ظریفانہ : للن کا ہاتھ اور ہتھوڑا

(Dr Salim Khan, India)

کیرالہ کی راجدھانی تروا ننت پورم میں واقع گاندھی بھون میں سابق وزیر اعلیٰ اومنچانڈی کو دیکھ کر للن رپورٹر نے سلام کرکے کہا صاحب کیسے ہیں؟
اومن نے جواب دیا ابھی تک تو ٹھیک ہے لیکن دوماہ بعد الگ جواب ملے گا؟
الگ جواب ؟ میں نہیں سمجھا ؟ للن نے سوال کیا ۔
اومن بولے الگ یعنی اس وقت ہمارے اچھے دن میرا مطلب اچھی سرکار آچکی ہوگی۔
یہ آپ اس قدر اعتماد کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
ارے بھائی تم صحافت کرتے ہو یا گھاس چھیلتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ ہر پانچ سال بعد کیرالہ میں اقتدار بدل جاتا ہے؟؟
جی ہاں لیکن میں نے جب پانچ سال پہلے یہی سوال آپ سے کیا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا ؟
اومن نے قہقہہ لگا کر کہا کیا تم نے اس بار یہی سوال وزیر اعلیٰ وی۰۰ وی۰۰۰ وجین سے پوچھاہے؟
جی ہاں سر میں ابھی ان سے ہی مل کر آرہا ہوں۔
اچھا تو اس نے کیا کہا ؟
وہی جو آپ نے پانچ سال پہلے کہا تھا ۔
ہاں اب تو تم سمجھ ہی گئے ہوگے کہ یہ ایک انتخابی جملہ ہے جو ہر وزیر اعلیٰ کو الیکشن سے پہلے کہنا پڑتا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ٹھیک ہے سر سمجھ گیا لیکن کیا آپ اس بار بھی اپنے روایتی حلقہ انتخاب کوٹیم کی پوتھو پلی سیٹ سے لڑیں گے؟
جی نہیں 50 سال بعد میں کوٹایم سے نکل کر ترواننت پورم سے لڑنے والا ہوں ۔
لیکن میں نے تو سنا ہے کہاس بار یہاں سے اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما کرشننچینی تھال قسمت آزمانے والے ہیں ؟
یہ اس کے من کی بات ہے جو وہ سوشیل میڈیا میں پھیلا چکا ہے لیکن میں تمہیں سونیا گاندھی کے من کی بات بتا رہا ہوں؟
سر وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیرالہ سے تو راہل گاندھی رکن پارلیمان ہیں ۔ کیا آپ کو ان کے من کی بات پتہ ہے؟
راہل ابھی بچہ ہے ۔ اس کے من میں چاکلیٹ بسکٹ کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ میں اس کی آیا کا چاچا ہوں ۔
اچھا تو کیا آپ ششی تھرور کو چاکلیٹ بسکٹ سمجھتے ہیں؟
اومن نے کہا ششی تھرور تو چیونگ گم ہے۔ شروع میں مزہ دیتا ہے پھر چباتے رہو ۔ نہ اگلا جائے نہ نگلا جائے ۔
لیکن وہ تو رکن پارلیمان ہیں۔ ان کو یہاں سے لڑانے کی وجہ میری سمجھ سے بھی بالاتر ہے؟
افسوس کہ تم صحافیوں کی عقل اس قدر موٹی ہوتی ہے کہ موٹی موٹی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔
للن ہنس کر بولا جی ہاں سر اسی لیے آپ جیسی دبلی پتلی عقل والوں کے پیچھےبھاگتے رہتے ہیں ۔ اب آپ ہی سمجھا دیجیے۔
اومن ہنس کر بولے بہت تیز آدمی ہو ۔ تو سنو وہ ایسا ہے کہ ششی تھرور جی 23 میں چلا گیا لیکن راہل بابا اس کو پارٹی سے نکالنا نہیں چاہتا۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کا اسمبلی انتخاب سے کیا تعلق؟
