اب ایم پی ایز معطل ہوں گے!

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 اِس مرتبہ اُن کی معطلی پہلے سے مختلف اور منفرد ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جس علاقے میں کسی کو آوارہ کتا کاٹے گا، وہاں کا ایم پی اے معطل کر دیا جائے گا۔ سرکاری وکیل نے وضاحت کی کہ کتا کاٹنے کے معاملے سے ایک ایم پی کا کوئی تعلق نہیں، جس پر عدالتِ عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ کتے کاٹے کی ویکسین کی سرکاری خریداری وغیرہ میں کمیشن کون کھاتا ہے؟ یہ ہمیں معلوم ہے، منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے۔ عدالت عالیہ کے حکم کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس ضمن میں معطل ایم پی اے ایوانِ بالا کے انتخاب میں اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کر سکے گا۔ اس وقت تو سینیٹ کے الیکشن ہی پورے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ وزیراعظم نہایت یقین اور یکسوئی سے اس کا اظہار کر رہے ہیں کہ خیبر میں ہمارے لوگوں کو خریدا جارہا ہے(یا خریدا جائے گا)۔ یہ کارِ خیر سینیٹ کے گزشتہ الیکشن میں بھی کھل کر ہوا تھا۔ اب اگر کوئی رکن اسمبلی کسی کے آوارہ کتے کے کاٹنے کی بنا پر معطل ہو جائے گا تو وہ اپنے قیمتی ووٹ کے استعمال سے محروم رہے گا۔ یہ ووٹ اس لئے بھی بہت قیمتی ہے کہ بہت سے ارکان نے ووٹ کی ’’قیمت‘‘ وصول کر رکھی ہوتی ہے۔ اگر کسی نے پیسے پکڑ رکھے ہیں اور اوپر سے معطل ہوگیا تو پیسے دینے والے کا کیا بنے گا؟ آئے ہوئے پیسے بھلا واپس کب جاتے ہیں؟

صرف متعلقہ ایم پی اے ہی معطل نہیں ہوگا، عدالت نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ’’․․ اُس علاقے کی بلدیہ کے افسر کی تنخواہ بھی روک دی جائے اور اسے سرپلس کر دیا جائے‘‘۔ کسی سرکاری ملازم یا افسر کی تنخواہ روکنا وقتی طور پر معمولی جھٹکا یا صدمہ ثابت ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی ملازم کے لئے یہ کوئی سزا نہیں، کیونکہ آج نہیں تو کل، اُسے تنخواہ مل ہی جائے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس بلدیہ کے افسر اور متعلقہ اہلکاران کی تنخواہ کاٹ کر متاثرہ پارٹی کے علاج پر خرچ کی جائے، اور اُن کی دلجوئی پر لگادی جائے۔ تاکہ ان لوگوں کو اپنی کوتاہی اور بے حسی کا کچھ احساس ہو سکے۔ کُتے کے کاٹے کی ویکسین بھی ایک اہم مسئلہ ہے، اول تو دور دراز کے لوگ ہسپتال تک پہنچ ہی نہیں پاتے، بعض لوگ دیسی علاج کو ترجیح دیتے ہیں، تکلیف دہ تو ہے، مگر ایسے زخم پر پِسی ہوئی مرچیں باندھ دی جاتی ہیں، مگر اس ٹوٹکے کی بھی ایک شرط ہے کہ مرچیں اسی کے گھر سے آئیں جس کے کتے نے کاٹا ہے، مگر یہاں تو معاملہ الٹ ہے، کیونکہ کتا کسی کی ملکیت نہیں، یعنی آوارہ ہے، مرچیں کہاں سے آئیں گی۔ اگر کوئی قسمت سے ہسپتال پہنچ بھی جائے تو وہاں جا کر راز منکشف ہوتا ہے کہ ویکسین ہی موجود نہیں۔

