مُطالباتِ مُعجزات و مُکالماتِ مُعجزات !

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورةُالاَسرٰی ، اٰیت 90 تا 96 ازقلم مولانا اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
و
قالوالن
نؤمن لک
حتٰی تفجرلنا
من الارض ینبوعا
90 اوتکون لک جنة من
نخیل وعنب فتفجرالانھٰر خلٰلھا
تفجیرا 91 او تسقط السماء کما زعمت
علینا کسفا او تاتی باللہ والملٰئکة قبیلا 92
اوتکون لک بیت من زخرف او ترقٰی فی السماء ولن
نؤمن لرقیک حتٰی تنزل علینا کتٰبا نقرؤہ قل سبحان ربی ھل
کنت الا بشرا رسولا 93 ومامنع الناس ان یؤمنوا اذجاء ھم الھدٰی الا
ان قالواابعث اللہ بشرارسولا 94 قل لوکان فی الارض ملٰئکة یمشون مطمئنین
لنزلناعلیھم من السماء ملکارسولا 95 قل کفٰی باللہ بینی و بینکم انہ کان بعبادہٖ خبیرا
بصیرا 96
اے ھمارے رسول ! مُنکرینِ قُرآن نے آپ سے کہا ھے کہ ھم اُس وقت تک قُرآن پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ زمین سے ھمارے لیۓ ایک شفاف چشمہ نہ جاری کر دیں ، اگر آپ ھمارے لیۓ یہ شفاف چشمہ جاری نہیں کرتے تو پھر اپنے لیۓ اَنگُور اور کھجُور کا کوئی ایسا مُعجزاتی باغ ہی تیار کرکے ہمیں دکھا دیں جس میں آپ کے حُکم سے اُس باغ کو سیراب کرنے والی نہریں بہنے لگیں ، اگر آپ اپنے اور ھمارے لیۓ کوئی ایسی مُعجزاتی آسائشیں پیدا نہیں کر سکتے تو پھر آپ جس آسمانی عذاب سے ڈرا کر ہمیں اپنا بَھرم دکھاتے رہتے ہیں ھم پر اُس عذاب کو لانے کے لیۓ آسمان کو ٹُکڑے ٹُکڑے کرکے ھم پر گرادیں یا اللہ کو اور اُس کے فرشتوں کو ھمارے سامنے لے آئیں یا پھر آپ اپنے لیۓ ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر ایک سونے کا گھر کھڑا کردیں یا پھر آپ ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چڑھ جائیں اور آسمان سے ھمارے پڑھنے کے لیۓ ایک آسمانی نوشتہ لے کر آجائیں اور اے ھمارے رسول ! آپ اِن مُعجزاتی مطالبہ کاروں سے صاف صاف کہہ دیں کہ میرے رَب کے لیۓ تو یہ سارے کام بہت آسان ہیں لیکن اِن کا کرنا یا نہ کرنا اُس کے اپنے اختیار میں ھے ، میں زمین پر صرف اُس کا ایک نمائندہ ہوں اُس کا مشیر ہرگز نہیں ہوں ، جب ہر ایک زمانے کی ہر ایک زمین پر اللہ کے ہر ایک نبی نے مُنکرینِ قُرآن کے ہر ایک اعتراض کا جواب دے دیا تو ہر زمانے کے ہر مُنکرِ قُرآن نے اپنا یہ آخری اعتراض پیش کیا کہ اگر اللہ نے ھم پر اپنا کوئی ھادی مامُور کرنا ہی تھا تو اُس نے اپنے کسی آسمانی فرشتے کے بجاۓ ھم پر ھماری زمین سے ھماری طرح کا ایک انسان ہی کیوں مامُور کردیا ھے ، اے ھمارے رسول ! آپ اِن لوگوں کو بتائیں اور سمجھائیں کہ اگر زمین پر فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے تو ھم اُن کی ھدایت کے لیۓ اُن کے پاس کسی فرشتے ہی کو نبی بنا کر بہیجتے لیکن زمین پر چونکہ انسان آباد ہیں اِس لیۓ ھم نے زمین پر ایک انسان ہی کو اپنا رسول بنا کر مامُور کیا ھے اور آپ اِن لوگوں پر یہ بات بھی واضح کردیں کہ میں نے اللہ کا جو پیغام تُم کو دیا ھے اور تُم نے اُس پر جو رَدِ عمل ظاہر کیا ھے وہ اللہ کے علم میں ھے اِس لیۓ میں اپنی پُکار اور تُمہارے انکار پر اُسی اللہ کو اپنا گواہ بنا رہا ہوں جو ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ اپنے بندوں کے جُملہ اعمال و افعال کا نگران کار ھے !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
