نظریہ پاکستان کے محافظ، مورخ ، محقق،بین الاقوامی معیار کے سکالر

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)
ڈاکٹر صفدر محمود سے وابستہ یادیں

ڈاکٹرصفدر محمود 30 دسمبر 1944ء کو گجرات کے نواحی قصبے ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے شعبہ سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ ابتداء میں کچھ عرصہ شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ 1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں سیاسیات کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد اعلی انتظامی اور حکومتی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ادارہ قومی تحقیق و حوالہ، وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر رہے۔ حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت اور بعد ازاں محکمہ تعلیم پنجاب کے سیکرٹری اور مرکزی وزارت تعلیم کے سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

انہوں نے کئی حکومتوں کو بنتے اور ٹوٹتے بھی دیکھا ۔حکومت پاکستان نے تاریخ(ہسٹری) کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی ایوارڈ تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بیس سے زائد کتابیں لکھیں جن میں "سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت (1954ء تا 1974ء)، پاکستان کیوں ٹوٹا، تاریخ و سیاست، دردآگہی (مضامین)، سدا بہار (مضامین)، اقبال، جناح اور پاکستان، تقسیم ہند، افسانہ اور حقیقت، علامہ اقبال، تصوف اور اولیاء کرام، بصیرت، امانت، حیات قائد اعظم، آئین پاکستان ، روشنی اورحکمت شامل ہیں۔ ان کا پسندیدہ موضوع تحریک پاکستان اور بانی پاکستان کی شخصیت ہی رہا۔مرحوم اس حوالے سے ہر اعتراض اور غلط تحریر کا مدلل جواب دیا کرتے تھے،اور اپنی ہر بات کو ثابت کرنے کے لیے مستند حوالوں کا سہارا لیتے ۔ڈاکٹر صفدر محمود بیورو کریٹ ہوتے ہوئے بھی ایک ادیب، محقق اور مورخ کے طور پر مقبول اور مشہورتھے۔تصوف ، روحانیت ،ادیبوں،نقاد حضرات اور صحافیوں میں ان کا حلقہ احباب بھی بہت وسیع تھا۔وہ ریٹائرمنٹ کے بعد نظریہ پاکستان میں اپنی خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ ابتدا میں کچھ عرصہ وہ نوائے وقت میں "صبح بخیر" کے عنوان سے کالم لکھا کرتے رہے۔ بعدا زاں دیگر قومی اخبارات میں روحانی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم لکھنے کا سلسلہ شعور کی حالت میں رہنے تک جاری رہا۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے وہ ایک مستند استاد کا درجہ حاصل کرچکے تھے ۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں وہ ہمیشہ جذباتی رہے، پاکستان سے ان کا عشق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔

