روبرو ہے ادیب : محمد فرحان اشرف

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
تحریروملاقات: ذوالفقار علی بخاری

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔!!
آج آپ کی جس ہستی سے ملاقات کروا رہے ہیں وہ بے حد ملنسار ہیں اور دوستوں کے دوست ہیں۔ہماری ان سے ملاقات پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس 2020کے موقع پر ہوئی تھی اور ہم نے ان کو بے حد متاثر کن شخصیت کا حامل پایا تھا۔


آپ جانتے ہیں کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ دوسروں کا سوچتے ہیں اور اُن کے لئے کچھ کرتے ہیں، محمد فرحان اشرف کا تعلق بھی ایسے ہی افرا دمیں سے ہے جو کہ دوسروں کے لئے انمول معلومات نہ صرف پیش کرتے ہیں بلکہ بہترین تحریروں کے ذریعے خوب سوچنے پر بھی مائل کرتے ہیں۔




”پھول انسائیکلو پیڈیا“ کو ان کی وجہ شہرت کہا جا سکتا ہے مگر ان سے جو ایک بار مل لے وہ ان کا گرویدا ہو جاتا ہے یہ بات شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ راقم السطور کی مانند ان موصوف کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی محسن ادب اطفال محمد شعیب مرزاصاحب نے کی ہے جس کی بدولت یہ ادب اطفال کے لئے کام کیے جا رہے ہیں۔


آج کے مہمان محترم محمد فرحان اشرف صاحب ہیں، ان کی گفتگو آپ کی نذر ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ خوب صورت سوچ کے حامل محمد فرحان اشرف کی باتیں ضرور دل میں گھر کرلیں گی۔

٭٭٭٭٭
سوال: سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ”پھول انسائیکلو پیڈیا“ کے ذریعے معلومات دینے کا خیال کیسے آیا؟
جواب:ماہ نامہ تعلیم وتربیت میں جناب ڈاکٹرطارق ریاض صاحب کامستقل سلسلہ”بچوں کاانسائیکلوپیڈیا“ سے یہ خیال آیا تھا۔
٭٭٭٭٭




سوال: ”پھول انسائیکلو پیڈیا“ کے لئے معلومات کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟
جواب:فیروز سنزاردوانسائیکلوپیڈیا،شاہکاراسلامی انسائیکلوپیڈیا،عالمی انسائیکلوپیڈیاازیاسرجواد،اردوسائنس انسائیکلوپیڈیا،ہمدردسائنس انسائیکلوپیڈیا،اردوویکی پیڈیا ویب، معروف مسلم سائنس دان،تاریخ پاکستان ویب سائٹ اور دیگراردو کی حوالہ جاتی کتب سے استفادہ کرتا ہوں۔
٭٭٭٭٭
سوال: ”پھول انسائیکلو پیڈیا‘‘ نے آپ کو ایک الگ شناخت دی ہے، اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب:محترم محمدشعیب مرزاصاحب مدیرماہ نامہ پھول کی محبت ہے،جنھوں نے کمال شفقت سے مجھے ایک قاری سے لکھاری کی شناخت دی۔اگرمحمدشعیب مرزاصاحب میری حوصلہ افزائی نہ کرتے توشاید آج میں ایک قاری ہی ہوتا۔
٭٭٭٭٭
سوال: یہ بتائیں قلم کو تھام کر لکھنے کا خیال کب اور کیسے آیا، اولین تحریر کی اشاعت پر کیا جذبات تھے؟
جواب:تیسری جماعت سے بچوں کی کہانیاں پڑھنے کاشوق پیداہوا۔پھرہفت روزہ بچوں کااسلام،ماہ نامہ پھول،تعلیم وتربیت،ہمدردنونہال،گلوبل سائنس اور کمپیوٹنگ رسائل کامطالعہ شروع کیا۔پہلی تحریر شہیدپاکستان حکیم محمدسعیدصاحب کے بچوں کے لیے لکھے گئے سفرنامہ ترکی سے ”ماؤنٹ ایورسٹ پر پہلاترک“ کے نام سے لکھی،جوتعلیم وتربیت میں اعزازی تحریرکے طورپرشایع ہوئی۔ اُس وقت دلی خوشی محسوس ہوئی اور لکھنے کاجذبہ بیدارہوا۔
٭٭٭٭٭




