ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں… عالمی طاقتوں کی بحر ہند پر حکمرانی کی کوششیں اور پاکستان کا کردار

 
 افغانستان سے جانے والے امریکہ کا اگلا ہدف چین کو اس کے مستقبل کے معاشی اہداف سے دور رکھنا ہے، چاہے افغانستان سے نکلنے کے کو امریکی شکست مانا جائے یا نہیں لیکن اس کی معیشت ابھی بھی ایک ہاتھی کی طرح بڑی ہے، اور اس جنگل نما دنیا میں وہی ایک بڑا ہاتھی ہے-
 
تو جیسے کہا جاتا ہے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں بالکل اسی انداز میں امریکہ کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے، اور ڈریگن کو روکنا اس ہاتھی کی خواہش ہے، یہاں اس کو ڈریگن (چین) کو روکنے کے لئے ایک چھوٹے ایشین ہاتھی (بھارت) کا ساتھ چاہئے-
 
ایک زمانہ تھا جب امریکی بحری قوت کو سب سے بڑی قوت تسلیم کیا جاتا تھا ، اب حالات بدل گئے اور مزید تیزی سے بدل رہے ہیں، چین کی بحری قوت بڑھ رہی ہے ان تیزی سے بدلتے حالات میں امریکہ کو بحر ہند میں اپنے تسلط کو مستحکم کرنے کے لئے نئے اتحادی درکار تھے۔
 
آسٹریلیا، جاپان، بھارت اور برطانیہ کے ساتھ ایک نئے اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں ، ملاکہ اسٹریٹ، تائیوان ، ساؤتھ چائینہ سی سے جڑے دیگر معاملات پر فریقین یعنی ایک طرف چین اور دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی پھر جب سے پاکستان اور چائنہ کے درمیان سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ انی شیٹو کی جانب آگے بڑھ رہے امریکہ اور پاکستان کے درمیان خلیج بھی بظاہر گہری ہوتی نظر آرہی ہے-
 
 
اور مڈل ایسٹ میں موجود امریکی کیمپ جو کبھی پاکستان کا کیمپ بھی تصور کیا جاتا تھا ، اب بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں والا معاملہ دیکھائی دے رہا ہے۔ امریکی ایڈمرل مہان نے درست کہا تھا، ایشیا پر اس کا اثر رسوخ چلے گا، جس کی بحر ہند میں اجارا داری ہوگی۔ اب اسی تناظر میں دیکھیں تو یہ تو واضح ہے کہ اتحادی چنے جا چکے ہیں، پاکستان کو بھی اپنا مفاد دیکھنا ہوگا-
 
کم از کم اب یہ تو واضح ہے اب اگر سی پیک کو روکنا کسی کی خواہش ہے تو ووہ اب زیادہ عرصے ہمارا دوست نہیں رہے گا۔چین کی بڑھتی ہوئی بحری قوت کے جواب میں امریکہ نے آسٹریلیا کو نیوکلیئر آبدوز کی ٹیکنالوجی دینے کا اعلان کیا ہے- آسٹریلیا برطانیہ کے بعد وہ پہلا ملک ہے جس کو امریکہ کی جانب سے یہ ٹیکنالوجی دی جارہی ہے، جس پر فرانس کو اپنے دفاعی سودے کے خاتمے کا رنج ہے کیوں کہ امریکہ کی پیشکش سے پہلے فرانس آسٹریلیا کو ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں بیچ رہا تھا، ڈیل ختم ہونے سے یقیناً اتحادیوں میں مسائل آگئے ہیں-
 
لیکن خطے میں آسٹریلیا کو Beef-Up (طاقتور) کیا جارہا ہے جو چین کے مفاد کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ساؤتھ چائنا سی خصوصاً ملاکہ اسٹریٹ (نقشے میں واضح ہے) جس سے دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتا ہے، دنیا کے کل سمندری تجارت کا 35 فیصد یہی سے ہوتا ہے( بمطابق Lehman 2008 )، ساؤتھ چائنہ سی میں اسٹریٹ آف ملاکہ کی اسٹریٹجک حیثیت ہے-
 
اس کے علاوہ دیگر مقامات بھی ہیں جن کی اپنی تجارتی اور فوجی اہمیت ہے، پھر بِحر ہند سے جڑے بُحیر عرب دنیا میں تیل کی سپلائی کا ایک بہت بڑا مرکز ہے جس کی وجہ سے سیاسی،تجارتی اقتصادی، فوجی لحاظ سے اہم مشرق وسطیٰ ہے۔
 
 
اب بات ہو جائے خطے میں پاکستان کی جیو اسٹریٹیجک لوکیشن کی، پاکستان وہ اکیلا ملک ہے جو چین کو مشرق وسطیٰ میں کم از کم وقت میں رسائی فراہم کر سکتا ہے، روس وسطی ایشیائی ممالک کے لئے افغانستان میں امن ہونے کے بعد وہی انفرا اسٹرکچر جو چین کے لئے سی پیک کی صورت میں دستیاب استعمال کیا جاسکتا ہے، جو ان ممالک کے لئے ترقی کے نئے دروازے کھول دے گا، ظاہر جب دروازے چین اور روس کے لئے کھلیں گے تو امریکہ بہادر کیوں خوش ہوگا؟
 
اور ظاہر ہے بھارت کو ٹھیک ویسے ہی چین کے خلاف استعمال کرنا چاہے گا جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے راجہ ارکاٹ سے ٹیپو سلطان کے میسور پر حملہ کروا دیا تھا جس کا خمیازہ اپنی جان دے کر راجہ ارکاٹ کو چکانا پڑا تھا، خیر بھارت بظاہر چین کو کچھ بھی کہے، یہ تو واضح ہے جنگ نہیں کرنا چاہے گا چین سے، خواہ بھارتی میڈیا کتنا ہی واویلا کرتا رہے دو محاظوں ( یعنی چین اور پاکستان ) پر ایک ساتھ جنگ کرنے کا لیکن ایسا اکیلا بھارت کے بس کی بات نہیں۔
 
ابھی افغانستان کے معاملے بھارت کو جو ٹھیس لگی اب اس قبل گوادر کی سسٹر پورٹ کہلانے والی چہابار کی بندرگاہ ایران نے بھارت کے استعمال سے لے کر چین کو دینے کا اعلان کیا، یوں خطے میں بھارت کو ایک اور اسٹریٹجک ضرب لگی، خیر نئے اتحاد بن رہے ہیں، یہ نئی صف بندیاں اور سمندروں کی حکمرانی کیا رنگ دکھائے گی وقت ہی بتائے گا۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
03 Oct, 2021 Views: 1431

Comments

آپ کی رائے