ارے بھائی پھر وہی بات۔ وہ ششی کو قومی سیاست سے ریاستی سطح پر لانا چاہتاہے تاکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔
للن بولا صاحب معذرت چاہتا ہوں ،میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ ان میں سے سانپ کو ن ہے؟ اور آپ لاٹھی کس کو کہہ رہے ہیں ؟
یار تم تو بالکل ہی گھامڑ کندۂ ناتراش ہو جو اتنا بھی نہیں سمجھ سکے۔ سانپ جی 23 ہے جو اِدھر اُدھر سے پارٹی کو ڈستا رہتا ہے اور تھرور وہ لاٹھی ہے ۰۰۰۰۰۰
سمجھ گیا سر جس کی مدد سے راہل گاندھی ان کا سر کچلنا چاہتے ہیں ۔
بہت خوب ہم جیسوں کی صحبت میں رہا کرو تو تمہارے 14 طبق روشن رہا کریں گے ۔
جی ہاں سر لیکن یہ تو بتائیے کہ اومن چانڈی یعنی ملیا لی ہانڈی اور کرشننچینی تھالا دونوں اسی حلقۂ انتخاب سے کیوں لڑنا چاہتے ہیں؟
ارے بھائی کیرالہ کے سب سے بڑے جیوتش نے پیشنگوئی کی ہے کہ یہیں سے جیتنےوالا وزیر اعلیٰ بنے گا اس لیے میں اپنے50 سال پرانے کوٹایم کو چھوڑ آیا۔
للن بولا اب سمجھ میں آیا کہ راہل گاندھی اپنے چہیتے ششی تھرور کو یہاں سے کیوں لڑانا چاہتے ہیں ؟ لیکن اس میں آپ کے لیے بری قریب ہے۔
اومن نے بگڑ کر کہا بیوقوف تمہیں شاید نہیں معلوم ششی تھرور یہاں سے پچھلے الیکشن میں ایک لاکھ ووٹ زیادہ پاکر کامیاب ہوچکا ہے ۔
اچھا تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ یہیں سے وزیر اعلیٰ بنیں گے ۔
یہ سن کر اومن نے للن کو ایک زور دار طمانچہ رسید کیا اور کہا یہاں سے دفع ہوجاو ۔ دوبارہ نظر آئے تو گولی ماردوں گا ۔
للن اپنے گال کو سہلاتے ہوئے باہر نکلا تو سامنے سے کرشنن آتے ہوئے نظر آئے۔ اس نے بادلِ ناخواستہ سلام کردیا ۔
کرشنننے کہا ارے ایچ ایس چینل کے للن کیسے ہو؟ بڑے دنوں بعد نظر آئے کہاں کھوگئے تھے ؟ آو چائے پیو ۔
للن کو تعجب ہوا کہ ایک اومن نامی شیطان ہے اور دوسرا فرشتہ صفت کرشننن! اسی کو وزیر اعلیٰ بننا چاہیے۔ وہ بولا سر میں تو یہیں ہوں لیکن دوسرا ایچ کھوگیا۔
کیا مطلب میں نے نہیں سمجھا ؟ تمہارے دوسرا ایچ میرا مطلب ہے ہتھوڑے کے ساتھ والی ہنسلی کو کہیں کورونا ورونا تو نہیں ہوگیا ؟
جی نہیں سر کورونا کا توڑ ویکسین بھی بن گیا لیکن اس کو تو ہندوتوا ہوگیا جس کی نہ ویکسین ہے نہ کبھی بنے گی ۔
کیا بکتے ہو؟ تم دونوں نے تو بڑے ارمانوں سے ہتھوڑا اور ہنسلی چینل شروع کیا تھا ۔ تو کیا اب صرف ہتھوڑا رہ گیا ہے ؟
جی ہاں سر اب ہم ہل اور ہتھوڑا چلاتے ہیں مگر فصل زعفرانی اگتی ہے۔اس کو کوئی اورہنسلی کاٹ کر لے جاتا ہے؟
لیکن یہ چمتکار ہوا کیسے؟
بھئی میرے دوست کلن ہنسلی کو بھی ایک دن ایسا ہی سرخ طمانچہ پڑا اور وہ کمل دھاری بن گیا ۔
خیر یہ تو بہت برا ہوا ۔
ہاں سر ہتھوڑے اور ہنسلی کے بیچ چولی دامن کا ساتھ تھا ۔ اب چولی پھٹی ہوئی ہے اور دامن تارتار ہے۔
