روبرو ہے ادیب: ببرک کارمل

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
تحریر و ملاقات: ذوالفقار علی بخاری

ببرک کارمل کا شمار اُن لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اپنی بات کو بخوبی بیان کرنا جانتے ہیں اور یہی نہیں کہ صرف بات کہنا جانتے ہیں بلکہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت کرنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ بلوچستان سے موجودہ دور میں اگر ہمیں کوئی بہترین لکھنے والا ملا ہے تو ہم ببرک کارمل کا نام فخر سے بیان کر سکتے ہیں، انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے وہ رنگ اُجاگر کیے ہیں جو کہ آج تک بہت کم ہی لکھاری پیش کر سکے ہیں۔۔ببرک کارمل دل کے صاف اور سچے انسان ہیں اورکھرے انسان کی باتیں اکثر دل سے نکل کر دل و دماغ کو جھنجھوڑتی ہیں، ببرک کارمل کا لکھنا بھی کچھ ایسا ہی ہے، کم لکھتے ہیں مگرعمدہ لکھتے ہیں۔ راقم السطور نے ایک ملاقات میں چند سوالات کے جوابات لیے ہیں آپ کو ازخود سمجھ آجائے گی کہ یہ لکھاری کس قدر اپنی ذات میں سچا اورکردارمیں اعلی ہے۔

آپ کی نذر گفتگوہے، آپ کی رائے کے منتظر رہیں گے۔


سوال:آپ کو کب خیا ل آیا کہ لکھنا چاہیے؟
جواب: جب گھر میں بچوں کے رسائل بڑے بھیا نور محمد جمالی لاتے تھے تب لکھنے کا شوق پیدا ہوا تھا۔


سوال: آپ کو سب سے پہلے کس نے لکھنے پر حوصلہ افزائی دی؟
جواب: ظہور الدین بٹ ایڈیٹر ماہنامہ ذہین


سوال: اولین تحریر کی اشاعت پر کیسا محسوس ہوا تھا؟
جواب: خوشی کی انتہا نہ تھی پانچ روپے کی ریوڑیاں تقسیم کی تھی۔


سوال: آپ کے خیال میں ایک اچھے لکھاری کے مشاغل کون سے ہونے چاہیں؟
جواب: ہر اہل قلم کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ تاکہ لکھتے وقت کوئی مشکل پیش نہ آ سکیں۔


سوال:آپ کی زندگی کا سب سے خوش گوار لمحہ کون سا ہے؟
جواب۔ جب کوئی ایوارڈ ملتا ہے


سوال:آپ کے خیال میں ادب،ادیب اورمعاشرے کا آپس میں کتنا گہراتعلق ہے؟
جواب: ماں باپ جتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔۔۔ جو معاشرے کو نیک راہ پر چلانا چاہتا ہے


سوال: اپنے بارے میں بتائیں کب اور کہاں پیدائش ہوئی؟
جواب: ضلع جعفرآباد اور گوٹھ غلام محمد جمالی


سوال: آپ کے بچپن کی کوئی خا ص یاد، جو قارئین کو بتا نا چاہیں؟
جواب:بچپن کا ہر دن خاص ہوتا ہے جب کلاس میں پوزیشن حاصل کرتا تو خوشی کی انتہا کو پہنچ جاتا تھا۔


سوال:اب تک کتنی کتب /تحریریں منظر عام پر آچکی ہیں؟
جواب: تین کتابوں میں تحریر شامل ہیں جبکہ کوئی کتاب نہیں ہے ساٹھ ستر ہزار کا خرچہ عدم برداشت ہے۔ جبکہ دو سے تین ہزار کے بیچ میں تحریریں لکھیں چکا ہوں۔


سوال:آپ کی نظر میں قارئین کی پذیرائی اور ایوارڈ لکھاری کو مزید اچھا کرنے پر اُکساتے ہیں؟
جواب: جی بالکل اس میں کوئی شق نہیں کہ ہر اہل قلم کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تحریر ایوارڈ لے اڑے۔

سوال: کیا مثبت سوچ کسی کی زندگی کو بدل سکتی ہے؟
جواب: ہر اہل قلم کو چاہیے کہ کہ وہ مثبت سوچ کی تحریر لکھیں تاکہ ان کی تحریر سے کسی نہ کسی کی سوچ بدل کر نیک اعمال کی طرف راغب ہو جائے۔


سوال: ایک اچھے لکھاری /ادیب میں کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے؟
جواب:نیک بننے کے ساتھ معاشرے کے حق اور سچ کو لکھ سکیں


سوال: آپ کے مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟
جواب: مستقبل کے ارادے کچھ خاص نہیں ہے جو لکھا جتنا لکھا ان تحریروں کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں بنا کر شئیر کرنا چاہتا ہوں۔


سوال: آپ کے خیال میں کس طرح سے بچوں کو رسائل وجرائد اورکتب بینی کی جانب مائل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: سوشل میڈیا پر نئے اہل قلم کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کتب بینی کا شوق خود بخود بڑھ جائے گا۔

سوال: کیا ہر لکھنے والے کے لئے صاحب کتاب ہونا ضروری ہے؟
جواب: نہیں اہل قلم کو اچھا لکھنا چاہیے اس کے قلم کے قصیدے در در پر ہو کتاب تو وہ لوگ بھی لکھتے ہیں جن کی ایک تحریر بھی رسالہ جات میں نہیں چھپی ہے


سوال: آپ کے خیال میں کوئی مخصوص کردار تخلیق کرکے لکھاری کو اپنی پہچان بنوانی چاہیے؟
جواب: جی بالکل


سوال: کیا آپ کو آپ کی تحریروں سے سمجھا جا سکتا ہے؟
جواب: جی بالکل ہر اہل قلم کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے


سوال: آپ نے سفرنامے لکھے ہیں،یہ بتائیں کہ اس دوران کیا سیکھنے کوملا ہے؟
جواب: سفر نامے بہت مقبول رہے ہیں میں نے پچاس سے زائد روزنامہ پاکستان اور پچاس سے زائد سفرنامے روزنامہ ایکسپریس کے لیے لکھے ہیں یہایہ تجربہ رہا مگر سفرنامے کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں۔۔۔۔ فی قسط کا خرچہ بھی بندہ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔


سوال: آپ کے خیال میں کیا لکھاری ایک دوسرے سے کوئی عناد رکھتے ہیں؟آپ کا کوئی ایسا تجربہ ہوا کہ جب آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو؟
جواب: مجھے سب سے زیادہ دکھ اس وقت پہنچا جب میرے پچاس بلاگ ہم سب نے ہٹا دیئے تو میں بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیا تھا


سوال: اپنے قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: نیک بننے کے ساتھ نیکی بھی پھیلانا شروع کرو تاکہ اہل زمین والے آپ سے خوش ہو

آپ کے قیمتی وقت کا بے حد شکریہ۔
۔ختم شد۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 328 Articles with 274995 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
30 Mar, 2021 Views: 133

Comments

آپ کی رائے