اٰیاتِ بالا کا موضوعِ سخن مُعجزہ ھے اور مُعجزے کی اَصل عُجز ھے جس کا مقصدی معنٰی کمزور کرنا یا کم زور ہونا ہوتا ھے اِس لیۓ تاریخِ مُعجزات کی ہر کہانی میں مُعجزہ دکھاکر حیران کرنے والے کو فتح یاب اور مُعجزہ دیکھ کر حیران ہونے والے کو شکست یاب سمجھا جاتا ھے ، دورِ جاہلیت میں مُعجزہ اُس مُشکل عمل کو کہا جاتا تھا جس مُشکل عمل کا کرنے والا اپنے مُعجزاتی عمل کے دیکھنے والوں عاجز کر دیتا تھا اور اُس کا وہ مُعجزاتی عمل دیکھنے والے عاجز ہو جاتے تھے ، دورِ جہالیت کی کوئی قوم جب کسی نبی سے مُعجزے کا مطالبہ کرتی تھی تو اُس کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ اللہ کا جو نبی اُن میں ظاہر ہوا ھے وہ یا تو اُن کو اُن کی مرضی کا کوئی مُعجزہ دکھا کر اتنا عاجز کردے کہ وہ قوم اُس نبی کی دعوت کو قبول کر لے اور یا وہ اُس عمل کی اَنجام دہی سے انکار کر کے اُس قوم کی نظر میں خود اتنا عاجز ہو جاۓ کہ اُس قوم میں اُس قوم کے خیال یا خواہش کے مطابق اُس نبی کی دعوت کا جواز ہی ختم ہو جاۓ ، مُنکرینِ حق کی اُس قوم کا دُوسرا مقصد اپنے زمانے کے نبی کو یہ چیلنج دینا ہوتا تھا کہ تُم جو خود کو اللہ کا نبی اور رسول کہتے ہو اگر اُس قوم کے ہاتھ پیر باندھ کر اُس کو اپنی دعوت قبول کرنے پر آمادہ کر سکتے ہو تو کر لو اور اگر تُم ایسا نہیں کر سکتے تو پھر اُس قوم میں اپنی دعوت بند کر دو ، دورِ جاہلیت کی اُن اَقوامِ جہالت کا تیسرا مقصد اپنے زمانے کے نبی اور رسول پر یہ ظاہر کرنا ہوتا تھا کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے وہ تُم بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ھم ایک ہی طرح کے انسان ہیں اور اگر ھم ایک طرح کے انسان ہیں تو اللہ نے جو نبوت و رسالت تُم کو دی ھے وہ ھم کو کیوں نہیں دی اور چونکہ اللہ نے یہ نبوت و رسالت ھم کو نہیں دی ھے اِس لیۓ ھم سمجھتے ہیں تُم کو بھی نہیں دی ھے ، آخر تُم میں ھم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ھے کہ اللہ نے تُم کو نبوت و رسالت دی ھے اور ھم میں وہ کون سی خرابی ھے کہ اللہ نے نبوت و رسالت ھم کو نہیں دی ، اِس لیۓ ھمارے نزدیک ھمارے درمیان سَچ اور جُھوٹ میں فرق کرنے کی یہی ایک صورت ھے کہ تُم ہمیں ھماری مرضی کا کوئی مُعجزہ دکھاؤ جس کو دیکھ کر ھم تُمہارے دعوے کی تصدیق کر سکیں ، اِس پَس منظر میں کسی قوم کی طرف سے کسی نبی یا رسول سے مُعجزے کا مطالبہ اُس نبی یا رسول کی دعوت قبول کرنے کے لیۓ نہیں ہوتا تھا بلکہ اُس کی دعوت کو رد کرنے کے لیۓ ہوتا تھا ، قُرآنِ کریم جب کسی قوم کی اِس مُعجزانہ کٹ حُجتی کا ذکر کرتا ھے تو بہت اختصار کے ساتھ اُس قوم کی ایک آدھ کٹ حُجتی ہی کا ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتا ھے لیکن قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا میں ایک ہی مقام پر اُن مُتعدد نام نہاد مُعجزوں کا ذکر کیا ھے جو اُس قوم نے کیۓ تھے اور اِس کثرت کی وجہ بنی اسرائیل کی وہ تاریخ ھے جس میں مطالباتِ مُعجزات اور مُکالماتِ مُعجزات بہت کثرت کے ساتھ ہوا کرتے تھے کیونکہ اُس تاریک زمانے کے شُعبدہ باز کاہنوں نے لوگوں کو اِن اَن ہونی چیزوں کا اتنا عادی بنا دیا تھا کہ بنی اسرائیل و اَبناۓ بنی اسرائیل بات بات پر اپنے زمانے کے نبی یا رسول سے مُعجزے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے اور جب سیدنا محمد علیہ السلام کا دور آیا تو دین کے اُن پرانے مُنکروں کی زبان پر وہی پرانے مُعجزے ایک نئی صورت میں آنے لگے اور اٰیاتِ بالا کے مضمونِ بالا کے مطابق سیدنا محمد علیہ السلام سے اُن لوگوں نے معجزات کے جو مطالبات کیۓ اُن مطالبات میں پہلا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ھمارے سامنے زمین سے ھمارے لیۓ پانی کا ایک شفاف چشمہ جاری کریں جس کو ھم بچشمِ خود وجُود میں آتے ہوۓ دیکھیں اور اُس کا