سوال: اپنے آبائی علاقے کے حوالے سے کچھ بتائیں، کن حوالوں سے مشہور ہے؟
جواب:میراشہرہارون آباد غلہ منڈی کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں مشہورہے۔یہاں ایشیاکی سب سے بڑی غلہ منڈی ہے،جہاں پرآپ کو موقع پرہی فصل کی قیمت اداکردی جاتی ہے۔ہماراگاؤں قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے آس پاس کے دیہات سے کافی بڑاہے۔گاؤں کے پرائمری اِسکول میں تعلیم کامعیاراورطلبہ کی تعدادباقی گاؤں کے اِسکولزسے زیادہ ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭
سوال: آپ کا بچپن کیسے گزرا، کچھ بچپن کی یادوں کے حوالے سے بتائیں؟
جواب:میرابچپن کچھ خاص نہیں،بچپن میں ایک خاموش لڑکاتھا،جومدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کرسکااورحافظ قرآن نہیں بن سکااوراِسکول میں بھی چھے سات ماہ تک نالائق رہا۔بعدمیں اول جماعت سے لے کرمیٹرک تک اول یادوم پوزیشن حاصل کرتارہاہوں۔
٭٭٭٭٭




سوال:ابھی تک کی زندگی میں کس واقعے کو یادگار سمجھتے ہیں؟
جواب:پانچویں جماعت میں A+گریڈحاصل کرنے پرسندامتیازاور سلورمیڈل ملنے کی یادیں ابھی تک ذہن میں تازہ ہیں۔
٭٭٭٭٭
سوال: ادب اطفال کے مختلف لکھاریوں کے ریکارڈز پر کبھی کام کرنے کا خیال آیا ہے، کبھی اُن کے ریکارڈز بھی معلومات کی شکل میں بیان کیے ہیں؟
جواب:میری دلی خواہش ہے کہ ادب اطفال کے تمام لکھاریوں کے کوائف خوب صورت ڈائریکٹری کی صورت میں شایع کیے جائیں۔ڈائریکٹری میں لکھاری کی تصویر، نام، ولدیت،برقی پتہ،ڈاک کاپتہ،شناختی کارڈنمبر،موبائل نمبراورادب اطفال میں خدمات کامختصرمگرجامع تعارف موجودہو۔ڈائریکٹری میں بچوں کے ملکی وغیرملکی اردوادب اطفال کے ادیبوں کے کوائف شامل ہوں۔اس طرح ادیبوں کوایک دوسرے کوجاننے کاموقع ملے گا۔
٭٭٭٭٭




سوال: ادب اطفال کے رسائل کو کن موضوعات پر خاص طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے؟
جواب:موجودہ دورمیں رسائل کوجن،بھوت،پریوں کی کہانیوں سے ہٹ کرکچھ نیاشایع کرنے کی ضرورت ہے۔سائنسی ایجادات،معاشرے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ بچوں کے اخلاق وکردارکے بارے میں کہانیاں ہونی چاہیے۔برصغیرپاک وہندمیں انگریزوں کی سوسالہ غلامی کے دورمیں سب سے زیادہ نقصان ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدارکوپہنچاہے۔
٭٭٭٭٭
سوال:بچوں کے لئے غیر نصابی کتب و رسائل پڑھنا کیوں ضروری ہیں؟
جواب:ہم نے نصابی کتب کوصرف ڈگری کے حصول اور نوکری حاصل کرنے کاذریعہ بنالیاہے۔ہمارے طلبہ کوبتایاجاتاہے کہ چندجماعتیں پڑھ لیں،اچھی نوکری مل جائے گی۔ ہر ماں باپ کہتاہے،ہمارابیٹابڑاہوکرڈاکٹریاانجینئربنے،مگرکوئی یہ نہیں کہتاہے ہمارابیٹابڑاہوکرمعاشرے میں ایک اچھاانسان بنے۔غیرنصابی سرگرمیاں نہ صرف ہماری صحت کے لیے ضروری ہیں،بلکہ ہمارے اخلاق اورکردارسازی کے لیے بھی ضروری ہیں۔
٭٭٭٭٭