ڈاکٹر صفدر محمود کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے ،جنہیں تاریخ و سیاست کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔اس اعتبار سے ان کی معلومات اور تحقیق کو زیادہ وسیع اور مستند قرار دیا جاسکتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں لکھی جانے والی شاید ہی کوئی کتاب ہوگی جس میں ڈاکٹر صفدر محمود کی کتابوں سے اقتباس اور حوالے شامل نہ ہوں ۔وہ امریکہ اور برطانیہ کی مختلف یونیورسٹوں اور اداروں میں پاکستان کے بارے میں بھی لیکچر دیتے رہے ۔علمی حلقوں میں وہ امور پاکستان کے ماہرین میں شمار کیے جاتے تھے۔اگریہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کچھ عرصہ سے پاکستانیت کو ایک باقاعدہ اور موثر علم کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ،جن لوگوں نے اس شعبہ علم کی تنظیم سازی اور اس کے بنیادی اسلوب کو متعین کرنے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان میں ڈاکٹر صفدر محمود کا نام سرفہرست نظرآتاہے ۔ان کے مضامین ملکی اور بین الاقوامی اعلی معیار کے تحقیقی و علمی جریدوں میں تسلسل سے شائع ہوتے رہے ۔ان میں خاص طور پر امریکی ،برطانوی اور جرمنی کے ریسرچ جرنلز قابل ذکر ہیں ۔مرحوم کیمبرج یونیورسٹی کے میگزین کے ریفری بھی رہے ۔1997ء میں وہ یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کے تین سال کے لیے رکن منتخب ہوئے۔اسلامی ممالک کی تنظیم آئی سسکو کے عالمی ایجوکیشن کمیشن کے نائب صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ متعدد بین الاقوامی سیمیناروں اور کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرتے رہے ۔پاکستان اور پاکستان سے باہر ان کی کتابوں اور ریسرچ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اب تک انکی کئی کتابوں کا ترجمہ جرمن، عربی ،ازبک ،سندھی اور چینی زبانوں میں ہوچکا ہے ۔انٹرنیشنل آفیئر کے حوالے سے ایک انگلش رسالہ جس کا نام "کرنٹ آفیئر"تھا ،ان کی ادارت میں سالہا تک شائع ہوتا ہے ۔ یہ رسالہ آج بھی قومی لائبریریوں میں دیکھا جاسکتا ہے ،اگر اس میگزین کو پاکستان کی حقیقی تاریخ کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
.................
ڈاکٹر صفدر محمود اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے۔ مگر اس حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔البتہ اگر کبھی شہر خموشاں سے گزر ہو اور مکینوں کے کتبے پڑھنے کا موقع ملے تو موت کی حقیقت کے نئے نئے پہلو سمجھ میں آتے ہیں ۔اس وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی عارضی ہے بلکہ دنیا کی ہر شے عارضی ہے تو اس احساس سے بہت سے نشے ہرن ہوجاتے ہیں ۔بہت سے خواب لڑکھڑانے لگتے ہیں اور غوروفکر کے انداز بدلنے لگتے ہیں۔خالق کائنات نے زندگی کو کچھ اس انداز سے تشکیل دیا ہے کہ کہ یہ احساس یا ادراک بھی لمحاتی نظر آتاہے اور پھر انسان حسب معمول دنیا کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے، جیسے اسے قیامت تک زندہ رہنا ہے۔جیسے موت دوسروں کے لیے ہے ،اس کے لیے نہیں ۔اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمایاکرتے تھے کہ موت کو نہ مانگو لیکن موت کو یاد ضرور رکھو۔انسان اگر اسے یاد کرتا رہے تو شاید نہ تکبر ،غرور اور ہوس کا شکار ہو، نہ ہی قتل و غارت کامرتکب ہو ، نہ زبان کی تلوار سے دوسروں کو مجروح کرے اور نہ ہی کسی کی حق تلفی کی جرات کرے ۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ موت کو یاد رکھو تاکہ زندگی کے سارے نشے ہرن ہوجائیں،چاہے اقتدار کا نشہ ہو ، دولت یا شہرت کا نشہ ہو یا حسن کا ۔

وہ مزید لکھتے ہیں زندگی کی کتاب میرے سامنے کھلی تھی اور میں یادوں کے البم میں تصویریں دیکھتے دیکھتے اپنے آپ میں گم تھا۔ایک عجیب سی کیفیت مجھ پر طاری تھی جسے شاید میں بیان کرنے پہ قدرت نہیں رکھتا۔ ان تصویروں میں بہت سے چہرے شناسا تھے کیونکہ کسی سے گہری دوستی رہی ،کوئی سروس میں کولیگ تھا ،کسی سے اچھی شناسائی تھی ،کسی سے سرراہ یا کسی سے محفل میں ملاقات ہوئی تھی ، کوئی زندگی میں شہرت و مقبولیت کے اعلی ترین مقام پر جگمگاتا رہا تھا ،کسی کی شاعری ،کسی کی نثر، کسی کے علم ،کسی کی دانشوری ،کسی کی سریلی آواز ، کسی کے حسن ، کسی کی عالمانہ کتابوں اور تقاریر کے چرچے چار سو تھے ۔کوئی بڑا صنعت کار ، کوئی بڑا کھلاڑی ،کوئی سیاست دان اور کوئی اپنے زمانے کا بڑا مقرر تھا لیکن آج سب کے سب منوں مٹی کے نیچے سو رہے ہیں ۔انہیں عزیز واقارب کندھوں پر اٹھا کر قبر میں اتار آئے تھے، جہاں دولت ،شہرت ، علم ، طاقت ، اقتدار، حسن حتی کہ کچھ بھی کام نہیں آتا ، بجز نیکی کے ۔ان کے نام بھی اس لیے مانوس ہیں کہ یہ ہمارے ہم عصر تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد زمانہ ان کے ناموں سے بھی ناآشنا ہو جائے گا ۔عجیب بات ہے کہ چند ایک حضرات جو سروس میں مجھ سے سنیئر تھے مگر ان سے آشنائی تھی، ان کی موت کی خبر بھی اس کتاب سے ملی ۔ یہ ہے زندگی ۔ ایک وقت ہم اکٹھے ہوتے ہیں، ہر روز ملتے ہیں لیکن پھر زندگی یوں بکھیر دیتی ہے کہ کون کب پیوند خاک ہوا ،پتہ ہی نہیں چلتا۔

