حدیثِ مُوسٰی و وَادیِ رَنگ و نُور !

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب سُورَہِ طٰہٰ ، اٰیت 9 تا 16 اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
و
ھل اتٰک
حدیث موسٰی
9 اذراٰنارا فقال لاھلھم
امکثواانی اٰنست نارا لعلّی اٰتیکم
منھا بقبس اواجد علی النار ھدی 10 فلما
اتٰہانودی یٰموسٰی 11 انی انا ربک فخلع نعلیک انک
بالوادی المقدس طوٰی 12 وانااخترتک فاستمع لمایوحٰی 13
اننی انا اللہ لاالٰہ الّا انا فاعبدنی واقم الصلٰوة لذکری 14 ان الساعة
اٰتیة اکاد اخفیہالتجزٰی کل نفس بما تسعٰی 15 فلایصدنک عنہا من لایؤمن بھا
واتبع ھوٰہ فتردٰی 16
اے ھمارے رسُول ! کیا مُوسٰی کا وہ قصہ بھی آپ کو کُچھ یاد آیا کہ جب اُس نے شب کی تاریکی میں ایک شُعلہِ رَنگ و نُور دیکھ کر اپنے اہلِ خانہ سے کہا تھا کہ مُجھے یہاں سے کُچھ دُور ایک شُعلہِ رَنگ و نُور نظر آرہا ھے ، میں اِس غرض سے وہاں جا رہا ہوں کہ شاید میں وہاں سے کوئی ایک اَنگارا لے کر یا پھر راستے کا کوئی اَتا پتا معلُوم کر کے تُمہارے پاس واپس آجاؤں ، تُم میرے آنے تک اسی جگہ پر میرا انتظار کرو ، جب مُوسٰی اُس مقامِ تجلّی کے قریب پُہنچ گیا تو ھم نے اُس کو آواز دے کر حُکم دیا کہ اَب تُم اپنے جُوتے اُتار کر اِس خوبیوں کے حصار میں محصُور پاکیزہ وادی میں داخل ہو جاؤ ، میں نے تُم کو اپنے کلام کی سماعت اور اپنے اَحکام کی اطاعت کے لیۓ مُنتخب کر لیا ھے اِس لیۓ اَب تُم کان اور دھیان لگا کر میرا کلام سنو ، میں تُمہارا وہ حاکمِ جان و جہان ہوں جس کے سوا کسی مخلوق کا کوئی اور حاکمِ جان و جہان نہیں ھے ، اِس لیۓ اَب تُم میری زمین پر میرے ایک چنیدہ غلام بن کر میرے پسندیدہ نظامِ حیات و انتظامِ حیات کا چرچا کرو ، میں حیاتِ نَو کی گھڑی کو انسانوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب انسان پر دَفعتاً وہ گھڑی آۓ تو انسان دفعتاً ہی اپنے عملِ خیر کی جزاۓ خیر پاکر خوش ہو جاۓ ، آج کے بعد زمین کا وہ انسان تُجھے میری اِس اِس ایمانی ھدایت سے دُور نہیں کر سکے گا جو میری اِس ایمانی ھدایت سے دُور ھے اور جو انسان تُجھے اِس ھدایت سے ہٹانے کی خواہش دل میں لاۓ گا وہ ہلاک کر دیا جاۓ گا !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
اِن اٰیات سے پہلے آنے والی آٹھ اٰیات اور اُن پہلی آٹھ اٰیات کے بعد آنے والی اِن دُوسری آٹھ اٰیات پر مُشتمل سولہ اٰیات کا موضوعِ سُخن اللہ تعالیٰ کی توحید ھے جس کی توضیح و تلویح وہ کتاب ھے جس کا اِس سُورت کی دُوسری اور تیسری اٰیت میں ذکر کیا گیا ھے اور اِن دو اٰیات کے بعد چوتھی اور پانچویں اٰیت میں یہ بتایا گیا ھے یہ کتاب سیدنا محمد علیہ السلام کے قلبِ اطہر پر اُس خالقِ عالَم نے نازل کی ھے جس نے پہلے زمین کو ہَموار کیا ھے ، پھر آسمانوں کو اُستوار کیا ھے