مرنے کے بعد گوروں کے قبرستان بھی نہ لایا جاسکتا، نسلی امتیاز کے وہ قوانین جن پر امریکہ آج بھی شرمسار

 
حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو سہولیات، خدمات، مواقع فراہم کرے لیکن اگر بنیادی ضروریات کی فراہمی، زندگی کے روزمرہ امور اور متعلقہ معاملات پر عوام کے ایک اکثریتی طبقے سے امتیاز برتا جائے تو دنیا میں ایسا کون ہوگا جو اسے صریح ناانصافی قرار دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرے۔
 
لیکن نوآدبادیاتی دور میں سامنے آنے والی سفید فام اقوام کی نسلی منافرت کا جو چیپٹر دنیا نے امریکہ میں دیکھا وہ ہر اعتبار سے نسل انسانی کے لئے شرمناک ہے۔ نسل در نسل جاری اس تسلسل کو امریکی معاشرے کی ہر سطح پر دیکھا جارہا ہے، جو اس حقیقت کا اعلان ہے کہ امریکہ تقسیم سے دوچار ہے۔
 
پندرہویں صدی عیسوی میں امریکہ کی تلاش میں کامیابی کے بعد سے ہی زرخیز دھرتی، سونے کی تلاش کے فسانوں سے متاثر ہوکر یورپ کے کئی ممالک سے امریکہ کیلئے نقل مکانی شروع ہوئی۔ گورے اپنے ساتھ سیاہ فام غلام بھی لائے اور افریقہ سے بھی مقامی افراد کو بزور طاقت غلام بناکر امریکہ میں فروخت کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ امریکہ میں گوروں کی آمد کے بعد سے ہی یہاں ایک ایسے معاشرے نے جنم لیا جو موجودہ بھارت کی طرح ذات پات اور نسلی تفریق کی لعنت کا شکار ہوگیا۔
 
 
اس معاشرے میں سفید چمڑی والے برہمن اور سیاہ فام دلت قرار پائے۔امریکی سفید فاموں نے افریقی امریکیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی انتہا کئے رکھی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اپنے باشندوں کو فراہم کی جانے والی رہائشی، طبی، تعلیمی، روزگار اور سفری سہولیات میں بھی گورے، ہر موڑ پر سیاہ فام امریکیوں سے تعصب برتتے نظر آتے ہیں۔ ہمیں امریکی تاریخ میں تعلیمی اداروں، بستیوں، اسپتالوں، مراکز صحت، ملازمتوں کے مواقعوں، سفری سہولیات، ہوٹلز، ریستوران سمیت ہر عوامی اجتماع گاہ میں سیاہ فام افراد کے داخلے کی ممانعت یا علیحدہ انٹری کے کتبے آویزاں نظر آتے ہیں۔
 
اگر تاریخ کے ان اوراق کی امریکیوں کے سامنے ورق گردانی کی جائے تو ان کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور تو اور خود امریکی افواج میں بھی 1948 تک سیاہ فام جوانوں کے لئے یونٹس الگ تھے۔ تاہم ان یونٹس کے افسران سفید فام ہی ہوتے تھے۔ کالے امریکیوں کیلئے چلنے پھرنے کے ٹریک الگ کئے گئے، ان کے لئے کھانے پینے کی جگہیں الگ مختص کی گئیں، تقسیم کی یہ خلیج اتنی گہری تھی کہ حصول تعلیم کیلئے کالوں کے اسکول الگ، مرنے کے بعد گوروں کے قبرستان بھی نہ لایا جاسکتا تھا۔ کالے امریکیوں کو الگ ہی دفنایا جاتا تھا۔
 