خزاں کے موسم میں ہرے بھرے پتے زرداورخشک ہو کر ٹہنیوں سے گرتے رہتے ہیں اور "کوڑے شوڑے"کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔اسی طرح انسان بھی زندگی کی ٹہنیوں سے پژمردہ ہوکر گرتا اور سانس سے ناطہ توڑتا رہتا ہے ،مگر زندگی کی حرض ، ہوس اور بھاگ دوڑ میں شریک لوگوں کو خبرتک نہیں ہوتی کہ کون کہاں گرا۔زندگی کی بے ثباتی کی کیفیت طاری ہو تو ان فرعونوں پہ رحم آتا ہے جو اقتدار کے تخت پر بیٹھ کر یا قارون کے خزانے کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں سجا کر یا اپنی شہرت اور دانشوری کے زور پر دوسروں کو لتاڑتے ہیں یا مجروح کرتے ہیں ۔ میری زندگی بیشمار واقعات اور حوادث سے عبارت ہے۔ہم زندگی کی متاثر کرتے رہے۔ مختصربات یہ ہے کہ زندگی الجھی ہوئی ڈور نہیں ۔یہ ایک سیدھی سادی پگڈنڈی ہے ،جس پر انسان چلتا رہتا ہے اس میں اتار چڑھاؤ ،ٹھوکریں ،گرنے ، سنبھلنے ،عروج و زوال کے مقامات بھی آتے رہتے ہیں ۔امتحانات، آزمائشیں بھی ۔ نا گہانی مصیبتیں بھی اور غیر متوقع انعامات بھی ۔میں زندگی کی اس پگڈنڈی کو مقدر کی شاہراہ سمجھتا ہوں جس پر سفر کے دوران کچھ فیصلے انسان خود کرتا ہے اور کچھ فیصلے قدرت اس سے کرواتی ہے ۔
................
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی زندگی بھرپور گزاری ،لیکن میرے مشاہدے کے مطابق انہوں کسی کا دل نہیں دکھایا بلکہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو اپنا مقدر جان کر معاملہ اﷲ کے سپرد کردیا۔ حسن اتفاق سے مجھے بھی ان کے ماتحت پنجاب صنعتی ترقیاتی بورڈ (جو ایک نیم سرکاری محکمہ تھا جس کا دفتر لاہور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری) کی پانچ منزلہ عمارت میں ہوا کرتا تھا )ملازمت کرنے کا اتفاق ہوا۔ میں گیارہویں گریڈ کا سیٹنوگرافر تھا اور وہ ہمارے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے،لکھنے لکھانے کا دور وہاں بھی چلتا رہتا تھا لیکن اس وقت وہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد سیاسی واقعات پر تحقیق کرکے لکھا کرتے تھے ۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ مجھے پی آئی ڈی پی کی یونین کا صدر بنا دیا گیا ۔اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد چند ایک بار مجھے مذاکرات کے لیے ان کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا ۔ وہ نہایت محبت سے پیش آتے بلکہ ہمارے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتے ،یہ 1985ء کے دنوں کی بات ہے ۔ ایک بات کا تذکرہ یہاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام ملازمین کے حاضری رجسٹر روزانہ ان کے پاس جایا کرتے تھے ،لیٹ آنے والے ملازمین اور افسران کی حاضری کے خانے میں کانٹا ( کراس ) لگایا کرتے تھے لیکن میں جب بھی دفتر پہنچنے میں لیٹ ہوا انہوں نے میری حاضری کے خانے میں ڈبل کراس لگایا۔