پانی بھی پی سکیں ، اُن کا دُوسرا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے لیۓ اَنگُور اور کھجُور کا ایک باغ پیدا کریں جس میں پانی کی نہریں بھی موجُود ہوں ، اُن کا تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ آپ آسمان کو ٹُکڑے ٹُکڑے کرکے ھمارے سروں پر گرادیں جس سے ھم ہلاک ہو جائیں ، چوتھا مطالبہ یہ تھا کہ آپ اللہ کو اور اللہ کے فرشتوں کو ھمارے سامنے لے آئیں ، پانچواں مطالبہ یہ تھا کہ ھمارے سامنے اور ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے لیۓ ایک عالی شان سونے کا محل کھڑا کردیں ، چَھٹا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ھمارے سامنے آسمان پر جائیں اور وہاں سے ھمارے لیۓ ایک نیا نوشتہِ ھدایت لے کر آئیں تاکہ ھم اُس پر ایمان لائیں لیکن اللہ نے اپنے رسول کو حُکم دیا کہ آپ اِن مُنکرینِ قُرآن سے کہیں کہ یہ سب باتیں اللہ تعالٰی کے لیۓ بہت آسان ہیں لیکن میں اللہ کا ایک نمائندہ ہوں اور میں نہ تو یہ مطالبہ پُورا کرسکتا ہوں اور نہ ہی تُمہارے مطالبات پر کا دھر سکتا ہوں ، قُرآن کریم بتاتا ھے کہ ہر زمانے کی ہر قوم نے اپنے ہر نبی سے یہی مُعجزاتی مطالبات کیۓ ہیں اور ہر زمانے کے ہر نبی نے اِن کے وہی جوابات دیۓ ہیں جو قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا میں نقل کیۓ ہیں ، مزید براں قُرآنِ کریم نے یہ بھی بتایا ھے کہ جب ہر زمانے کی ہر قوم کو اللہ کے ہر نبی نے اپنے اپنے زمانے میں اِن سارے مطالبات کے جوابات دے دیۓ جن کا اٰیاتِ بالا میں ذکر کیا گیا ھے تو اِن اَقوام نے اپنے اپنے زمانے کے نبی سے یہ آخری سوال نما مطالبہ یا مطالبہ نما سوال بھی کیا ھے کہ اللہ تعالٰی نے اہلِ زمین کے پاس اپنے کسی فرشتے کو نبی بنا کر کیوں نہیں بہیج دیا تو اِن کو بتایا گیا کہ اللہ کا قانون یہ ھے کہ جس مقام پر جو مخلوق آباد ہوتی ھے اُس مقام کی اُس مخلوق میں اُسی مخلوق کے ہم جنس نبی کو بہیجا جاتا ھے اور اِس زمین پر چونکہ انسان آباد ہیں اِس لیۓ اِس میں انسان ہی نبی بنا کر بہیجے گۓ ہیں ، اِس تفصیل سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ھے کہ جس بے عقل قوم کے پاس اپنی بات بیان کو مُدلل بنا نے کے لیۓ کوئی دلیل نہیں ہوتی وہ اسی قسم کے خیالی پلاؤ پکاتے پکاتے اور کھاتے کھاتے فنا کے گھاٹ اُتر جاتی ھے اور دُوسری بات یہ معلوم ہوتی ھے کہ اللہ کی یہ عظیم کتاب جو قُُرآن کی صورت میں ھمارے زمانے تک آئی ھے وہ اُس آسانی سے نہیں آئی ھے جو آسانی ھمارے فکر و خیال میں آسکتی ھے اور اِس کتاب کا عملی نفاذ بھی اتنا آسان نہیں ھے جتنا ھم سوچ سکتے یا خیال کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ھم سمجھ سکتے ہیں کہ جس قوم کی عُمر جتنی طویل ہوتی ھے اُس کی کتاب کی عُمر بھی اتنی ہی طویل ہوتی ھے اور اِس آخری اُمت کی چودہ پندرہ سو سالہ زندگی کوئی اتنی طویل زندگی نہیں ھے کہ انسان اِس کتاب کے عملی نفاذ اور نفوذ سے مایوس اور دل برداشتہ ہوجاۓ اور تیسری بات جو اِس تفصیل سے معلوم ہوتی ھے وہ یہ ھے کہ معجزات کبھی بھی حق کا معیار نہیں ر ھے ، اگر معجزات حق کا معیار ہوتے تو ہر زمانے کی ہر زمین پر اِن مُعجزات کا ظہور ہوتا رہتا لیکن قُرآن جو دلیل و بُرہان کی کتاب ھے وہ مُعجزات کی اِس معجزاتی تاریخ کی نفی کرتی ھے اور صرف دلیل و بُرہان ہی کو حق کا معیار قرار دیتی ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 298 Articles with 100128 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
04 Apr, 2021 Views: 77

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