کلن امریکی اور للن ہندوستانی

(Dr Salim Khan, India)

 کلن کے فون کی گھنٹی بجی تو للن پوارکی باچھیں کھل گئیں ۔ بچپن کا یار تین سال بعد امریکہ سے یاد کررہا تھا ۔ وہ گرمجوشی سے بولا ہیلو۔
کلن دیشمکھ نے بغیر تمہید کے کہا للن میں کل صبح ممبئی آرہا ہوں ۔ رات میں شولا پور کا ٹکٹ بنا دینا ۔
للننے کہا یار اتنے دن کے بعد آرہا تو ایک دن میرے گھر میں رک جانا ویسے بھی آج کل ٹکٹ آسانی سے نہیں ملتا ۔
ریزرویشن نہ ملے تو میں جنرل ڈبے میں چلا جاوں گا ۔
نہیں بھائی آج کل کورونا کی وجہ سے بغیر ریزرویشن کوئی ٹرین تو دور پلیٹ فارم پر بھی نہیں جاسکتا ۔
اچھا ! لیکن اندر جاتے ہوئے کون چیک کرتا ہے ؟
وہی جو باہر آتے ہوئے چیک کرتے تھے ۔ اب باہر نکلنے والوں کا ٹکٹ نہیں پوچھا جاتا ۔
کلن بولا یار یہ تو غضب ہے ۔ الٹا حساب ہوگیا ۔
مجھے تو سیدھا لگتا ہے ۔ بغیر ٹکٹ سواری اگر اندر نہ جائے تو باہر کیسےآئے؟ اسلیے باہر آنے والوں کے بجائے اندر جانے والوں کی جانچ بہترہے۔
ہاں مگر پھر اگلے دن کیسے جاوں گا ؟
وہ دن کی گاڑی میں لوگ نہیں جاتے۔ چنئی ایکسپریس میں شولاپور کا کوٹہ خالی رہتا ہے۔
ٹھیک ہے شاہ رخ کی فلم دیکھتے ہوئے نکل جاوں گا ۔
چلو کل ائیرپورٹ پر ملتے ہیں ۔
اس کی ضرورت نہیں میں اولا ٹیکسی سے آجاوں گا ۔
ارے بھائی کلن تم نہیں جانتے ۔ ان تین سالوں میں ممبئی کافی بدل گئی ہے ۔
تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ تو اپنا ٹھیک ٹھیک پتہ اور لوکیشن واٹس ایپ ڈال دینا، میں پہنچ جاوں گا اور ممبئی مین پہلی بار تھوڑی نا آرہا ہوں ۔
ہاں لیکن میں نے تمہیں نہیں بتایا ۔ ابھی دو مہینے پہلے میں نئے گھر بنا لیا ہے ۔ تم اس میں پہلی بار آوگے اور پہچان بھی نہیں پاوگے۔
اچھا مبارک ہو ۔ تب تو تم نے گھر کا پتہ ڈال دینا ۔
یار ممبئی کے گلی کوچے تمہارے اولا کا ڈرائیور کیسے جانے گا ؟
ڈرائیور کوتونہیں لیکن گوگل کو سب معلوم ہے ۔ تجھے اپنے گھر کے پیچھے والی گلی کا نام نہیں معلوم ہوگا لیکن گوگل کو پتہ ہے وہ بتائے گا۔
دیکھ یار کلن۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اتنے دنوں کے بعد آنے والے دوست کا ہوائی اڈے پر سواگت نہ کروں تو چنتا نہ کر میں ہوائی اڈے پر ملوں گا ۔
دوسرے دن کلن کو صرف ایک بیگ لے کر آتا دیکھ للن چونک پڑا ۔ گلے ملنے کے بعد پوچھا یار تیرا سامان تو نہیں کھوگیا ؟
کلن بولا نہیں تو ۔ میں اس بار اسی ایک بیگ کے ساتھ آیا ہوں۔ کیوں؟
نہیں پچھلی بار تیرے پاس بہت سارا سامان تھا ۔ تحفہ تحائف وغیرہ ۔
کلن قہقہہ مار کر بولا ،بھائی میں نے سوچا وہاں سے خرید کر ڈھونے کے بجائے یہیں امیزون سے منگا کر بانٹ دوں گا بلاوجہ کسٹم بھرنے سے کیا فائدہ؟
لیکن یار کہاں اپنا دیسی مال اورکہاں امریکہ کا سامان! اس کی بات ہی اور ہوتی ہے۔
