رہے گی ۔



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Hussain Bhatti

Read More Articles by Shahzad Hussain Bhatti: 176 Articles with 84215 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2021 Views: 173

Comments

آپ کی رائے