تعریف کے ایک جملے کی جادوئی طاقت

(Dua Khan, )

پھوہڑ،کوجھی،بلا،کالی کلوٹی،ڈایئن،بیوقوف پتا نہیں اس سوکھی کانٹا میں کیا دیکھا تھا اماں نے جو میریسر تھوپ دیا۔۔۔ا اگر ٹرین نکل جاتی تو۔۔۔۔ڈھیلی گایئے۔۔رمضان سکینہ کو کوستا ہواسیٹ کے نیچے سامان رکھ کر سیٹ پر سکینہ سے قدرے قدرے فاصلے پر بیٹھا جیسے کے سکینہ اس کی بیوی نہیں بلکہ اچھوت ہو۔۔۔۔۔ یہ پہلی دفع نہیں تھا کہ سکینہ کو اتنی باتیں سننی پڑ رہی تھیں ان کی شادی کو پورے دو سال گزر گیئے تھے لیکن اب تک سکینہ رمضان کے دل میں جگہ نہ بنا پایئی تھی۔۔۔وہ ہر وقت اسی طرح اس کو کوستا رہتا۔۔۔یوں تو وہ اس عزت افزایئی کی عادی ہوچکی تھی لیکن آج اسے بہت دکھ ہوا اور شدت سے اپنی بے عزتی کا احساس ہوا کیونکہ سامنے سیٹ پر بیٹھا نوجوان جو بظاہر برگر کھانے میں مصروف لگ رہا تھا لیکن اس کا پورا دھیان ان دونوں پر تھا۔۔وہ نوجوان اس کی طرف دیکھ رہا تھا نہ جانے کیا تھا اس کی آنکھوں میں۔۔۔۔سکینہ نے سوچا یہ ضرور میری بدصورتی کو دیکھ رہا ہوگا۔۔۔میرا چھایئیوں سے بھراکالا چہرہ۔۔۔۔سوکھا سڑا جسم۔۔۔روکھے بال۔۔۔اس نے سوچا اتنی بدصورت عورت اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی اس لییئے تو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔۔سکینہ نے فورا چہرہ دوسری طرف کر لیا اور آنکھوں میں آیئے آنسویئوں کو دوپٹے کے پلو میں سمو ڈالا۔۔۔ٹرین اپنی ہی رفتار سے چھکا چھک چھکا چھک بولتی جارہی تھی۔۔۔ رمضو سونے کے لییئے برتھ پر چلا گیا۔۔۔ سکینہ کھڑکی سے باہر اپنی قسمت جیسی کالی رات کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اداس۔۔۔بیابان۔۔خا موش۔روشنی کی تلاش میں سرگرداں سی۔۔۔ کسی ان چاہی،ان دیکھی دلہن کی طرح۔۔ایسی ہی رات تھی جب سکینہ دلہن بنی ہویئی تھی اور گھونگھٹ اٹھانے کے بعد رمضان کا وہ تحقیر والا لہجہ اور وہ الفاظ وہ کبھی نہیں بھولسکتی۔۔۔اس کے لہجے کی اور الفاط کی بدصورتی نے سکینہ کو ایسا بنا دیا کہ اس کے بعد سکینہ کو آیئینہ دیکھنے سے ہی نفرت ہوگیئی۔۔سکینہ ماضی میں کھویئی ہویئی تھی جبکہ اس کے آنسو متواتر اس کی آنکھوں سے اس کے گالوں تک اور گالوں سے اس کے دوپٹے کے پلو تک کا سفر طے کر رہے تھے۔۔۔۔ پھر نجانے کب اس کی آنکھ لگ گیئی اور آنسووں کو آرام ملا لیکن چند ایک ہچکی اس کے سونے کے دوران اس کی اندرونی کیفیت کی داستان سنانے آجاتی۔۔۔سامنے بیٹھا خوبرو نوجوان اسے مسلسل دیکھ رہا تھا۔۔۔محسوس کر رہا تھا۔۔۔

ٹریں کسی حسینہ کی طرح نزاکت کے ساتھ دھیرے دھیرے رکی تو ٹرین کے اندر اور باہر گہما گہمی شروع ہوگیئی۔۔۔پاپڑ کرارے پاپڑ۔۔چایئے والا بھیئی چایئے والا۔۔۔آنڈے گرم آنڈے۔۔۔۔ان آوازوں سے سکینہ کی آنکھ کھل گیئی۔۔۔شاید یہ سکھر کا اسٹیشن تھا۔۔۔کچھ مسافر اپنی منزل پر پہنچنے پر سامان کو سیٹوں کے نیچے سے نیکال رہے تھے اور کچھ جو چڑھے تھے اپنے سامان کو سیٹ کر رہے تھے۔۔۔۔نوجوان نے بھی نیچے سے اپنے واحد بیگ کو اپنی طرف کھینچا اور کندھے پر لٹکا دیا۔۔۔اس نے جانے سے پہلے دوپٹے میں لپٹی سکینہ کو دیکھا جو کسی خزاں کے سوکھے پیڑ کی نیم زندہ حالت کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔ سکینہ کو اس نوجوان کی آنکھوں کی حرارت محسوس ہویئی تو اس نے نا چاہنے کے باوجود اس کی طرف دیکھا۔۔۔اس نے اس کی آنکھوں میں وہ دیکھا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا سمندر تھا جو سکینہ کو اپنے ساتھ بہایئے لے جا رہا تھا۔۔۔ اس کا دل نجانے خوش تھا۔۔حیران تھا۔۔۔یا بے یقینی میں تھا۔۔۔

