خواجہ حسن ثانی نظامی ؒسجادہ نشیں خواجہ نظام الدین اولیاؒ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
خواجہ حسن ثانی نظامی ؒسجادہ نشیں خواجہ نظام الدین اولیاؒ
(6 سال قبل15مارچ 2015 کو 83سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا)
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
درگاہ حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاؒ کے سجادہ نشین، معروف ادیب و دانشور خواجہ حسن نظامی ؒ کے فرزندِ ارجمند خواجہ سید حسن ثانی نظامی ؒ دہلی میں انتقال ہوا۔ وہ بیک وقت ایک صوفی، عالم دین، باکمال ادیب اور دانشور اور خانقاہی نظام کے علمبردار تھے۔ خواجہ سید حسن ثانی نظامی ؒ کے والدبزرگوار خواجہ حسن نظامی ؒ اپنے وقت کے معروف ادیب، دانشور ور او ر سجادہ نشین تھے۔ حسن ثانی نظامی بھی اپنے والد ماجد کی طرح صاحب طرز ادیب تھے۔ وہ اپنے والد بزرگوار کے جاری کردہ ماہنامہ ’منادی‘ سے وابستہ رہے، یہ رسالہ 1955 ء سے ان کی ادارت میں مسلسل جاری رہا، جریدہ ’منادی‘ کے اوراق خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کی علمیت اور قابلیت کا عملی اظہار ہیں۔
خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد ازاں انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کیا۔ ان کا خاندان ایک دینی، علمی اور ادب کی اعلیٰ اقدار کاامین ہے۔ انہیں علم و ادب سے محبت اور لگاؤ ورثہ میں ملا۔ وہ تحریر و تقریر کے فن میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ دینی و علمی موضوعات پر انہوں نے سو سے زیادہ ریڈیو کے پروگراموں میں شرکت کی اور مختلف دینی، اخلاقی، ادبی، علمی اور تصوف جیسے موضوعات پر اظہار خیا ل کیا۔ ہندوستان کے معروف و معتبر علمی و ادبی اداروں کے تحت مختلف پروگراموں میں وہ مسلسل لیکچر یتے رہے۔ انہوں نے ہندوستان کی نمائندگی اقوام متحدہ میں بھی کی۔ دنیا بھر میں ان کی علمیت و قابلیت کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ خانقاہی نظام کے بھی علمبردار تھے۔ وہ حضرت نظام الدینؒ، حضرت امیر خسرو اور اپنے والد حضرت خواجہ حسن نظامی کے عرس پر ہر سال مختلف پروگرام تشکیل دیا کرتے تھے جن میں محفل نعت، محفل سماع اور مختلف سیمنار و لیکچر شامل ہوا کرتے۔ وہ ان پروگراموں میں ذتی دلچسپی لیاکرتے ساتھ ہی از خود بھی مختلف تصوف کے موضوعات پر تقاریر اور خطبات دیا کرتے تھے۔
خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ ایک متواضعِ، خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ کشادہ دلی اور خردنوازی ان کی پہچان تھی۔ وہ ہمیشہ امت میں اتحاد و اتفاق کے خوہش مند اور اس کے لیے عملی جدوجہد کرتے رہے۔ وہ صوفیانہ روایت کے اعلیٰ نمونہ اور دبستان دہلی کے امین تھے۔ ان کے لکھنے کا ایک خاص انداز اور اچھوتا اسلوب رکھتے تھے۔ انہوں نے جس طرح اپنی کتاب تصوف رسم اور حقیقت اور حضرت نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات فوائد الفواد کا اردو ترجمہ کیا اس سے مرحوم کی صلاحیت اور اسلوبِ تحریر کا اندازہ لگا نا مشکل نہیں۔ انہوں نے رسالہ منادی کو جاری رکھنے کے علاوہ اپنے والد بزرگوار کی مختلف تصانیف و تالیفات کو از سر نو شائع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا جو ایک قابل تحسین اقدام تھا۔ اپنے والد کی کتب کی ازسرِ نو اشاعت کے سلسلے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ جو کتابیں انہوں نے دوبارہ شائع کیں ان میں کچھ کتابیں 1857کی جدوجہد آزادی سے متعلق ہیں۔