سوال: آپ کے خیال میں کس طرح سے بچوں کو رسائل وجرائد اورکتب بینی کی جانب مائل کیا جا سکتا ہے؟
جواب:بچوں کوسوشل میڈیاسے دوررکھاجائے،اس کے لیے والدین کوکم سے کم موبائل،کمپیوٹراورٹیلی ویژن استعمال کرناچاہیے۔بچوں کومہنگے ہوٹلزمیں کھاناکھلانے کے بہ جائے اُن کوہرہفتے یامہینے کچھ اچھی کتابیں اوربچوں کے رسائل لازمی خریدکرپڑھنے کے لیے دیں۔خود بچوں کے رسائل کامطالعہ کریں، بچے والدین کی تقلیدکرتے ہوئے رسائل کی جانب راغب ہوں گے۔
٭٭٭٭٭
سوال:کتابیں اور رسائل بڑی تعداد میں فروخت نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
جواب:جناب نذیرانبالوی صاحب کہتے ہیں:”جو پڑھنے والے تھے وہ لکھاری بن گئے ہیں۔“
پڑھنے والے کم ہوگئے اور رسائل کی فروخت نہ ہونے کے برابرہوگئی ہے۔ پی ڈی ایف میں کتب یارسائل کی غلط رسم چل نکلی ہے۔چندروپے کارسالہ کوئی بھی خریدنانہیں چاہتا۔ہم نے رسائل کی خریداری کوفضول خرچی میں شمارکرلیاہے۔لکھاری اور قاری دونوں کورسائل خریدکرپڑھنے چاہیے۔
٭٭٭٭٭




سوال: نوجوانوں کو کس طرح سے جرائم کی دنیا میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے؟
جواب:والدین اور اساتذہ کوہماری نوجوان نسل کی مناسب انداز سے تربیت کرنی چاہیے۔انھیں بچپن سے ہی اچھے اور برے کی تمیزسکھائی جائے۔ ادب اطفال کے رسائل اس حوالے سے سبق آموز کہانیاں شایع کریں۔
٭٭٭٭٭
سوال: کیا آپ نے ابھی تک جو چاہا ہے وہ حاصل کرلیا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ کاشکراوروالدین کی دعائیں ہیں،جتنامیں نے چاہا،اُس سے بڑھ کرمجھے ملاہے۔
٭٭٭٭٭
سوال: نئے لکھاریوں کو کیا انفرادیت کے لئے کوشش کرنی چاہیے؟
جواب:موجودہ دورمیں ہمارے رہن سہن کے اندازبدل گئے ہیں۔نئے لکھاری وقت کے تقاضوں کوملحوظ خاطررکھ کرکچھ نیالکھیں۔
٭٭٭٭٭
سوال: نئے لکھاریوں کو درپیش مسائل کو کیسے حل کرایا جا سکتا ہے؟
جواب:موجودہ دورمیں نئے لکھاریوں کوتقریباََ تمام سہولیات میسرہیں۔کچھ ایسے بھی لکھاری ہیں،جن کومعاشی مسائل کاسامناہے۔لکھاریوں کے مسائل کے حل کے لیے ماضی میں کئی فورمزقائم ہوئے،مگرقیادت کافقدان آڑے آتارہاہے۔اب بھی لکھاریوں کے مسائل کے حل کے لیے ہمیں ایک ایسے فورم کی ضرورت ہے،جہاں بغض وحسدکوبالائے طاق رکھ کرلکھاریوں کے مسائل حل کیے جائیں۔
٭٭٭٭٭