اس نوجوان کے جانے کے بعد سکینہ کھڑکی سے باہر اس امید کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ شاید وہ اسے پھر سے نظر آجایئے کہ اچانک سے اس کی دعا ایسے قبول ہویئی جیسے زندگی میں اس نے پہلی دفع دعا مانگی ہو۔۔۔نوجوان کھڑکی کے پاس آیا اور دھیرے سے کہا تم بہت خوبصورت ہو یہ الفاظ سکینہ کے لیئیے ایسے تھے جیسے کسی برسوں پیساسے صحرا میں بارش۔۔۔اس کے دل کی پیسی زمین کو ایک جملے نے ہی سیراب کر دیا۔۔اس کے دل کی خزان زدہ بنجر زمین جیسے ایک ہی لمحے میں زرخیز اور بہار کے پھولوں سے مہک گیئی۔۔وہ الفاط نہیں تھے ایک گیت تھا جسے سننے کو اس کے کان کب سے کان لگایئے کھڑے تھے۔۔۔ وہ الفاط سچ تھے یا جھوٹ اس کو نہیں جاننا تھا کیونکہ اس نوجوان کی آنکھیں ایسی گواہی دے رہی تھیں کہ پوری دنیا بھی اسے جھٹلاتی تو اس کا دل اس کے سچے ہونے کو تسلیم کرلیتا۔۔۔۔پہلی دفع اس نے اپنے بارے میں ایسا سنا تھا۔۔وہ تو جیسے سکتے میں آگیئی۔۔۔ ٹرین چل پڑی سکینہ کھڑکی سے اس نوجوان کو دیکھتی رہی۔۔۔اس کی آنکھیں بول رہی تھیں:تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔ٹرین چلتی رہی نوجوان منظر سے آہستہ آہستہ غایئب ہوگیا لیکن اس کے الفاظ تم بہت خوبصورت ہو جیسے ہمیشہ کے لییئے ساتھ رہ گیئے۔۔۔

پورے چھ ماہ بعد سکینہ رمضان کے ساتھ کراچی سے ماچھی گوٹھ واپس عید کرنے آیئی تھی۔۔۔سب حیران تھے وہ اب پہلے والی سکینہ نہیں رہی تھی۔۔۔چھایئیوں کی جگہ صاف ستھرا چمکدار گندمی رنگت والا چہرہ تھا۔۔۔ویران۔روتی آنکھوں کی جگہ بولتی مسکراتی روشن آنکھیں تھیں۔۔۔سیاہ بال اب روکھے نہیں بلکہ ریشمی سیاہ اور سلیقے سے بندھے ہویئے تھے۔۔۔سوکھا سڑا جسم اب کسی دوشیزہ کے بھرے بھرے جسم میں بدل گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ اس کی خوشی اور خوشبختی کا اعلان کر رہی تھی۔۔۔سبھی پوچھ رہے تھے کیا وجہ ہے سکینہ تم تو بہت خوبصورت ہو کر آیئی ہو؟۔۔۔یہ سب کیسے ہوا؟ کیا رمضان بھایئی نے اتنا پیار دیا کہ تم خوبصورت ہوگیئی؟۔۔۔۔سکینہ ہنسی۔۔۔خوب ہنسی۔۔۔اس ہنسی میں کچھ عجیب تھا۔۔۔اداسی تھی۔۔۔طنز تھا۔۔۔یا شاید بے یقینی۔۔۔لیکن اس کا جواب تھا ہاں۔۔۔۔۔۔کیا اب تم بھی اس سے پیار کرتی ہو؟ سکینہ کو اس چھلاوے کا خیال آیا۔۔۔اس کی آواز آیئی تم بہت خوبصورت ہو ۔۔۔وہ ہنسی۔۔۔خوب ہنسی۔۔۔اس بار ہنسی میں یقین تھا۔۔۔خوشی تھی۔۔پیار تھا۔۔۔اس نے شرما کر جواب دیا ہاں
تحریر: عزرا بنت جنت

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: azra faiz

Read More Articles by azra faiz: 39 Articles with 45501 views »
I belong to a baloach family .I born in a village ,got my primary education under a tree and higher education from the well reputed institute in Karac.. View More
07 Apr, 2021 Views: 328

Comments

آپ کی رائے