ایک دن میں اس مہربانی کے بارے میں پوچھ ہی لیا کہ آپ میری حاضری کے خانے میں ڈبل کراس کیوں لگاتے ہو۔وہ میری بات پر مسکرائے اور فرمایا تم یونین کے لیڈر ہو اگر لیڈر ہی لیٹ آئے گا تو باقی ملازمین بھی لیٹ آئیں گے ،میں اس لیے آپ کی حاضری کے خانے میں ڈبل کراس لگاتا ہوں کہ آپ نے آگے بڑھنا ہے ،اگر آپ وقت کی پابندی نہیں کرینگے تو آگے کیسے بڑھیں گے ۔اس زمانے میں کمپوٹر ابھی دفاتر میں نہیں آیا تھا ، میرے پاس ٹائپ رائٹر ہی تھا جس پر میں ٹائپ کرکے خطوط اور آفس نوٹ تیار کیا کرتا تھا ۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ موت محدود سے لامحدود میں داخل ہونے کا نام ہے ۔موت برحق ہے اور ہر ذی روح کا مقدر ہے۔اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ،ماسوائے سچے عشق کے ......سچا عشق آنکھوں سے اوجھل بھی ہوجائے تو دلوں میں عقیدت کی روشنی کے ساتھ زندہ رہتا ہے تا قیامت زندہ رہے گا گویا وہ موت قبول کرکے موت کو شکست دیتا ہے۔یہی سچے عشق کی پہچان ہے،اسی لیے سچے عاشقوں کے مزار دن رات زندہ رہتے ہیں اور مسلسل یہ پیغام دیتے رہتے ہیں کہ عشق حقیقی ابدی حقیقت ہے،اسے موت نہیں ما رسکتی ۔
.....................
اعلی ترین انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ڈاکٹر صفدر محمود کی زندگی کے معمولات تبدیل نہ ہوئے ،وہ اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے روحانیت کی دنیا کی تلاش میں مصروف عمل رہے ،ان کا اٹھنا بیٹھنا درویشوں کے ساتھ رہا ۔اس حوالے سے بیشمار واقعات ان کی کتاب "بصیرت" میں دیکھے اور پڑھے جا سکتے ہیں ۔اب وہی تصوف اور روحانی دنیا کا شاہکار انسان منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر گجرات کے نواحی قصبے "ڈنگہ " کے ایک قبرستان میں جا سویا ہے ،وہ شخص جسے دنیا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا پاسبان قرار دیا کرتی تھی آج اس کی پہچان مٹی کا ایک ڈھیربن کے رہ گئی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہی زندگی کی حقیقت ہے ۔انسان ہزار سال بھی جی لے پھر بھی اسے موت سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔ موت ایک حقیقت ہے اور وہی لوگ کامیاب ٹھہرتے ہیں جو اس کے آنے سے پہلے آخرت کی تیاری کرلیتے ہیں ۔جو زندگی کی رنگینوں میں کھو کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ابھی موت نہیں آنی ،ان کا شمار دنیا والے احمقوں میں کرتے ۔

دعا ہے کہ اﷲ تعالی ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ بلاشبہ وہ سچے عاشق رسول، کالم نگار، مصنف، صحافی، مؤرخ، دانشور، ماہر تعلیم بھی تھے وہ 77 سال کی عمر میں 13ستمبر 2021ء کو لاہور میں انتقال فرماگئے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔( بیشک ہم سب اﷲ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 614 Articles with 347176 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2021 Views: 182

Comments

آپ کی رائے