ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کاواحدحل احتیاط ہے۔

(Hakim Ahmad Hussain Itthadi, )

 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد میں خطیراضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ذیابیطس امراض قلب،گردوں اور دماغی واعصابی بیماریوں ،فالج اور نظر کی کمزوری کاباعث بنتی ہے۔ذیابیطس ہونے سے قبل جسمِ انسانی میں ایسی علامات رونما ہوتی ہیں جن پر توجہ کرنے اور احتیاط برتنے سے اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچا جا سکتا ہے یا کم از کم اسے مؤخر کیاجا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں خون میں شوگر کی مقدار نارمل سے زیادہ ہوتی ہے مگر اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اُسے ذیابیطس کہاجا سکے۔ اسے ذیابیطس سے پہلے کی حالت یاPrediabetes کہتے ہیں۔

ذیابیطس سے پہلے کی حالت یا Prediabetes کے اہم اسباب میں چربی کی زیادتی یعنی موٹاپا خاص طور پر پیٹ کی چربی اور سست روی یا ورزش کا فقدان قابلِ ذکر ہیں۔ عام طور پر ذیابیطس ہونے سے پہلے کی علامات 5سال تک برقرار رہیں تو ذیابیطس ٹائپII ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس میں اچھی بات یہ ہے کہ ایسے خواتین و حضرات بروقت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ذیابیطس ٹائپIIکا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

ذیابیطس کا مرض دراصل انسولین کے باقاعدہ عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتاہے۔انسولین ایک ہارمون ہے جومعدہ کے پیچھے واقع عضو لبلبہPancrease میں پیدا ہوتا ہے۔جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمارا لبلبہ خون میں انسولین خارج کرتا ہے۔ انسولین دورانِ خون میں شامل ہو کرشکر یعنی گلوکوز کو خلیات میں داخل کر تا ہے جس سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ مگر جب لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہ کرے یاخلیات میں انسولین کے خلاف ردِ عمل پیدا ہو جائے اور انسولین خلیات کو گلوکوز یعنی شکرمہیا نہ کر ے تو ایسی حالت کو ذیابیطس کہتے ہیں-

ذیابیطس ہونے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ِذیل ہیں - وزن کی زیادتی یا موٹاپا، سست روی یا ورزش کا فقدان، 45سال یا اس سے زائد عمر کے افرادمیں موروثیت یعنی ایسے افراد جن کے خاندان میں ذیابیطس ٹائپIIموروثی طور پر پایا جائے، دورانِ حمل ذیابیطس ہونا یا پیدائش کے وقت بچے کا وزن9پونڈ یا 4.1 کلو گرام سے زیادہ ہو، خواتین میں پولی سسٹک اووری سنڈروم ،جو کہ بے قاعدہ حیض ، غیر ضروری بالوں کی پیدائش کی زیادتی اور موٹاپا کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ایسے عوامل ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ نیند کی کمی انسولین کی مزاحمت (Resistance)کے خطرہ کو بڑھاتی ہے تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ روزانہ رات کو6گھنٹے سے کم نیند ذیابیطس ٹائپIIکے خطرہ کو بڑھا سکتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، اچھی چکنائی یعنی HDLکی سطح میں کمی اور بُری چکنائی LDLیا ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں زیادتی بھی ذیابیطس کا باعث بن سکتے ہیں -

قبل ذیابیطس سے ذیابیطس میں منتقل ہونے کی علامات میں بہت زیادہ اور بار بار پیشاب کا آنا،پیشاب میں جھاگ کا بننا ، بار بار پیاس محسوس کرنا،وزن کم ہوتے جانا، بھوک اور پیاس کا بہت زیادہ لگنا یا بہت کم ہوجانا،نظرکے مسائل ،کھجلی،مزاج میں تبدیلی ، تھکاوٹ یعنی ہر وقت تھکے تھکے محسوس کرنا، زخم ٹھیک نہ ہوناشا مل ہیں۔ایسی صورتحال میں اپنے معالج سے فوری رابطہ کریں۔ بعض شوگرکے مریضوں میں یہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں کیونکہ ابتدائی مراحل میں علامات کم ہی ظاہر ہوتی ہیں۔

امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق خون میں شوگر کی سطح کودرجِ ذیل ٹیسٹوں کی مدد سے لازمی چیک کرنا چاہیے۔HbA1C Test اس ٹیسٹ میں A1Cکی سطح 5.7سے6.4کے درمیان ہو تو قبل ذیابیطس (Prediabetes) اور6.5یا اس سے زیادہ ہو تو ذیابیطس ظاہر کرتی ہے۔HbA1C ٹیسٹ آپ کی گزشتہ تین ماہ کی اوسط شوگر لیول کوظاہرکرتاہے۔Fasting Blood Sugar Test یہ ٹیسٹ خالی پیٹ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں خون میں100ملی گرام فی ڈیسی لیٹر شوگر کی مقدار نارمل ہے اور اگر100تا125ملی گرام ہو تو قبل ذیابیطس اور 126ملی گرام سے زائدہو تو ذیابیطس کی علامت ہے۔ Oral Glucose Tolerance Testیہ ٹیسٹ کھاناکھانے کے دو گھنٹے بعد کیا جاتاہے۔ اگر اس ٹیسٹ کی رپورٹ 140mg/dlہو تو نارمل اوراگر140mg/dlسے 199mg/dlہو تو قبل ذیابیطس اور 200mg/dlسے زائد سطح ذیابیطس کی علامت ہے۔

اگر ذیابیطس سے پہلے یعنیPrediabetes کی علامات پیدا ہوجائیں تو صحت مند طرزِ زندگی خون میں شوگر کی سطح کو واپس طبعی مقدار میں بدل سکتی ہے یا کم از کم اس سطح کو ذیابیطس ٹائپIIکی سطح تک بڑھنے سے روک سکتی ہے لہٰذادرجِ ذیل ہدایت پر عمل کر کے ذیابیطس سے محفوظ رہا جاسکتاہے۔کم چکنائی اور کم حراروں والی ریشہ دار غذا استعمال کریں۔ذیابیطس کے مریض چینی،میٹھے کولڈڈرنکس، سفید چاول،میدہ،سوجی،بیکری کی اشیاء زیادہ نشاستہ والی اشیاء،چکنائی اور تلی ہوئی چیزیں مکمل بندکردیں ۔پھلوں، سبزیوں اور چھلکے سمیت اناج پرزیادہ توجہ دیں،تمباکونوشی اور شراب نوشی چھوڑ دیں اورہمیشہ سادہ غذائیں کھائیں ۔تازہ کریلاکاجوس،آملہ ،کری پتہ اور سیب کاسرکہ خون اور پیشاب میں ذیابیطس کوکم کرتے ہیں ۔ہفتہ میں کم از کم 5دن روزانہ30منٹ سے ایک گھنٹہ تیز قدموں کے ساتھ پیدل چلیں یاجسمانی مشقت یاورزش لازمی کریں اور اگر آپ اس قابل نہیں کہ مسلسل ورزش کر سکیں تو اسے سارے دن میں وقفہ وقفہ سے بھی سر انجام دے سکتے ہیں، زائد وزن کم کریں۔دوران حمل،بحالت روزہ اور دوران سفر معالج کے مشورہ سے خوراک کھائیں ۔زمانہ حمل میں خواتین بہت احتیاط کریں۔یادرکھیں کہ صحت کے اصولوں کو اپناکرذیابیطس کے ساتھ بھرپورنارمل زندگی گزاری جاسکتی ہے۔رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز بریڈ فورڈ کے ڈیابیٹک ڈاکٹر برائن کیرٹ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس سے بچنے کے لیے یہ شعورو آگاہی ضروری ہے کہ ذیابیطس ہونے سے پہلے یعنیPrediabetes کی علامات ظاہر ہونے کے بعدصرف معمولاتِ زندگی میں مناسب تبدیلی کر کے ہم ذیابیطس جیسی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ ذیابیطس تا حال لا علاج مرض ہے ۔ ہرطریقہ علاج میں ادویات کے ذریعے اسے صرف کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اس خطرناک مرض کو مزید بڑھنے سے روکاجاسکے ۔ نوٹ:حکیم احمدحسین اتحادی قومی طبی کونسل (حکومت پاکستان ) کے گولڈمیڈلسٹ مستندمعالج ہیں اورپاکستان کے ماہر طبیب ہیں ۔ عبدالحکیم شہر میں ان کا مطب ہے۔ قارئین مزیدمعلومات کے لئے وٹس اپ نمبر03007305499 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hakim Ahmad Hussain Itthadi

Read More Articles by Hakim Ahmad Hussain Itthadi: 10 Articles with 4164 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Feb, 2021 Views: 437

Comments

آپ کی رائے