اور پھر وہ اُس عرشِ مُعلٰی کی طرف متوجہ ہوا ھے جو اِن آسمانوں سے بھی ایک بلند تر مقام ھے اور اُس بلند تر مقام کے بعد بھی اُس خالق کی تخلیق کے وہ نۓ سے نۓ نادیدہ جہان بَن بَن کر پھیل رھے ہیں جن کے پھیلاؤ کا اُس خالق کے سوا کسی کو کوئی علم نہیں ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ عرش مُعلٰی اُس کے قیام کا مقام نہیں ھے ھے جیساکہ اہلِ مکتب سمجھتے اور بیان کرتے ہیں بلکہ عرشِ مُعلٰی تو در حقیقت اُس کے اِس دیدہ جہان کے بعد اُس کی تخلیق کے اُن نادیدہ جہانوں کی وہ ابتدائی منزل ھے جو انسانی فکر و خیال کے مطابق ایک انتہائی منزل ھے ، چَھٹی اٰیت میں اِس اَمر کو اُجاگر کیا گیا ھے کہ تحت الثرٰی سے ثریا تک پھیلے ہوۓ اِس بیکراں جہان میں جو کُچھ ھے یا جو کُچھ ہو سکتا ھے وہ سب کُچھ اُس خالقِ جان و جہان کے قبضہِ قُدرت میں ھے اور ساتویں اٰیت میں اِس اَمر سے آگاہ کیا گیا ھے کہ زمین کے زیریں ذَرّے سے لے کر عرشِ مُعلٰی کے بالائی عالَم تک ہر جہان و ذَرہِ جہان اُس کے علم کے دائرے میں ھے اور وہ ہر ایک جہان کی ہر ایک چھوٹی سی چھوٹی اور ہر ایک بڑی سی بڑی مخلوق کی فریاد رَسی کرتا ھے ، انسان اُس کو اپنے نطقِ لب سے پُکارے یا صرف اپنے خیال میں اُس کا خیال کرے وہ ہر سائل کے ہر سوال کو سُنتا ھے اور ہر سائل کے ہر سوال کا ایک مُناسبِ حال وقت پر ایک مُناسبِ حال جواب بھی دیتا ھے اور آٹھویں اٰیت میں یہ اَمر واضح کیا گیا ھے کہ اُس خالقِ عالَم کو پُکارنے کے لیۓ کسی انسان کو کوئی خاص ورد وظیفہ کرنے کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ ہر خوب صورت نام اُسی کے خوب صورت ناموں میں شامل ہوتا ھے اور ہر مُناسب خطاب کی مُخاطب بھی اُسی کی عظیم المرتبت ہستی ہوتی ھے اور اِس لیۓ جو انسان جس کام یا جس حاجت کے لیۓ پُکارے وہ اُسی کو پُکارے ، اَب موجُودہ اٰیات میں بھی اُسی موضوع کو اُس علمِ مُوسٰی و تعلیمِ مُوسٰی کے حوالے سے آگے بڑھایا جا رہا ھے جو اِس سُورت کا ایک تاریخی اور ایک تحقیقی موضوع ھے ، اِس سُورت کی اِن اٰیات میں ذکرِ مُوسٰی کے ضمن میں جس وادی کا جو ذکر اٰیا ھے اُسی وادی کا ذکر سُورَہِ ابراہیم کی 37 ، سُورةُالشعراء کی اٰیت 235 ، سُورةُالنمل کی اٰیت 18 ، سُورةُالقصص کی اٰیت 30 ، سُورةالنازعات کی اٰیت 16 اور سُورةُالفجر کی اٰیت 9 میں بھی اٰیا ھے ، وادی عُرفاً ہر اُس خطہِ زمین کو کہا جاتا ھے جو پہاڑوں میں گھرا ہوا وہ خطہِ زمین ہوتا ھے جہاں سے بارش کے بعد آنے والے سیلاب کا پانی گزرتا ھے اور جس کے اِس سیلِ آب سے وہ وادی بار بار وہ وادی دُھلتی بھی رہتی ھے اور بار بار زرخیز بھی ہوتی رہتی ھے اور جو لوگ اُن وادیوں میں رہتے ہیں اُن کے ذہن بھی زرخیز ہوتے ہیں اور اُن کے کام بھی نتیجہ خیز ہوتے ہیں ، وادی کی ایک جمع اَودیة ھے ، دُوسری جمع