نتھیا گلی کے پراسرار جنگلات

یہ تحریر میرے نتھیا گلی کے سفر میں پیش آنے والے تجربات و تخیلات کی عکاس ہے۔

پچھلے دنوں مجھے بچوں کے ساتھ نتھیا گلی جانے کا اتفاق ہوا۔ ہماری اقامت نتھیا گلی کے بلندیوں پر واقع ایک درمیانے درجے کے ہوٹل (Holiday Resort) میں تھی۔ موسم مرطوب اور خنک تھا۔ بادل بالکل نیچے آئے ہوئے تھے۔ اچانک بارش شروع ہوجاتی اور رُ ک جاتی تھی۔ رات کو کمبل لیکر سوئے۔

فجر کی نماز کے بعد صبح کی سیر کا ارادہ کیا اور باہر نکل آیا۔ بادل کافی نیچے تھے،بادلوں سے پانی کے قطرے چہرے پر پڑرہےتھے. میرے سامنے دو راستے تھے ایک معروف نتھیا گلی روڈ تھا جس ٹریفک زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن صبح کے وقت یہ روڈ بھی سنسان سا تھا۔ اسی روڈ پر ہمارا ہوٹل واقع تھا۔ لیکن میں نے ایک راستے پر جانا پسند کیا۔ یہ راستہ ہوٹل کے مرکزی دروازے کے عین سامنے تھا۔یہ ایک نامعروف راستہ تھا جو نیچےکی طرف ڈھلان کی شکل میں اتر رہا تھا. مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ راستہ کہاں جائے گا۔ اس راستے پر کو ئی آمدورفت نہیں تھی۔ صرف جنگلی کوؤں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔میں نے اپنے موبائل سے گوگل میپ کھولا تو معلوم ہوا کہ یہ پکی سڑک گرین اسپاٹ(green spot) نامی تفریحی مقام تک جاتی ہے۔گرین اسپاٹ ابھی 700 میٹر آگے تھا۔ سڑک پہاڑ کو تراش کر بنائی گئی تھی۔سڑک کے دائیں طرف بہت گہری کھائی تھی، اور بائیں جانب بہت اونچا پہاڑ تھا جس بڑے چھوٹے بڑے گھنے درخت اُگلے ہوئے تھے۔ صبح سویرے اس سنسان سڑک پر چلتے ہوئے دل میں یہ خیال بھی آرہا تھا کہ پہاڑوں میں سے اچانک کوئی تیندوا (leopard) حملہ آور نہ ہوجائے یا کوئی اژدھا نہ نمودار نہ ہو جائے۔ یا کوئی شر پسند انسان مجھ سے کچھ ہتھیا نہ لے۔ اتفاق سے جیب میں صرف موبائل تھا۔ایک گومگو کی سی کیفیت تھی۔ لیکن موسم بہت خوشگوار تھا۔موسم اور ماحول نے تجسس پیدا کیا کہ "یہ گرین اسپاٹ صاحب کیسی جگہ ہوگی ۔ چلو اسے دیکھتے ہیں۔"سڑک بل کھاتی نیچے کی طرف اتر رہی تھی. میرے منہ پر پھوار پڑ رہی تھی۔ میں ایک دو راہےپر پہنچ گیا۔ ایک سڑک اوپر کی طرف چڑ رہی تھی اور دوسری نیچے جارہی تھی۔ گوگل میب اس جگہ درست نقشہ نہیں دکھا رہا تھا۔ ۔ میں نے اپنے اندازے سے نیچے اترتے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ میں اس سڑک پر چلتے چلتے خاصا نیچے اتر آیا لیکن گرین اسپاٹ کا کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔ نہ وہاں کوئی آدم زاد نظر آیا جس سے میں راستہ پوچھتا ۔ گوگل میب دوبارہ کھولا تو وہ مجھے اپنی منزل دور ہٹتا ہوا دکھا رہا تھا۔ لہذا میں نے واپس اس دوراہے کی طر ف جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بارش شروع ہوگئی۔ میں بھیگنے لگا۔ اب مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ گرین اسپاٹ مجھے بہت مہنگا پڑے گا۔ چلو واپس ہوٹل چلتے ہیں۔ میں نے ہوٹل کی سمت جانے کے لیے تیز تیز قدم اٹھا نا شروع کیے ۔ میں ابھی 40 میٹر آگے گیا ہونگا کہ تیز بارش شروع ہوگئے۔ میں نے جیکٹ پہن رکھی تھی جس کی وجہ سے میں قدرے کم بھیگا۔ میں بارش سے محظوظ بھی ہورہا تھا۔ میں کسی سائبان کی تلاش میں تھا جہاں کھڑے ہوکر بارش سے بچا جاسکے۔اتنے میں مجھے ایک برزگ کی آواز آئی۔ میں نے آس پاس دیکھا کوئی آدم زاد نظر نہیں آیا۔ اسی اثنا ء میں میری نظر ایک بہت ضخیم الجثہ اور بوڑھے درخت پر پڑی۔ اس کا تنا تین موٹے آدمیوں کے برابر چوڑا تھا۔ اس کا تنا سڑک کی طرف آگے کو جھک کر ایک قدرتی چھتری بنائے ہوئے تھا گویا کہ بڑھاپے کی وجہ اس کی کمر میں کب نکل آیا ہو۔ سڑک کی توسیع کی وجہ سے اس کی جڑوں کا کچھ حصہ کٹا ہوا تھا۔میں فوراً اُس بوڑھے درخت کی آگوش میں چلا گیا۔اب موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ منظر دلکش تھا. جنگل کی خاموشی میں رم جھم موسیقی ماحول میں سرور پیدا کر رہی تھی میرا خوف اب کافی گھٹ گیا تھا ۔ پھر اچانک ایک بوڑھے شخص کی رعب دار آواز دوبارہ سنائی دی، "اے اجنبی ڈر مت" میں نے کہا، "آپ کون ہیں؟ "وہ آواز بولی، "میں ایک ہزار سال سے یہاں مسافروں کی خدمت کر رہا ہوں۔ تم جیسے سینکڑوں اجنبیوں کو میں نے پناہ دی ہے. " مجھے آواز تو سنائی دے رہی تھی مگر کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اب بارش کافی تھم چکی تھی۔ الغرض نامعلوم آواز سے میرے اس مکالمے سے میرے جسم میں کپکپی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے وہاں سے فرار کی ٹھانی اور اپنے ہوٹل کی طرف دوڑ لگادی۔ لیکن پھر بارش تیز ہوگئی۔ مجھے مجبورا ایک اور درخت کے نیچے پناہ لینی پڑی۔ مجھے پھر ایک آواز سنائی دی۔ یہ قدرےایک ادھیر عمر شخص کی آواز سنائی دی۔ "اے اجنبی میری آغوش میں آجا۔" آب میں سمجھ گیا کہ نتھیا گلی کا یہ جنگل اپنے اندر بڑے اسرار لیے ہوا ہے۔ میں نے فرار کا فیصلہ کیا اور بارش کی پروا کئے بغیر تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔ آوازوں کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ بڑھ گیا۔ میں بھا گ رہا تھا اور میرے پیچھے سے کئی درخت مجھے اپنے پاس بلانے کی صدا لگا رہے تھے۔میں نے ہوٹل پہنچ کراپنے انس کو یہ واقعہ سنایا ۔ وہ میری اس طرح کی تخیلاتی کہانیا ں پہلے بھی سنتا رہتا تھا۔ اس لیے اس نے کسی تعجب کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی یہ پوچھا ۔ " بابا آپ کو سچ مچ درختوں نے پکارا تھا؟" شاید آپ بھی اس تجربے سے گزرے ہونگے ، اگر نہیں تو ضرور اس راستے پر صبح یا شام کے وقت جانے کا تجربہ کریں۔
 

Abdulmaalik Hashmi
About the Author: Abdulmaalik Hashmi Read More Articles by Abdulmaalik Hashmi: 11 Articles with 8946 views I want to be a prolific writer... View More