حدیثِ مُوسٰی و عصاۓ مُوسٰی اور یَدِ بیضاۓ مُوسٰی

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilmعلمُ الکتاب سُورَہِ طٰہٰ ، اٰیت 17 تا 24 اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
وما
تلک بیمینک
یٰموسٰی 17 قال
ھی عصای اتوکؤعلیھا
واھش بھا علٰی غنمی ولی فیھا
ماٰرب اخرٰی 18 قال القھا یٰموسٰی 19
فالقٰھا فاذا ھی حیة تسعٰی 20 قال خذھا
ولاتخف سنیعیدھا سیرةھاالاولٰی 21 واضمم
یدک الٰی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء اٰیة
اخرٰی 22 لنریک من اٰیٰتناالکبرٰی 23 اذھب الٰی فرعون
انہ طغٰی 24
اے مُوسٰی ! کیا تُم جانتے ہو کہ تُمہارے ہاتھ میں جو چیز ھے وہ کیا چیز ھے ? مُوسٰی نے کہا یہ میرے استعمال میں آنے والی میری وہ لاٹھی ھے کہ میں جب زمین پر چلتا ہوں تو اِس لاٹھی کو زمین پر ٹیک کر چلتا ہوں اور میں جب اپنی بکریاں چرانے کے لیۓ لے کر جاتا ہوں تو اپنی اسی لاٹھی سے اپنی بکریوں کے لیۓ پَتّے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اِن دو کاموں کے علاوہ میں اپنی اِسی لاٹھی سے اور بھی بہت سے کام لیتا رہتا ہوں ، فرمایا اَب تُو اِس لاٹھی کو اپنے ہاتھ سے زمین پر رکھ دے اور جب مُوسٰی نے اپنی لاٹھی زمین پر رکھی تو وہ یکا یک سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگی اور اللہ تعالٰی نے مُوسٰی سے کہا کہ تُم اِس بھاگتے دوڑتے ہوۓ سانپ سے بالکُل بھی مت ڈرو کیونکہ جب تُم اِس سانپ کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں پکڑو گے تو یہی سانپ دوبارہ تُمھارے ہاتھ میں آکر پہلے کی طرح تُمھارے ہاتھ کی ایک کار آمد لاٹھی بن جاۓ گا ، اِس کے بعد اللہ تعالٰی نے مُوسٰی سے کہا کہ اَب اگر تُم اپنے ہاتھ کو اپنے پہلو میں لے جاؤ گے اور پھر اپنے پہلو سے نکال کر اپنے سامنے لے آؤ گے تو تُم دیکھو گے کہ تُمہارا ہاتھ جلے بغیر ایک جلانے والا اَنگارا لے کر واپس آۓ گا ، اُس چوبی ازدھے کے بعد تُمہارے پاس دَستِ روشن کی یہ روشن نشانی ھماری دُوسری نشانی ھے اور اِس کے بعد ھم تُم کو اپنی اور بھی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں گے ، اَب تُم ھماری اِن روشن نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ جو ھماری زمین پر بیٹھا ھے اور ھم سے ہی سرکشی بنا بیٹھا ھے !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
عالَمِ اَرض و سماء کے تَخلیقی سَحر کی طرح عھدِ مُوسٰی کا تَجریدی سَحر بھی اُس زمین اور اُس زمانے کا وہ بڑا زمینی و زمانی سَحر تھا جس نے ایک عالَم کو اپنے سَحر میں لے لیا تھا ، مُثبت سَحر کے مُثبت نتائج و ثمرات اور مَنفی سَحر کے مَنفی نتائج و ثمرات کی بحث سے قطع نظر کہ وہ بذاتِ خود ایک وسیع بحث ھے اگر موضوعِ حاضر کے حوالے سے عھدِ مُوسٰی کے رائج العھد مَنفی سَحر کا تاریخی جائزہ لیا جاۓ تو اَرض و سما میں اِس سَحر کا آغاز