جدید امریکہ کی ابتدائی صدیوں کی تاریخ کالے امریکیوں پر ظلم و ستم کی داستانوں سے عبارت ہے۔ انیسویں صدی کے آخری چند سالوں میں امریکی عدالت میں ایک منصفانہ فیصلہ سامنے آیا لیکن اس پر عمل درآمد بھی محض کاغذی تھا، جب امریکی عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ تقسیم اس وقت تک قانونی ہے جب ہر اکائی کو یکساں سہولیات فراہم کی جارہی ہوں۔ جمہوریت کے چیمپینن امریکہ میں تو سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق حاصل نہ تھا۔ انیسویں صدی میں کہیں جاکر سیاہ فاموں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق حاصل ہوا۔ لیکن یہ اجازت بھی فراڈ تھی اور اس کا اصل مقصد امریکیوں کے بڑھتے سیاسی شعور پر بندھ باندھنا تھا۔ بیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اختتام پر سیاہ فاموں کو ان کے قدآور سیاسی رہنماؤں کی سطح پر ووٹ ڈالنے کا حق تفویض کیا گیا۔
 
 
امریکہ میں نسلی ظلم کا آغاز جدید امریکی عہد کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ امریکہ کی خودمختاری کو برطانیہ نے 1782 میں تسلیم کیا۔ لیکن سیاہ فاموں کی غلامی کا دور پھر بھی جاری رہا۔ امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں سیاہ فام غلاموں کی تجارت کو باقاعدہ قانونی شکل حاصل تھی۔ جسے 1860 میں عہد ساز امریکی صدر ابراہام لنکن کے دور میں ختم تو کردیا گیا۔ لیکن امریکیوں کے ذہنوں میں بسی یہ سوچ ختم نہ ہوسکی۔ اسلام قبول کرنے والے عظیم باکسر محمد علی کی کہانی ہمارے سامنے مثال ہے جنہیں ویت نام کی جنگ میں جانے سے انکار کرنے پر پانچ سال قید بامشقت کاٹنا پڑی۔ عالمی باکسنگ چمپئیں کا اعزاز واپس کرنا پڑا۔
 
امریکہ میں ہر تھوڑے عرصے بعد اس ناانصافی کے خلاف دنیا کو روزا پارک، مارٹن لوتھر کنگ، میلکم ایکس اور کئی دیگر نامور اور جری سیاہ فام مردوں اور عورتوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ باراک اوباما نے اپنی دانست میں اس کے خلاف کوشش ضرور کی، لیکن قانون اور سسٹم کی حدود میں جکڑے سیاہ فام صدر کوئی قابل قدر کردار ادا کرتے نظر نہیں آئے۔ اگر وہ کوئی کامیابی حاصل کر پائے ہوتے تو گزشتہ برس سیاہ فام امریکی جارج فلوئیڈ کی موت کا سانحہ نہ رونما ہوتا۔ جس پر تمام اقوام عالم سے، جس غم و غصے اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا، اس کی مثال پوری سیاہ فام جدوجہد کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
 
امریکا کے سیاہ فاموں نے کھیل کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے، موسیقی میں نام کمایا، امریکی افواج میں بڑی تعداد میں خدمات انجام دیں، سیاست میں بھی نظر آئے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق نسلی منافرت کے بت کو ضرب لگانے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہ دنیا کی بدقسمتی رہی کہ کرہ ارض کو ایک ایسا سپر پاور ملا، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے نے اس اندیشے کو ساری دنیا کے سامنے آشکار کردیا کہ امریکہ کے اندر ایک بہت بڑی اکثریت سفید فام بالادستی کی حامی ہے، دنیا کے اس نام نہاد مہذب ترین قوم کی فطرت میں انسان دوستی، روشن خیالی اور عصبیت کی نفی محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔
 
 
یہی وجہ ہے کہ آج بھی امریکی دانشور یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ امریکی معاشرے میں سیاسی اور نسلی بنیادوں پر سخت گیر سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں سبکدوش امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کا وائٹ ہاؤس پر حملہ اور نئے صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے موقع پر امریکی افواج کی طلبی اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ امریکہ میں نسلی بنیادوں پر پھیلی منافرت کا بت بدستور ایستادہ ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Feb, 2021 Views: 1030

Comments

آپ کی رائے