سوال:کیا آپ نئے لکھاریوں کو بھرپور مواقع دینے کے حق میں ہیں؟
جواب:ادب اطفال کے رسائل کونئے لکھاریوں کوموقع دیناچاہیے۔نئے لکھاریوں کی تحریرمیں نکھارپیداکریں اوراُن کی تحریریں اپنے رسائل میں شائع کریں۔
٭٭٭٭٭
سوال: کن نامور ادیبوں کے کام کو آپ بہت پسند کرتے ہیں؟
جواب:اشتیاق احمدمرحومؒ،علی اکمل تصور،نذیرانبالوی،غلام رسول زاہد،فہیم عالم،صدیقی سسٹرز،اعظم طارق کوہستانی،فیصل شہزاد ودیگرادیبوں نے اچھالکھاہے،لکھ رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
سوال:گذشتہ چند سالوں میں جو نئے لکھاری سامنے آئے ہیں، ان میں سے کن کے کام کو آپ خوب سراہتے ہیں؟
جواب:چندسالوں کے دوران کافی لکھاری میدان میں آئے ہیں۔ان میں سلمان یوسف سمیجہ کافی متحرک ہیں اور اچھاکام کررہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
سوال:اپنی زندگی سے کس قدر خوش ہیں؟
جواب:اللہ تعالیٰ کاشکرہے،پُرسکون زندگی گزررہی ہے۔
٭٭٭٭٭
سوال:کیا ہر لکھار ی کے لئے صاحب کتاب ہونا لازمی ہے؟
جواب:صاحب کتاب ہونااوربات ہے،لکھاری ہونااوربات ہے۔کتاب لکھ کرکوئی لکھاری نہیں بن جاتا۔لکھاری بننے کے لیے مسلسل مطالعہ اورمشق کی ضرورت ہے۔لکھاری کے لیے صاحب کتاب ہوناضروری نہیں۔کچھ لکھاری کتاب شایع کروانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے،مگراُن کاکام اُن کی پہچان ہوتاہے۔
٭٭٭٭٭
سوال:اپنے مستقبل کے حوالے سے کیا کچھ سوچ رکھا ہے؟
جواب:سرکاری ملازمت کے25سال مکمل کرنے کے بعدبھی بچوں کے لیے کام کرنے کاعزم ہے۔
٭٭٭٭٭
سوال: پذیرائی اورایوارڈز ایک لکھاری کے لئے کتنی اہمیت رکھتے ہیں؟
جواب:پذیرائی اورایوارڈز ایک لکھاری کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔یہ لکھاری کے لیے کچھ نیاکرنے کاجذبہ پیداکرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
سوال:آپ کے خیال میں ایک مدیر اورلکھاری کے درمیان تعلق کو کیسے بہترین رکھا جا سکتا ہے؟
جواب:موجودہ دورمیں موبائل فون کی سہولت ہرکسی کومیسرہے۔لکھاری اور مدیرکی مصروفیات میں فرق ہوتاہے۔لکھاری کومدیرسے اورمدیرکولکھاری سے رابطے میں رہنا چاہیے۔دونوں کوایک دوسرے کی مصروفیات کاخیال رکھناچاہیے۔
٭٭٭٭٭
سوال:کوئی پیغام جو آپ دینا چاہیں؟
جواب:بچوں کاادب ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ہمیں کسی ناکسی صورت میں بچوں کاادب کے لیے کام کرتے رہناچاہیے۔
آپ کے قیمتی وقت کا بے حد شکریہ۔
۔ختم شد۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 348 Articles with 304150 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
14 Jul, 2021 Views: 227

Comments

آپ کی رائے