بوسیدہ الماری کا شکوہ

(Abu huraira, Quaidabad Diatrict Khushab)

ابوہریرہ نے میری طرف نظر اٹھائی اس سے پہلے کہ میرے دل میں لڈو پھوٹتے اور میں خوشی سے اچھل پڑتی کہ بہرطور خاطر سے یا لحاظ سے انہیں میری یاد تو آئی، مگر میری خوشی فوراً سے پہلے ہوا ہو گئ کہ انہوں نے موبائل عین سامنے لاتے ہوئے کلک کیا، لازمی بات ہے کہ تصویر کھینچی ہوگی اور ایک بار پھر سے موبائل پہ جھکے کچھ لکھنے میں مشغول ہو گئے ہیں_

میں ہریرہ کی الماری آپ سے مخاطب ہوں۔۔۔۔
اور یہ الماری کے مالک ہریرہ ہیں جو " داستانِ الماری " قلمبند کرتے ہوئے میری شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں بھلے مجھ سے استفادہ کیے ہوئے انہیں عرصہ بیت چکا ہے_

میں انکے اصل یعنی علمی خزانے کی رازدان ہوں کہ میرے اندر کئ راز پوشیدہ ہیں اگرچہ بذاتِ خود میں بوسیدہ ہو چکی ہوں_ انکے سکول، کالج اور یونیورسٹی کی درسی کتابیں میرے اندر محفوظ ہیں، انکے نوٹس، اسائنمنٹس، رجسٹر کہ جس کے ہر دوسرے صفحے پہ کوئ شعر اور کوئی بے ہنگم سطر بمع تاریخ درج ہے_ ہر سطر یا شعر کے پیچھے ایک قصہ و کہانی، سنہرے واقعات اور سہانی یادوں کی داستان پنہاں ہے_ جب کبھی " صاحبِ الماری " کو پرانی یاد ستائے تو یہ الماری کھول کر گزرے ہوئے لمحات کو یاد کرتے ہیں تو کسی الگ کیفیت میں چلے جاتے ہیں_

علاوہ ازیں مختلف چیزیں ہیں مثلاً ڈائری، لغات، چند دو چند تصویری یادیں، ایک دو ناولز، شمارے، پرانے ٹیسٹ ( کہ جنکے اوپر انکے میل و فیمیل اساتذہ کرام کے دستخط ہیں ) ڈیٹا کیبل، پین، اے فور پیجز، دعوتی رقعے، اخباروں کی کترنیں، مختلف اکیڈمیز کے اشتہارات، میگزین کے غزلوں والے صفحات، اور خراب ہینڈ فری بھی میں نے اپنے اندر سمو رکھے ہیں_ میں ایک نعمتِ خداوندی سے کم نہیں کہ میرے اندر ڈھیروں چیزیں محض اس لیے محفوظ کی جاتی ہیں کیوں کہ وہ میرے اندر اوپر نیچے ترتیب سے رکھی جا سکتی ہیں_

میں قریباً بوسیدہ ہو چکی ہوں، زمان و مکاں کے تغیرات اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں نے مجھ وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے_ اب تو میری چمک دمک ماند پڑ چکی ہے اور میں ہر وقت گرد سے اٹی رہتی ہوں، جب دل کرے تو ہفتے میں دو دو بار بھی صفائی کر دیتے ہیں اور کبھی تو یہ ہوتا ہے مہینوں گرد و غبار سے آلود رہتی ہوں مگر میری پرواہ نہیں کرتے_

مجھے ان سے سخت گلہ ہے کہ یہ مجھ سے بہت دور ہو چکے ہیں ضرورت کے علاوہ یہ مجھے پوچھتے تک نہیں_ یہ ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہتے ہیں مگر میری جانب ان کا التفات کم ہی ہوتا ہے بلکہ میری ہی گناہ گار آنکھوں کے سامنے موبائل پہ لگے رہتے ہیں اور حقیقت بات یہ ہے کہ جتنی توجہ یہ موبائل کو دیتے ہیں میں تو موبائل سے حسد کرنے لگی ہوں_ میری جانب توجہ مبذول کیجئیے اس سے پہلے کہ آپ کی واپسی کی امنگ انتقال کر جائے_

برملاکہتی ہوں کہ موبائل کی ایجاد نے ہماری رونقیں چھین کر ہمیں ویران و سنسان کر رکھا ہے کہ پہلے پہل تو یہ سب ہمارے آس پاس جھمگٹا بنائے ناول اور کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں آباد و شاد رکھا کرتے تھے مگر اب تو ہر چیز موبائل نے آسان کر دی ہے اور ہم حسرت و یاس کی تصویر بنے شوپیس کے طور پہ گھروں اور دفاتر میں سجائی جاتی ہیں کہ جسے دیکھ کر لوگ ظاہری طور پہ تو خوش ہوتے ہیں مگر روحانی اثر و خوشی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا _
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu huraira

Read More Articles by Abu huraira: 3 Articles with 758 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2021 Views: 531

Comments

آپ کی رائے