خواجہ حسن نظامی ؒ اور ہمدرد کے بانیان حکیم عبد الحمید مرحوم اور حکیم محمد سعید شہید اور مادر ہمدرد یعنی دونوں بھائیوں کی والدہ رابعہ بیگم سے بہت قرینی اور احترام و عقیدت کے تعلقات رہے۔ خواجہ حسن نظامیؒ نے حکیم محمد سعید کی والدہ محترمہ رابعہ بیگم کو’مادر ہمدرد‘کا خطاب دیا تھا۔ محترمہ رابعہ بیگم کے انتقال کے بعد خواجہ حسن نظامیؒ نے ان کے احترام میں ایک کتاب بعنوان ”مادر ہمدرد“ لکھی اس کتاب میں تاریخی حوالوں سے ثابت کیا گیا کہ دنیا میں جتنے بڑے آدمی گزرے ہیں ان میں زیادہ تر وہ تھے جن کی تربیت ان کی ماؤں نے کی تھی۔ اس کتاب میں آپ لکھتے ہیں ”میں نے یہ کتاب ہندوستان اور پاکستان کی ان عورتوں کے لیے لکھی ہے جو مادر ہمدرد کی طرح انگریزی تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور اپنی اولاد کو ایسی تعلیم و تربیت دینا چاہتی ہیں جس میں پرانے زمانے کی خوبیاں بھی ہوں اور نئے زمانے کی خوبیاں بھی ہوں، اگرچہ اس چھوٹی سی کتاب میں طریق تربیت کا ذکر نہیں ہے، لیکن جو مثالیں اس کتاب میں لکھی گئی ہیں، ان سے قدیمی طرز کی اچھی تربیت کا احساس ہندوستان اور پاکستان کی عورتوں میں پیدا ہو سکتا ہے اور یہ کتاب اساس احساس تربیت اولاد کا کام دے سکتی ہے“۔ادارہ ہمدر پاکستان کی جانب سے اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بعنوان ”مادر ہمدرد، مادری تربیت سے فیض پانے والے ۵۷۱، اشخاص کا دل چسپ تذکرہ“ 1994ء میں شائع کیا گیاتھا۔
خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ ہندستان کی متعدد علمی و ادبی انجمنوں سے وابستہ رہے۔ ہمدرد دواخانہ اور جامعہ ہمدرد بھارت کے بانی شہید حکیم محمد سعید کے بڑے بھائی حکیم عبد الحمید کے انتقال کے بعد خواجہ حسن ثانیؒ غالب اکیڈمی کے چیرئمین رہے، حکومت ہندوستان کی جانب سے انہیں (Delhi Gaurav) Pride of Delhi Awardسے نوازا گیا۔ خواجہ صاحب آل انڈیا صوفی کانفرنس کے صدر نشین بھی رہے۔ اس کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی اردو اکیڈمی سے بھی وابستہ رہے۔ دہلی کی شاید ہی کوئی ادبی و علمی انجمن یا ادارہ ایسا ہوگا جس سے خواجہ حسن ثانی نظامی کی وابستگی نہ رہی ہو اور انہوں نے اس کی سرپرستی نہ کی ہو۔ وہ ’خواجہ حسن نظامی میموریل سوسائٹی کے سیکریٹری اور امیر خسرو سوسائٹی سے
بھی وابستہ تھے۔
خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کے بارے میں پروفیسر صدیق الر حمن قدوائی کا کہنا ہے کہ ’وہ اپنے والد خواجہ حسن نظامی مرحوم کی تہذیبی روایات کے امین تھے۔ انھوں نے دہلی کی زندگی میں اسی بنا پر ایک خاص مقام حاصل کیا تھا۔ علمی و ادبی اعتبار سے ان کا شغف متنوع تھا۔ دہلی کی ادبی محفلوں اور انجمنوں میں وہ ہمیشہ سرگرم رہے۔ ان کی گفتگو میں بڑی شیرینی اور ایک حِس مزاح بھی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ دہلی کی محفلوں میں بہت مقبول رہے۔ اُن کی تحریر کا ایک خاص انداز تھا‘۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضا حیدر کا کہنا ہے کہ خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کانام علم تصوف کے تعلق سے پوری دنیا میں عزت و احترام سے لیا جات رہا ہے۔ ہندوستانی ادب اور تہذہب کے وہ ہمیشہ امین رہے۔ ہندوستان کی تاریخ پر ان کی گہرے نظر تھی خصوصاًدلی کی روایات کی وہ ہمیشہ پاسداری کرتے رہے‘۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر شاہد ماہلی نے خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کی خدمات کا ذکر ان الفاظ میں کیا’مرحوم علوم کے مختلف شعبوں میں گہری نظر رکھتے تھے جس کا اظہار ہم برابر اُن کی تقریروں میں دیکھتے تھے۔ انہوں نے مختلف اداروں سے وابستہ رہ کر اہم علمی خدمات انجام دیں ہیں۔ بلاشبہ خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ کا دنیا سے رخصت ہوجانا دہلی کی قدیم تہذیب و ثقافت کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں‘۔
خواجہ سیدحسن ثانی نظامی ؒ 15 مئی 1931کو پیدا ہوئے۔ 15مارچ 2015 کو 83سال کی عمر میں بے شمار مریدین کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داعی اجل کو لبیک کہا۔ ان کا انتقال ان کے اپنے گھر واقع بستی حضرت نظام الدین میں ہوا، وہ زیابیطس اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ تدفین درگاہ شریف کے ’خواجہ ہال‘ میں ان کے والد حضرت خواجہ نظام الدین کی قبر اطہر کے ساتھ تدفین عمل میں آئی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 668764 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
17 Mar, 2021 Views: 160

Comments

آپ کی رائے