مجھے پتہ ہے لیکن امیزون بھی تو امریکی کمپنی ہے وہ اصلی امریکن مال دنیا بھر میں گھر گھر پہنچا دیتی ہے۔ ویسے بھی امریکہ میں بنتا ہی کیاہے؟
اچھا تو امریکہ کے بڑے بڑے برانڈ کہاں بنتے ہیں ؟
چین، کوریا اور بنگلا دیش تک میں بنتے ہیں ۔ امیزون والے یہاں پہنچانے کے لیے اسے امریکہ جانے بھی نہیں دیتے ۔ براہ راست پہنچا دیتے ہیں ۔
للن بولا ہوائی اڈے کے نچلے حصے میں آٹو مل جاتا ہے۔ ویسے بھی تیرے پاس زیادہ سامان نہیں ہے چل وہیں چلتے ہیں ۔
نہیں بھائی تیرا گھر اتنا قریب ہے کہ پچھلی بار مجھے آٹو والا کچھ دور اتار کر واپس آگیا تھا ۔ اس لیے میں نے اولا بک کرلیا ہے ۔ گاڑی اپنا انتظار کررہی ہے۔
ائیر پورٹ کی پارکنگ میں اولا ٹیکسی کے اندر بیٹھتے ہی ڈرائیور نے للن سے کہا صاحب ماسک؟
للن نے کہا کوئی پرابلم نہیں مجھے معلوم ہے تم کو کورونا نہیں ہے۔
صاحب آپ کو نہیں مگر مجھے پرابلم ہے۔
تم کو کیا پرابلم ہے؟
کلن اس کو جیب سےایک ماسک نکال کر دیتے ہوئے بولا اسے نہیں معلوم کہ تمہیں کورونا نہیں ہے۔ اس لیے یہ ماسک لگالو اسی میں بھلائی ہے۔
للن نے جھنجھلا کر جواب دیا یہی وجہ ہے میں اولا شولا سے دور رہتا ہوں ۔اپنے آٹو میں کوئی نہیں پوچھتا ۔
خیر یہ بتا کہ کورونا کے زمانے میں تو نے نیا گھر کیسے لے لیا ؟ آج کل تو لوگ گھر بیچ رہے ہیں ۔
دیکھ کلن تو نے سوال کیا اور جواب بھی دے دیا۔ لوگ گھر بیچ رہے ہیں تو کوئی خرید بھی رہا ہوگا ۔
اچھا سمجھ گیا، سستے میں ملا تو خرید لیا لیکن فری میں تو نہیں ملا ہوگا ۔ اپنی سبزی کے دھندے میں اتنا پیسہ کہاں سے آگیا جو تو نے گھر خرید لیا۔
یار آج کل میں نے دھندہ بدل دیا میں سبزی نہیں بیچتا ۔
اچھا تو کیا کرتا ہے ؟
میں ٹھیکے داری کرتا ہوں ؟
غضب لیکن تو کنٹراکٹر کیسے بن گیا؟
اتفاق سے بن گیا۔ جہاں گاڑی لگتی تھی وہ سڑک بننے لگی ۔ہم سب کو ہٹا دیا گیا ۔ میں ٹھیکیدار کے پاس جاکر بولا صاحب میں بھوکا مر جاوں گا ۔
اچھا تو پھر کیا ہوا؟
اس نے مجھے اپنے یہاں کام پر رکھ لیا۔ ۶ مہینے بعد خوش ہوکر سپر وائزر بنادیا اور ڈیڑھ سال بعد میں خود بھی چھوٹے موٹے ٹھیکے لینے لگا ۔
ارے یار یہ تو بہت اچھا ہوگیا تجھ کو نئی لائن مل گئی۔
جی ہاں ۔ یہ گھر میں نے ہی بنایا ۔ میں نے پڑوسی سے کہا دونوں کا جھونپڑا ملا اوپر بھی بنالیتے ۔
اچھا تو وہ راضی ہوگیا ؟
کیوں نہیں اس کان گھر بھی دوگنا ہوگیا اور میرا بھی۔ بنانے کا خرچ ہم نے آدھا آدھا بانٹ لیا
یار یہ تو لاک ڈاون کا بہترین استعمال کیا تم لوگوں نے
جی ہاں اس کے بعد گاوں جاکرتیری بھابی اور بھتیجے کو بھی لے آیا ۔
ارے واہ ۔ میں تو فضول میں امریکہ گیا۔وہاں دن بھر اوبر چلاتا ہوں اور تین سال بعد بیوی بچوں سے ملنے آرہا ہوں ۔
یار یہ سب اپنے کو تھوڑی نا معلوم تھا۔ تقدیر سے ہوگیا خیر یہ دیکھ اپنا گھر آگیا ۔