انسانی تاریخ کے اُسی ابتدائی زمانے میں ہو گیا تھا جس ابتدائی زمانے میں ابلیس نے زمین پر آدم کے اقتدار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور ابلیس نے آدم کے اقتدار سے اسی بنا پر انکار کیا تھا کہ جس زمانے میں زمین پر آدم کے اقتدار کی ابتدائی تیاری جاری تھی تو اُس زمانے میں ابلیس زمین پر ہزاروں زمانوں سے اپنا عملِ سحر کاری کرتے کرتے ہزاروں زمانوں کا ایک تجربہ کار تجریدی سَحر کار بن چکا تھا ، سَحر کی حقیقت تَخلیق کے دو تَخلیق شُدہ موجُود اَجزاۓ تَخلیق کے مُرکب سے ایک تیسری تَخلیق کو ظاہر کرکے دیدہ بینا کو حیران کرنا ہوتا ھے ، بالکُل اِسی طرح جس طرح نر اور ناری کے اَجزاۓ تَخلیق کے وصالِ باھم سے ایک تیسرے جاندار کی صورت ظاہر ہوجاتی ھے یا جس طرح بیج اور مِٹی کے اَجزاۓ تَخلیق کے اتصالِ باھم سے شاخ و گُل کی تیسری صورت ظاہر ہوجاتی ھے اور یا پھر جس طرح شاخ و گُل کے اَجزاۓ تخلیق کے جَذبِ باھم سے ثمر کی ایک تیسری صورت ظاہر ہوجاتی ھے ، ابلیس جو دو اَجزاۓ تَخلیق کی اُس سائنس سے تیسرا جُزوِ تَخلیق ظاہر کرنے میں ماہر ہو چکا تھا اُس نے اپنی آدم دُشمنی میں اَندھا ہو کر "انا ولا غیری" کا دعوٰی کیا تو اُس کا یہ گمھنڈی دعوٰی ہی اُس کو کھا گیا اور وہ اللہ تعالٰی کے عتاب میں آگیا لیکن ابلیس نے راندہ درگاہ ہوتے ہوتے بھی جب آدم کے مقابلے میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیۓ خالقِ عالَم سے یومِ حساب تک کی بے حساب مُہلت مانگی اور وہ مُہلت اُس کو مل بھی گئی تو اُس نے زمین کے طول و عرض میں اپنے تجریدی سحر کی وہ عالمی بساط بچھائی جس میں بُت گری کے وہ کار خانے قائم ہوۓ اور بُت پرستی کے وہ شہر و اَمصار آباد ہوۓ جن میں ابلیس کے تجریدی سحر کے بل بوتے پر اُس زمانے کے معروف انسانوں کے جسموں سے وہ بُت تیار ہونے لگے جو سحر زدہ انسانوں کو بظاہر مُتحرک و مُتکلّم ہوتے ہوۓ بھی نظر آتے تھے اور اُن کے اِس تاثر سے مُتاثر ہو کر وہ سحرزدہ انسان اُن بتوں کی پُوجا میں جُت جاتے تھے ، بعض جادُوئی کہانیوں میں عھدِ ابلیس کے ابتدائی زمانے سے مُلحق زمانے میں یُونان کی زمین پر بھی نارما نام کے اُس بڑے ساحر کا نام ملتا ھے جس نے اپنے زمانے میں اِسی کارِ سَحر کی ابلیس کی طرح ترویج کی تھی ، نُوح و ابراہیم کے زمانے کے بُت ایسے ہی بُت تھے جن کے جسموں کے پیچھے وہی خُفیہ ساحرانہ نظامِ فریب ہوتا تھا جس نظامِ فریب کے فریب میں آکر انسان اُن بتوں سے اپنی حاجت روائی اور مُشکل کشائی کی درخواستیں کیا کرتے تھے ، پھر بُت پرستی کے اِس کام نے اتنی ترقی کی کہ بادشاہوں کا شاہی نظام اور درویشوں کا خانقاہی نظام بھی بُت گری و بُت پرستی کا تابع مُہمل بن کر رہ گیا ، فراعنہ مصر کا مُلکی نظام اِن ہی ساحروں کی ساحری کا مرہون منت تھا اور اُس زمانے میں بیشتر انسانی آبادیاں اِن ہی ساحروں کا مرکز بنی ہوئی تھیں اور خوش