سہانا دور، روحانی رشتے

(Abu huraira, Quaidabad Diatrict Khushab)
پرانے دور کی یادوں پہ مشتمل تحریر۔۔۔ جو کہ روزنامہ اسلام مین شائع ہو چکی ہے_

روزنامہ اسلام
ابوہریرہ
( یہ تحریر شئیر کر چکا ہوں )
پرائمری تک میں اپنے شہر کے گورنمنٹ سکول میں پڑھا_ کیا ہی سہانا اور معصومانہ دور تھا کہ جسے بھلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے__
مجھے آج بھی یاد ہے کہ کبھی ٹاٹ پہ تو کبھی گیلی مٹی ( سکول کے ملازم صبح صبح پورے سکول میں پائپ سے پانی کا چھڑکاوُ کر لیا کرتے تھے ) پہ بستہ سامنے رکھے پڑھ رہے ہوتے تھے کہ اچانک استاذ جی کی زور دار آواز گونجتی اور ہم اسی طرح بیٹھے بیٹھے رخ موڑ کر قطاریں بنا لیا کرتے تھے_
اور پھر املا کا دور چلتا تو کبھی درمیان درمیان سے گنتی لکھوای جاتی جنھیں عرفِ عام میں" ٹوکویں" بولا جاتا تھا__
استاد اسماعیل صاحب کی عادت تھی وہ بڑے اونچی اور رعب دار آواز کیساتھ الفاظ کو لمبا کر کے بولتے اور لکھنے کو کہتے_انکا وہ ایک لفظ ابھی بھی میرے دماغ میں گونجتا ہے تو چہرے پہ مسکان سی آ جاتی ہے ۔۔۔۔

" لکھو۔۔۔۔لمباااااااا تڑنگاااااا ۔۔۔۔۔۔"

جو پہلے ہی " لمبا تڑنگا "ہے اسے کھینچ کر مزید ایک فٹ لمبا کر دیتے تھے اور ہم بڑی مشکل سے ہنسی دباتے تھے وگرنہ وہ پیٹ میں چونڈی ڈالتے اور جوں جوں چونڈی کی گرفت مضبوط ہوتی جاتی اور وہ مروڑتے تو جو پیٹ میں جو ہلچل مچتی ہم آہستہ آہستہ پاوں کی تلیوں سے ہوتے ہوے ایڑھیوں پہ آ جاتے اور اوپر کو لٹکے دعا کرتے کہ یااللہ اب تو چھوڑ دیں۔۔۔۔
تختی لکھنے کی مشق دن میں دو بار کروائ جاتی تھی_ گھر سے الگ لکھ کے لانا ہوتی تھی اور سکول میں الگ سے لکھوائ جاتی_ قلم کا " ٹُکا " یعنی کٹ ( قلم کی نوک کو کاٹنا ) ہمیشہ اپنے استاد لگوایا جاتا تاکہ لکھائ اچھی بنے_ سکول میں ایک بڑی حوض نما نالی ہوتی تھی اور ہم سب اس پانی سے تختی دھویا کرتے، گاچی لگا کر پھر اس تختی کو خشک کرنے کا عمل بڑا دلچسپ ہوا کرتا تھا_
تختی لیکر میدان میں آ جاتے اور تختی والا بازو تین سو ساٹھ کے زوایے پہ ہر طرف گھماتے اونچی آواز میں لہک لہک کر گایا کرتے؛

" تختی تختی۔۔۔۔ دو دانے
نئ سُکدی تے ۔۔۔چل تھانے
تھانے والا دوور
میں ماری بندوق
بندوق گئ ٹٹ
تختی گئ سُک "

"سسک سک سکا دے
یاراں بٹے لا دے
ہک بٹا لوہے دا
پانی پیںواں ٹوہے دا
ٹوہے وچ کپی
میری تختی سکی"

پھر دو دوستوں کی تختیاں ایک دوسرے کیساتھ ایسے کھڑی کی جاتیں جیسے گلے مل رہی ہوں، سورج کی بلا واسطہ پڑتی شعاعوں کی بدولت تختی ویسے ہی سوکھ جاتی تھی لیکن ہمارا یقین تھا کہ یہ تختی ہمارے پڑھے گئے منتر کی وجہ سے جلد خشک ہوئ ہے_

پانچویں کلاس میں ہمارے استاد سرفراز صاحب نے خوش خطی سے تختی لکھنے والوں کیلیے روزانہ کی بنیاد پہ پانچ روپے انعام مقرر کیا تھا__ کافی تگ و دو کے بعد آخر ایک دن میں بھی " فاتحِ خوش خط " ٹھہرا اور پانچ روپے انعام پایا__
قلم دوات کی خوشبو، لنچ باکس کی خوشبو، گیلی مٹی کی سوندھی خوشبو کہ جب اس پہ بیٹھتے، نئ کتاب سے آنے والی خوشبو، الغرض کہ ہر خوشبو الگ سے ذہن میں رچ بس کر سمائ ہوئ ہے__
پھر چھٹی سے دس منٹ پہلے لائک میں کھڑ کیا جاتا، ایک بچہ جسکی آواز بلند ہوتی وہ سامنے آتا اور پنجابی میں گنتی اور پہاڑے کہلواتا، زرا تصور تو کیجیے وہ ماحول کہ جب سکول کا لان اس آواز سے گونج رہا ہوتا تھا،

"دس ایک یاراں
دس دو باراں
دس تِن تیراں "

پھر پہاڑوں کی باری آتی

" اک دونی دونی
دو دونی چار "

ادھر ٹن ٹن ہوتی اور ادھر " چھٹیییی " کی آواز کیساتھ دوڑیں لگ جاتیں_ تب ایک شہر کے باسی ایک گھر کی طرح ہوتے تھے اور بازار میں ہر دکاندار باپ اور چچا ہوا کرتا اور ہم واپسی پہ دکانوں کے سامنے رکھے سرخ کولر سے پانی پیتے تشنگی دور کرتے ہوے گھر کی راہ لیتے_

مخلص استاد تھے اور ہمیشہ کچھ سکھانے کی تگ و دو میں رہا کرتے جنھیں کسی قسم کا غرض اور لالچ نہ ہوتا تھا اور اپنے پیشے سے مخلص ہوا کرتے تھے_اس روحانی رشتے کی روحانیت واضح محسوس ہوا کرتی تھی اور آج بھی اسکی برکات کے نظارے اکثر دیکھنے کو مل جاتے ہیں اور بے اختیار اپنے اساتذہ کیلیے دعا نکلتی ہے_
ابوہریرہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu huraira

Read More Articles by Abu huraira: 3 Articles with 808 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2021 Views: 120

Comments

آپ کی رائے