بچوں کا ادب کیساہو؟

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
ذوالفقار علی بخاری


برقی پتہ: [email protected]


ادب اطفال سے مراد بچوں کے لئے لکھاجانے والا ادب ہے جو اُن کی دل چسپی کے مطابق ہوتا ہے جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں اورتفریح بھی حاصل کرتے ہیں۔


بچوں کے لئے ایسا ادب ہونا چاہیے جو کہ اُن کی کردار سازی میں معاون ہو سکے۔


دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کچھ معیوب جملے اور عنوانات کے تحت بچوں کے لئے کہانیا ں لکھی جا رہی ہیں جو کہ کم سے کم میرے نزدیک بہت ہی غلط طرزعمل ہے کہ اس سے بچوں میں منفی سوچ پیدا ہو گی یا وہ بُرائی کی طرف مائل ہو جائیں گے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ آپ بچوں کے لئے جو عنوان رکھیں وہ منفی نوعیت کا ہو اور آپ کی خواہش ہو کہ اُ س کے جو نتائج ہوں وہ مثبت سامنے آئیں۔ابھی حال ہی میں راقم السطورکو ایک بچوں کے رسالے میں ایسی کہانی پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں لکھاری نے بے حد منفی اورقابل گرفت جملے لکھے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس طرح کے جملے اگر بچوں کے سامنے پیش کیے جائیں تو اُن کے ذہنوں پر کتنا بُرا اثر پڑے گا۔ اب یہاں آپ یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ بھئی کہانی میں کردارکی ضرورت کے تحت کچھ ایسا لکھا جا سکتا ہے، کہانی کے آخر میں سبق دیتے ہوئے یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر آپ ایسے معیوب جملے یا بات کہیں گے تو پھر اُس کا انجام غلط ہوگا، مگر جہاں تک میری سوچ ہے، میں اس سے اختلاف کرتا ہوں کہ آپ بچوں کو مثبت انداز میں بھی مکالمے بیان کرتے ہوئے بھی کچھ سیکھنے پر مائل کر سکتے ہیں یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ منفی طرز فکر کے جملوں سے بچوں کی تربیت کر یں۔




اس لئے ادب اطفال کے لئے لکھنے والوں کو خاص طور پر اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتی بُرائی کو کم سے کم نئی نسل سے دور رکھا جا سکے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ادب برائے تفریح کے ساتھ تعلیم کے رحجان کو بھی فروغ دیا جائے،مکالمے ایسے ہوں کہ وہ روز مرہ زندگی میں بھی استعمال کریں تو اُن کو کسی کی بات نہ سننی پڑے۔اگر آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق لکھا جائے تو بہتر ہوگاتاکہ جدید ایجادات اور رحجانات کے حوالے سے بھی اُن کو معلومات دی جا سکیں۔آج کے دور کے بچوں کے لئے آج کے تقاضوں کے مطابق لکھا جائے گا تو ہی وہ رسائل وجرائد کی طرف مائل ہو سکیں گے۔آج کے جدید دور میں ماورائی کرداروں کے حوالے سے کہانیاں یا ناول بچوں کے لئے قابل قبول ہو سکتے ہیں مگر بہتر یہی ہے کہ اُن کو آج کے تقاضوں مطابق کردار تخلیق کرکے پڑھنے کے لئے مواد دیا جائے۔




یہ بات ہر ادب اطفال کے لکھاری کو یاد رکھنی چاہیے کہ ہم جو بھی لکھ رہے ہیں وہ بچوں کے لئے لکھ رہے ہیں تو پھر اس میں لفظوں کی جادوگری شامل نہیں ہونی چاہیے کہ وہ آپ کی اس حرکت سے پڑھنے سے بھی دور چلے جائیں گے۔ اُن کو آپ اپنی بات آسان زبان میں بھی بتا سکتے ہیں، یہاں چند لکھاری ایسے بھی ہیں جو کہ اُردو میں انگریزی زبان کے استعمال کو اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچوں کے علم میں اضافہ ہوگا، اس کی بجائے اگر وہ اُردو زبان کے فروغ کے لئے سنجیدہ ہیں تو پھر اُن کو اُردو میں ہی اپنی بات سمجھانی چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے ایک لکھاری کی تحریر کا مکمل جملہ ہی انگریزی میں لکھا ہوا پڑھا ہے۔اب اُس لکھاری کو کون سمجھائے کہ آپ انگریزی کو اُردو لفظوں کی مانند لکھ کر بچوں کے ساتھ زبان سے بھی دشمنی کر رہے ہیں، بچوں کو عام فہم زبان میں مضمون یا کہانی سمجھ آسکے گی۔اُن کو وہ پڑھنے کو دیں جو وہ ازخود بھی پڑھیں تو مشکل نہ لگے۔




انسان لکھنا،پڑھنا اور بولنا روز اول سے ہی چاہتا ہے،اس لئے یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے دور ہو جائے، جب تک بچوں کا ادب ایسی دلچسپ چیزوں پر تخلیق نہیں ہوگا کہ وہ پڑھنے کی طرف مائل ہوں تب تک وسیع پیمانے پر بچوں کو نصابی کتب سے ہٹ کر رسائل و جرائد کی جانب مائل نہیں کیا جا سکتا ہے۔اگر بچوں کو رسائل و جرائد وکتب بینی کی طرف مائل کرنا ہے توپھر آپ کوشفاف جملہ سازی اورمکالموں سے بچوں کے دلو ں کو جیتنا ہوگا کہ تفریح کے لئے عامیانہ سوچ کی بجائے مثبت طرز کی کہانی سے ہی دل چسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔اس بات کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کو آج پڑھنے سے دورلے جانے میں مخصوص لکھاریوں کا ہاتھ ہے مگر یہ بات کھلے دل سے کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے کہ ہم اُتنا اچھا نہیں لکھ پائے تھے کہ جدید ایجادات کے باوجود بھی بچے رسائل وجرائد سے اپنی محبت برقرار رکھ سکیں۔بچوں کے لئے جدید تقاضوں اور اُن کے رجحان کے مطابق مضامین و کہانیاں لکھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اس طرف سب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
۔ختم شد۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 333 Articles with 281347 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
14 May, 2021 Views: 191

Comments

آپ کی رائے