قسمتی سے جو بستیاں ابلیس کی اُس ساحرانہ تلبیس سے بَچ جاتی تھیں تو پہلے اُن بستیوں کو نیکی و نبوت کی آسمانی روشنی سے نُور یاب کیا جاتا تھا اور اُن پھر اِن آسُودہ فکر بستیوں سے زمین کے دُوسرے انسانوں تک توحید کا پیغامِ حق پُہنچایا جاتا تھا ، گزشتہ اٰیات میں جس نورانی وادی "طُوٰی" سے مُوسٰی علیہ السلام کو ایک جلوہِ نُور دکھا کر بلایا گیا تھا اور پھر اُن کو تاجِ نبوت پہناکر کارِ نبوت پر لگایا گیا تھا وہ بھی ایسی ہی سَحر سے محفوظ اور مُقدس وادی تھی جو مصر کے آس پاس ہونے کے باوجود بھی ساحرانِ مصر کے ابلیسی و سامری سَحر سے محفوظ رہی تھی ، موجُودہ اٰیت میں جس عصاۓ مُوسٰی اور جس یَدِ بیضا کا ذکر آیا ھے اُس پر ھم سُورةالاَعراف کی اٰیت 103 تا 122 میں ایک سیر حاصل بحث کر چکے ہیں اِس لیۓ اِس مقام پر اُن تفصیلات میں اُلجھے بغیر صرف اتنا ہی عرض کردینا کافی ہوگا کہ ساحرانِ مصر سانپ کو لکڑی بنانے کے عمل میں ایک ساحرانہ مہارت رکھتے تھے اور اُن کے ہر بڑے ساحر کے پاس اِس طرح چوبی سانپ اور چوبی اَزدھے موجُود ہوتے تھے جن کی وہ اپنے ساحرانہ مقابلوں نمائش بھی کرتے رہتے تھے اور مُوسٰی علیہ السلام کے سامنے بھی اُنہوں نے اپنے اُن ثوبی اور چوبی سانپوں کی نمائش کی تھی اور مُوسٰی علیہ السلام کا چوبی اَزدھا اُن کے اُن سحری و نمائشی سانپوں کو کھا گیا تھا ، اٰیاتِ بالا سے یہ بات کسی شک و شُبہے کے بغیر ہی معلوم ہوجاتی ھے کہ مُوسٰی علیہ السلام کے ہاتھ میں جو عصا تھا وہ دَرحقیقت ایک سانپ تھا لیکن مُوسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی اِس وحی سے قبل اِس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں لاٹھی کے بجاۓ ایک سانپ لیۓ پھرتے ہیں ، اِس لیۓ یہاں قُدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ھے کہ یہ سانپ لاٹھی مُوسٰی علیہ السلام کے پاس کہاں سے آئی اور اِس کا جواب صرف یہ ھے کہ مُوسٰی علیہ السلام کے مَدین جانے سے پہلے جو آدمی مُوسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا گیا تھا وہ بھی مصر کا کوئی نامی گرامی جادُوگر تھا اور یہ لاٹھی بھی اُسی کی لاٹھی تھی اور جس طرح کبھی کبھی کسی کے ہاتھ میں کسی بھاگتے ہوۓ چور کی لنگوٹی آجاتی ھے اسی طرح مُوسٰی علیہ السلام کے ہاتھ میں بھی اُس مرتے ہوۓ ساحر کی یہ لاٹھی آگئی تھی اور مُوسٰی علیہ السلام کے مَدین سے واپس آنے کے بعد اللہ تعالٰی نے اُن کو بتایا تھا کہ اُن کے ہاتھ میں جو لاٹھی ھے اُس لاٹھی کا ایک استعمال یہ ھے اور یہ استعمال اُنہوں نے فرعون کے دربار میں جا کر کرنا ھے اور ساحرانِ مصر کے مقابلے میں کرنا ھے !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 349 Articles with 113294 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
26 May, 2021 Views: 99

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