گھر میں چائے پانی کے بعد للن بولا یار یہ تمہارے امریکہ والوں نے کسانوں کے بارے میں بول کر ٹھیک نہیں کیا ۔
ارے بھائی وہ ریحانہ امریکی تھوڑی نا ہے ۔ وہ ویسٹ انڈیز کی رہنے والی ہے ۔
اس سے کیا ہوتا ہے لیکن رہتی تو تیری طرح امریکہ میں ہے ۔ اس کو کسانوں کی حمایت کرنےکی کیا ضرورت تھی؟
یار تم عجیب آدمی ہو ۔ کوئی اپنے کسانوں کی حمایت کرے تو ہمیں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے؟
ارے لیکن ہم لوگ کس لیے ہیں ۔ اس کام کے لیے ہم کافی ہیں ۔
لیکن ہماری کنگنا رناوت جیسی بھکت تو کسانوں کو دہشت گرد کہتی ہے کیا یہ ٹھیک ہے؟
ٹھیک تو نہیں ہے لیکن ہم اپنے مسائل خود حل کریں گے ۔کسی اور کی دخل اندازی برداشت نہیں کریں گے ۔
اچھا اور جو ہم دوسروں کے مسائل میں بولتے ہیں اس کا کیا؟
ہم کہاں بولتے ہیں؟ میں نے توکبھی نہیں کہا بلکہ مجھے تو پتہ بھی نہیں کہ امریکہ میں کیا ہورہا ہے؟
ارے بھائی وہ تو مجھے بھی نہیں معلوم لیکن ہماری سرکار تو بولتی ہے کیپٹل حملے کے بارے میں کہا تھا بلکہ ابھی میانمار پر بھی بیان آیا ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہاں چلنے والی کسی سرکار مخالف تحریک پر توہم نہیں بولتے ۔ ہمارے مودی تو جاکر اگلی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگا کر آجاتے ہیں۔
تو کیا وہ بھی یہاں کر مودی کی حمایت کریں۔ خوددار لوگ یہ نہیں کرتے ۔
اچھا تو تم مودی جی کے بارے میں کیا کہنا چاہتے ہو ؟ وہ خوددار نہیں ہیں؟
اپنوں کے سامنے تو ان کا بہت بڑا آہنکار ہے لیکن انہوں نے تو یہاں بلا کر بھی ٹرمپ کو نمستے ہی کیا ۔ ایسا تو کوئی نہیں کرتا ۔
للن پھنس گیا تو وہ موضوع بدلتے ہوئے بولا اچھا یہ بتاو کہ امریکی اگر اتنے ہوشیار ہیں تو انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے پاگل کو کیسے چن لیا؟
ارے بھائی جیسے ہندوستان میں ہم نے ٹرمپ کے دوست مودی کا انتخاب کرلیا ۔
للن پھر پھنس گیا ۔ اس نے کہا سمجھ گیا ۔ آج کل ساری دنیا کے لوگ پاگلوں کو ہی منتخب کرتے ہیں ۔
جی نہیں امریکیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو انہوں نے اپنی اصلاح کرلی ۔ لیکن ہم تو پھر سے دھوکہ کھا گئے ۔
للن کو یاد آیا کہ وہ بحث میں ہمیشہ ہی کلن سے ہار جاتا تھا ۔ اس لیے بولایار تو رات بھر سفر کرکے آیا ہے اب کچھ دیر آرام کرلے۔
کلن بولا ہاں یار مجھے کچھ دیر سونا چاہیے۔کلن یہ بول کر صوفے پر ہی لیٹ گیا۔
للن نے کہا ٹھیک دوپہر تک سوجا۔ کھانا کھاکر گھومنے جائیں گے۔ویسے بھی کل صبح تیری ٹرین ہے۔
یہ سنتے سنتے کلن کے خراٹے نشر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ للن نے پردے کھینچ دیئے رات ہوگئی ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 460993 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Feb, 2021 Views: 139

Comments

آپ کی رائے