آوادیة ھے اور تیسری جمع اَودا ھے اور اِس کا معنٰی طریقہ و مذہب ھے ، اہل عرب جب { ھما من واد واحد } کہتے ہیں تو اُس کا مطلب یہ ہوتا ھے کہ فلاں فلاں دو آدمی ایک دُوسرے کے ہم مذہب و ہم خیال ہیں اور اُن کا طرزِ حیات بھی ایک طرح کا ھے ، اِس اٰیت میں دُوسرا لفظ "قُدس" ھے جس کا معنٰی معصیت سے پاکیزگی پانا ھے ، اہلِ عرب اپنی دُعا میں اِس کا استعمال اِس طرح کرتے ہیں کہ { قدس اللہ فلانا } یعنی اللہ تعالٰی فلاں انسان کو کارِ معصیت سے محفوظ فرماۓ ، القدس چھوٹے پیالے اور بڑی کشتی کو بھی کہا جاتا ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کے ذکر میں جس وادی رَنگ و نُور کا ذکر آیا ھے اِس کا ایک خاص پس منظر ھے لیکن اُس کا ذکر اپنے مقام پر آۓ گا ، قُرآن کریم کی مُتعدد اٰیات میں قیامت کا ذکر قریب زمانے کے ایک قریب حادثے کے طور پر بیان کیا گیا ھے اور اِس سُورت کی اٰیت 15 میں اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام سے خاص طور پر یہ ارشاد فرمایا ھے کہ میں قیامت کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں جس کا مطلب یہ ھے کہ دُنیا نہ جانے کتنے زمانوں سے عملی اعتبار سے ایک عملی قیامت کے دور سے گزری رہی ھے اور بادی النظر میں مُوسٰی علیہ السلام کو بھی اسی لیۓ ظہورِ قیامت کو پوشیدہ رکھنے کی تلقینِ کی گئی ھے کہ اِس کو پوشیدگی میں اللہ تعالٰی کی کوئی حکمت ھے اور اِس اٰیت میں بظاہر جس حد تک اِس کو ظاہر کیا گیا ھے وہ بھی اُس میں بھی اُس کی کوئی حکمت ھے لیکن یہ بات تو بہر حال طے ھے کہ قیامت پر غور و فکر کرنا قُرآنِ کریم کا ایک کُھلا موضوع ھے اور یہ کُھلا موضوع اسی لیۓ کُھلا ھے کہ انسان پر کُھلے دل و دماغ کے ساتھ غور و فکر کرتا رھے اور اِس خیال سے کرتا رھے کہ حساب کی وہ گھڑی کسی بھی لَمحے آسکتی ھے اور حساب و احتساب کا بند دروازہ کسی بھی لَمحے کُھل سکتا ھے ، ہر چند کہ پہلی اٰیات اور پہلی اٰیات کے بعد آنے والی اِن دُوسری اٰیات کا مرکزی مضمون ایک ہی ھے لیکن اِس مضمون میں یہ فرق بھی بہر حال موجُود ھے کہ پہلی اٰیات میں خالقِ مُطلق کی قُوتِ مُطلق ، قُدرتِ مُطلق اور قوانینِ مُطلق کو خالق کے قانُونِ فطرت کے طور پر بیان کیا گیا تھا اور زیرِ نظر اٰیات میں اُن سارے اُمور کو کُچھ اَمثال و تمثیل کے ساتھ بیان کیا گیا ھے اور مزید بیان کیا جاۓ گا لیکن اِن اَمثال و تمثیل کی چونکہ اپنی اپنی جُداگانی تفصیلات ہیں اِس لیۓ اِن تمہیدی کلمات کے بعد اُن جُداگانہ تفصیلات کا ذکر آنے والی اٰیات میں اٰیات کے ساتھ آتے آتے آۓ گا !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 349 Articles with 113246 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
26 May, 2021 Views: 93

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