آوارہ کتوں کا معاملہ مزاح کی سرحدیں عبور کر چکا ہے،یعنی پطرس بخاری کی تقلید میں کتوں پر قلم آرائی ایک فیشن تو کہا جاسکتا ہے، جو مضمون بخاری صاحب نے باندھا تھا، وہ صورت حال بہت حد تک جوں کی توں ہے، تاہم وقت کے گزرنے اور آبادی کے بہت زیادہ بڑھ جانے کے پیشِ نظر اب کتوں کی مصروفیات اور معاملات میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں، اب ٹریفک اُن کے معمولات میں کافی خلل اندازی کرتی ہے، اُن کے آرام و سکون اور لمبی تان کھینچ کر غزلیں کہنے کا زمانہ اب گزر گیا ہے، اب یہی کتے راہگززپر چلنے والوں کو کاٹنے کا کام کرتے ہیں، سائیکل یا موٹر سائیکل کے پیچھے بھاگتے ہیں، بعض اوقات تو گاڑی کا پیچھا کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ کم آبادی والی ویران جگہوں پر خواتین یا بچوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں نہایت تکلیف دہ صورت حال سامنے آتی ہے، جب ماں کے سامنے بچوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر شدید زخمی کر دیا جاتا ہے۔ اخبارات میں بلا ناغہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کی بہت سی خبریں شائع ہوتی ہیں، وہی احتجاجی خبر، وہی ویکسین کی عدم دستیابی ، وہی کرپشن اور کمیشن کی کہانی۔

کتے کے کاٹنے کی کہانی آوارہ کتوں تک ہی محدود نہیں، آئے روز ایسی خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ زمیندار نے مزارع پر کتا چھوڑ دیا، یا فلاں طاقتور نے فلاں غریب پر کتا چھوڑ دیا ۔ یوں پالتو (اور پلا ہوا) خونخوار حملہ آور کتا کمزور اور مجبور کو شدید زخمی کر دیتا ہے۔ ایسے میں نہ تو کسی ایم پی اے کے معطل ہونے کے امکان ہوتے ہیں ، نہ بلدیہ کے افسران کی تنخواہ رکنے کی بات ہوتی ہے، بلکہ کتا چھوڑنے والوں کو بھی پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا، کیونکہ جو یہ کام کرتا ہے، اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں، طاقتوروں کے گٹھ جوڑ کی بنا پر خود علاقہ ایم پی اے اُن ظالموں کا سفارشی بن جاتا ہے۔ عوام کے تحفظ کا ذمہ دار عدالتِ عالیہ نے ممبران صوبائی اسمبلی کو قرار دیا ہے۔ اپنے ہاں ممبرانِ اسمبلی محدود اور مخصوص دائرے میں مقید رہتے ہیں، وہ الیکشن کے بعد نہ عوام سے رابطہ رکھتے ہیں، نہ اُن کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں، نہ اپنے فرائض کو پہچانتے ہیں، نہ اپنے تئیں حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ خبطِ عظمت کا زعم ، مراعات میں مگن، کمائی کی منصوبہ بندی وغیرہ ہی ان کی اصل مصروفیات ہوتی ہیں۔یہ کام سب سے بہتر انداز میں بلدیاتی نمائندے ہی سرانجام دے سکتے ہیں، مگر کیا کیجئے کہ اپنے ہاں بلدیاتی الیکشن صرف نعروں کے لئے رکھا جاتا ہے، عمل کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ اگر ایم پی ایز اور بلدیاتی ادارے بھی اس کام میں ناکام ہو چکے ہیں، تو عوام کو حکم کیا جائے، وہ مرغیاں اور کٹّے پالنے کے ساتھ ساتھ آوارہ کتے پکڑنے کا کاروبار کر لیں، فی کتا قیمت مقرر کر دی جائے، حکومت عوام سے خرید کر چین وغیرہ کو برآمد کرسکتی ہے۔ آوارہ کتوں کے کاٹنے کی کہانی ختم ہو جائے گی، مہنگائی اور بے روز گاری کے مارے عوام کو مالی مفاد مل جائے گا اور حکومت کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 256864 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 135

Comments

آپ کی رائے