مجھے افسوس ہے لیکن اگر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہوتو پوچھ سکتے ہو۔ ویسے ہمارے بزرگ اومن سے ملنے کے بعد میرے کہنے کے لیے کیا بچتا ہے ۔
للن نے وہی سوال دوہرا دیا سر یہ بتائیے کہ آپ ترواننت پورم سے ہی انتخاب کیوں لڑنا چاہتے ہیں؟
اچھا سوال ہے کیا تمہیں نہیں پتہ کہکیرالہ کی تاریخ میں پانچ سال بعد قبل پہلی بار بی جے پی کہاں سے جیتی تھی؟
مجھے معلوم ہے سر وہ یہیں کی مونامی سیٹ سے کامیاب ہوئی تھی۔
تو بس یہی بات ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بار وہ یہاں سے بھی ہار جائے۔
للن بولا جی ہاں سر اگر آپ لڑیں گے تو وہ یقیناً ہارجائےگی مگر ۰۰۰۰۰۰۰۰
مگر کیا؟ بولو، رک کیوں گئے؟
میں دوسرا طمانچہ کھانا نہیں چاہتا لیکن خیر آپ کو بتانے میں خطرہ نہیں ہے۔
یاں بھائی بتاوگے بھی یا پہیلیاں بھجواوگے ؟
یہی کہ اگر اومن کو ٹکٹ مل گیا تو کمل دوچار جگہ اور بھی کھل جائے گا ۔
جی نہیں للن اگر تمہارا ہتھوڑا چلتا رہا تو ایسا نہیں ہوگا۔ یہ کہہ کر کرشنننے ایک لفافہ للن کو تھمادیا اور کہا اس کو رکھو ۔ چائے پانی کے کام آئے گا ۔
للن بولا سر بہت شکریہ ۔ دراصل ہم لوگ ہتھوڑا تو چلاتے ہیں لیکن کبھی کبھار غلط چل جاتا ہے اس لیے آپ کچھ رہنمائی فرمائیں ۔
کرشنننے کہا تم یہاں سے بی جے پی کے دفتر جاو اور ان کی خبریں شائع کرو۔
للن یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا ۔ وہ بولا سر کیا آپ مجھے بھی کلن کی مانند گودی میڈیا کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ؟
کرشننبولے جی نہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے صحیح سوال پوچھو۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردو۔
لیکن ان کی خبر تو آج کل ہر کوئی شائع کررہا ہے ۔اس میں مزید اضافے سے کیا حاصل؟
دیکھو اس دور کا المیہ یہ ہے کہ لوگ بی جے پی کے بارے میں سچ نہیں بتاتے ۔
جی ہاں گودی میڈیا تو یہ کرتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی تو سوشیل میڈیا میں بہت سارے لوگ ہیں؟
مجھے پتہ ہے لیکن وہ بھی سچ نہیں بتاتے۔ وہ بی جے پی کی غلطیوں کو مبالغے کی حد تک بڑھا دیتے ہیں۔
سر ذائقہ کے لیے تھوڑا بہت تڑکا تو لگانا ہی پڑتا ہے۔
چلو مان لیا مگر وہ احمق لوگ بی جے پی کے مخالفین کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں بلکہ کئی بار وکیل بن جاتے ہیں ۔
لیکن سر کیا جس طرح لوہا لوہے کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح جھوٹ جھوٹ کو نہیں کاٹتا ؟
جی نہیں للن جھوٹ جھوٹ کو نہیں بلکہ جھوٹ بولنے والے کو کاٹ کھاتا ہے۔
اوہو اس میں تو ہمارا اپنا نقصان ہے۔
جی ہاں یہی تو میں کہہ رہا ہوں ۔ دیکھو جھوٹ کا خاتمہ جھوٹ سے نہیں بلکہ سچ سے ہی ہوسکتا ہے۔
لیکن بی جے پی کا سچ پیش کرنے سے کیا فائدہ ہوگا ؟
