یقین اور امید

(Maryam Arif, Karachi)


تحریر: خرم شہزاد
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
درج بالا شعر کی پہلی سطر میں امید اور دوسری سطر میں یقین کا مفہوم پن ہاں ہے۔ ابن آدم سے اگر اس کا سب کچھ چھن بھی جائے تو آس پھر بھی کہیں نہ کہیں دل و دماغ میں بچ جاتی ہے۔ امید اس جہانِ کاف و نون میں، امید سے بڑھ کر کوئی سہارا نہیں اور امید سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ سوچ کے کس زاویے سے امید کھینچ رہے ہیں۔ مثلاً فلاں شخص اگر میرے گھر آیا تو مجھے خوشی ہوگی یا فلاں شخص جب میرے گھر نہ آیا، مجھے خوشی نہیں ہوگی۔ پہلی آپ کی چاہت ہے اور دوسری آپ کی خواہش یقینا دوسری سوچ و بچار والی بات ہے۔

بیشتر والدین بچوں کے جوان ہونے سے پہلے، ان سے وابستہ امیدیں جوان کرلیتے ہیں۔ جس سے وہ وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ یقین یقین کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلا یقین العلم ، دوسرا یقین العین اور تیسرا حق الیقین ہے۔ میں نے آپ سے کہا فلاں جگہ پر آگ لگی ہوئی ہے۔ اگر آپ نے یقین کر لیا ہے تو یہ یقین العلم ہے۔ اگر آپ نے وہاں جا کر خود بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تو یہ یقین العین ہے۔ اگر آپ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا ہے کہ دیکھوں، آیا کہ واقع ہی آگ لگی بھی ہوئی یا نہیں تو یہ حق الیقین ہے۔ ایسے بے یقینوں پر کبھی بھی یقین مت کرو، جنھیں خود پر بھی یقین نہیں ہوتا۔ اگر آپ نے یقین کیا ہے تو یہ ناقص یقین ہے۔

امید اور یقین اس بات پر یقین کر لیجیے کہ امید ایک تکلیف دہ شے بھی بن سکتی ہے۔ ہماری ناکامی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم امیدیں دوسروں سے لگا لیتے ہیں اور یقین اپنی ذات پر کر لیتے ہیں۔ جی ہاں! امیدیں ان سے ہی لگائی جاتی ہیں جو اپنے ہوتے ہیں اور صرف خون کے ہی رشتے اپنے نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ جس سے ہم نے امید لگا رکھی ہے، اس کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی ہے تو یقین بھی لاحاصل ہی رہے گا۔ اور ہم نے اس سے کیسی امید لگا رکھی ہے، یہ تو بعد کی بات ہے۔ ہم میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم عبادت تو اﷲ ہی کی کرتے ہیں مگر ہم امید خدا کے بجائے فرعون صفت حاکموں سے لگا لیتے ہیں۔

قرآنِ پاک میں اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ ’’تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد کیا کروں گا‘‘ یعنی اگر ہمیں اﷲ پر امید ہے تو وہ بھی ہمارے لیے یقین ثابت ہوگاکیونکہ امید کا دیا تب ہی جلتا ہے، جب یقین کا تیل اس میں ڈالا گیا ہو۔ خوش قسمت کے لیے دعا بھی ایک امید ہے۔ یقین کا قفل امید کی کنجی سے ہی کھلتا ہے۔ بیمار اگر دوا کھاتا رہے تو شفا مل ہی جایا کرتی ہے۔ امید بہت نقصان دہ شے ہے، ماسوائے تب، جب یہ خود کی ذات پر لگائی جائے۔ یہ عمل باقیوں کی نسبت تیز تر ہوتا ہے۔ کیونکہ خود کی ذات سے لگائی گئی امید بہت جلد یقین بن جاتی ہے۔

امید ایک طاقت ہے اور اس کے بدلے میں یقین کارکردگی ہے۔ اگر طاقت کا غلط استعمال، کارکردگی صِفر کرتا ہے۔ امید کی مٹی پر یقین کا پودا سعادت مند کا ہی اگتا ہے۔ اﷲ عزوجل سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہماری آرزؤں اور تمناؤں کو پھلا پھولا رکھے، انہیں کبھی بوسیدہ نہ ہونے دے۔ اگر اشجار پر پھل نہ بھی لگیں مگر اشجار ہواؤں میں لہراتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517828 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2021 Views: 896

Comments

آپ کی رائے