|
|
پاکستان کے شمالی علاقہ جات اپنی خوبصورتی کے لیے دنیا
بھر میں مشہور ہیں ۔ مگر یہ علاقفے دور افتادہ ہونے کے سبب جدید ترقی کی
شعبدہ بازیوں سے کافی حد تک محروم تصور کیے جاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر
علاقے تعلیم اور ترقی سےکافی حد تک محروم ہیں- |
|
مگر چترال کی تاریخ میں یہ دن ایک خاص دن تھا جب چترال
کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا چترال سے لے کر اس کے قریبی گاؤں یاخن تک کے
راستوں میں استقبالیہ بینر آویزاں تھے اور شہر بھر کے لوگ اس انسان کی ایک
جھلک دیکھنے کے لیۓ راستوں پر جمع تھے جس کے استقبال کے لیے یہ ساری
تیاریاں کی گئی تھیں - |
|
عبدالواحد خان جب اسلام آباد سے چترال پہنچے تو علاقے کے
لوگوں نے ان کے گلے میں ہار پہنائے اور بارات کی صورت میں سجی ہوئی گاڑیوں
کے جلوس میں عبدالواحد خان کو چترال کے راستے ان کے آبائی گاؤں یاخن کی طرف
لے جایا گیا- |
|
|
|
راستے میں ان کے ننھیالی گاؤں مستوج میں بھی عبدا الواحد
خان کے استقبال کا یہی عالم تھا۔ جہاں پر تمام مہمانوں کے لیے دعوت کا
انتظام تھا بظاہر دیکھنے والوں کو یہی محسوس ہو رہا تھا کہ یہ تمام تیاریاں
کسی شادی کی ہیں اور تقریب کا دولہا عبدا لواحد خان ہے- |
|
مگر حقیقت میں یہ عبدا الواحد خان کی شادی کا دن نہ تھا
بلکہ یہ ساری تیاریاں علاقہ مکینوں نے اپنے طور پر عبدا الواحد خان کے
استقبال کے لیے کی تھیں جو کہ چترال کا پہلا نوجوان تھا جس کو آکسفورڈ یونی
ورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے داخلہ ملا تھا- |
|
عبدا الواحد خان کا تعلق چترال سے تھا اور ان کے والد
عبدالحمید خان چترال اسکاؤٹس میں صوبیدار میجر تھے جنہوں نے عبدالواحد خان
کا داخلہ آرمی پبلک اسکول میں کروا دیا تھا جہاں سے 2011 میں انہوں نے
میٹرک کا امتحان پاس کیا- |
|
میٹرک کے فوراً بعد امریکہ کے ساتھ یوتھ ایکسچینج
پروگرام کے تبادلے میں انہیں ایک سال کے لیے امریکہ جا کر پڑھنے کا موقع
ملا جہاں سے واپس آنے کے بعد انہیں اپنے والد کی وفات کے صدمے سے گزرنا پڑا
اور تعلیم کے اخراجات اور دیگر ذمہ داریوں کا بار ان کے کاندھوں پر آپڑا- |
|
کراچی میں انٹر پری میڈیکل پڑھنے کے بعد انہوں نے حبیب
یونی ورسٹی سے سوشل ڈیولپمنٹ اینڈ پالیسی کے مضمون میں گریجویشن کیا اور
سال 2018 میں دنیا بھر کے ان دس طالب علموں میں شامل ہو گئے جن کا انتخاب
برطانیہ کی ایک نجی یونی ورسٹی نے اسلامک اسٹڈیز اینڈ ہیومینیٹیز پڑھنے کے
لیے کیا- |
|
|
|
اس یونی ورسٹی کی تعلیم کے لیے عبدالواحد خان کو اسی
یونی ورسٹی کی جانب سے اسکالر شپ دیا گیا اور اس کے دو سال مکمل ہونے کے
بعد ان کو یونی ورسٹی کی ہی جانب سے آکسفورڈ میں ایک سال تک پڑھنے کا موقع
فراہم کیا گیا جس کے اخراجات کی مکمل ذمہ داری اسی یونی ورسٹی نے اٹھائی- |
|
اور اس کے بعد جب عبدالواحد خان نے آکسفورڈ یونی ورسٹی
میں پی ایچ ڈی کے لیے اپلائی کیا تو اس میں بھی ان کو داخلے کی اجازت مل
گئی ۔ عبدالواحد کے بھائی عبدالواجد کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ ان کا
بھائی چترال کا وہ پہلا لڑکا ہے جس کو آکسفورڈ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی
میں داخلہ ملا اور یہ بات سارے علاقے کے لیے خوشی اور فخر کی ہے اس وجہ سے
سب نے عبدالواحد کا اتنا پرجوش استقبال کیا- |
|
اس کے ساتھ ساتھ عبدالواحد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے
تھیسز اور پی ایچ ڈی کا موضوع ان کا اپنا علاقہ چترال ہے جس میں اس بات پر
تحقیق کی جائے گی کہ اس علاقے کو جدید دور کی ترقی سے کس طرح ہم آہنگ کیا
جا سکتا ہے- |
|
|
|
اس موقع پر عبدالواحد کی والدہ بھی اپنے گھر کو سجا کر
ان کا انتظار کر رہی تھیں اور ان کا یہ کہنا تھا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں
جو اپنے بیٹے کو ایک بڑی یونی ورسٹی میں جاتا دیکھ رہی ہوں۔ اگرچہ میں
تعلیم یافتہ نہیں ہے اور میں نہیں جانتی کہ اس کا کیا مطلب ہے مگر یہ ضرور
جانتی ہوں کہ میرا بیٹا یہ تعلیم حاصل کر کے اپنے علاقے کی خدمت کرے گا- |