اس کی قلعی کھل جائے گی۔خالص سچ جب سامنے آئے گا تو کمل ازخود مرجھا جائے گا ۔
ٹھیک ہے سر میں آپ کی بات سمجھ گیا ۔کل میں ان کے دفتر میں جاوں گا ۔
کرشنننے کہا جی ہاں اور بغیر ملاوٹ کے صرف سچ دکھانا تاکہ لوگ تم پر بھروسہ کریں ۔
جی سر بہت شکریہ ۔ آج میں نے صحافت کا سب سے بڑا سبق سیکھا ہے۔ یہ کہہ کر للن نکل گیا ۔
باہر آ کر للن نے کلن کو فون کرکے پوچھا کیوں بھائی کہاں ہو ؟
کلن نے کہا میں لینن بھون میں ہو ں۔
ارے اپنے پرانے اڈے پر کیسے پہنچ گئے ؟
یہاں وجین کی پریس کانفرنس چل رہی ہے ۔
اچھا تو میں بھی آتا ہوں ۔
دیکھو یہ ختم سے قریب ہے پھر بھی قسمت آزما کرسکتے ہو ۔
للن جب لینن بھون پہنچا تو دروازے پر کلن مل گیا۔ اس نے کہا اب کیا فائدہ ؟ سب لوگ جاچکے ۔
لیکن وجین اپنے دفتر میں موجود ہوں گے ۔ میں اپنے پرانے شناسا کی مدد سے ملاقات کا وقت لینے کی کوشش کرتا ہوں ۔
للن کا میاب ہوگیا وجین کو سلام کرکےاس نے پوچھا سر انتخاب کی کیا صورتحال ہے؟
وجین بولے اس بار ہم کانگریس کو اس بری طرح ہرائیں گے کہ اسے نانی کا دودھ یاد آجائے گا ۔
کیوں سر اس بار ایسی کون سی خاص بات ہے؟
دیکھو ایسا ہے کہ کانگریس کا بہت سارا ووٹ بی جے پی کی جا نب جاچکا ہے۔
اچھا تو کیا کیرالا میں بھی بنگال کی طرح آپ کا مقابلہ بی جے پی سے ہے ؟
جی نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ بی جے پی کو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا لیکن کانگریس ملیا میٹ ہوجائے گی ۔
لیکن سر اس طرح تو بی جے پی اقتدار سے قریب ہو جائے گی ۔
ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔ ہم اس بار کانگریس کا ہاتھ توڑ کر پھینک دیں گے ۔
لیکن سر ذرا سنبھال کر۔
کیوں ؟ ۔ آج کل ہتھوڑا چھوڑ کر ہاتھ پر مہربان ہو کیا بات ہے؟
جی نہیں سر لیکن ہتھوڑا چلانے کے لیے ہاتھ کی ضرورت تو پڑتی ہی ہے۔
یہ سبق تم مجھے پڑھا رہے ہو کیوں؟ تمہاری یہ مجال؟؟
جی نہیں لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کیرالہ کے اگلے الیکشن میں آپ کا ہتھوڑا کانگریس کےہاتھ میں چلا جائے؟
یہ ناممکن ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔
سر لیکن بنگال میں اگر ممتا کے خلاف یہ ہوسکتا ہے تو کیرالہ میں بی جے پی کے خلاف کیوں نہیں ؟
دیکھو۰۰۰ کیا نام ہے تمہارا؟ للن؟؟ تم بحث کرنے کے لیے آئے ہو انٹرویو لینے کے لیے؟
سر انٹرویو لینے کے لیے ۔
بس تو تمہارے سوالات کا جواب میں نے دے دیا ۔ اب تم جاسکتے ہو۔
للن سمجھ گیا یہ کرسی کا غرور بول رہا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہی ہوتا ہے۔ اب کس کا سر اونچا ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 457265 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2021 Views: 320

Comments

آپ کی رائے