محبت میں ناکامی، ساس بہو کے جھگڑوں سے ہٹ کر بھی کچھ ہو سکتا ہے، پاکستان ٹی وی کے وہ ڈرامے جو منفرد کہانیوں کے سبب مشہور ہوئے

 
پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے ہر دور میں اپنی منفرد کہانیوں ،بہترین ڈائرکشن اور منجھی ہوئی اداکاری کی وجہ سے ہر دور میں دنیا بھر میں مقبول رہے ہیں ۔ سرحد پار ہندوستان میں تنہائیاں، ہم سفر، زندگی گلزار ہے جیسے ڈرامے نہ صرف بہت پسند سے دیکھے گئے بلکہ ان کی مقبولیت نے ہر طرح کے ریکارڈ توڑ دیے- مگر پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ڈرامے بھی بھیڑ چال کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان کی کہانیاں صرف لو اسٹوریز، گھریلو سازشوں کے گرد گھومتی نظر آرہی ہیں ہر چینل کسی بھی نئے تجربے کو کرنے سے گھبرا رہا ہے اور کسی بھی منفرد کہانی پر ڈرامہ بنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کچھ ڈرامے ایسے بھی ہیں جو کہ منفرد کہانیوں اور موضوعات کے باوجود بہت مشہور ہوئے بلکہ بہت پسند بھی کیے گئے ایسے ہی کچھ ڈراموں کے بارے میں آج ہم آپ کو بتائیں گے-
 
الف
الف کی کہانی ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے دنیاوی زندگی میں کامیابیاں حاصل کر لیں۔ اس کو اپنی زندگی کی ابتدا میں یہ محسوس ہوا کہ درحقیقت خوشی انہی دنیاوی چیزوں کا حصول ہی خوشی کا سبب ہوتا ہے مگر جب سب کچھ حاصل کر لیا تو اس کی اندر کی بے سکونی نے اس کو بے چین کر دیا حمزہ علی عباسی اور سجل علی نے اس ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اس کی کہانی عمیرہ احمد کے ایک ناول سے ماخوذ ہے ۔ اس ڈرامے کی کہانی انسانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں سکون درحقیقت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے پر ہے۔ اور اگر انسان اس راستے کو نہیں اپناتا ہے تو وہ بے چینی اور بے سکونی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس ڈرامے کی شہرت نے یہ ثابت کیا کہ اچھے پیغام والے ڈرامے کامیاب ہوتے ہیں-
 
پری زاد
لو اسٹوریز ہر دور میں کامیاب ہوتی ہیں اور ہاشم ندیم ایسے ڈرامے لکھنے میں بہت ماہر مانے جاتے ہیں ان کے لکھے گئے خدا اور محبت اور اس کے سیکوئيل عوام میں بہت مقبول ہوتے رہے ہیں۔ مگر اس بار ان کے ناول پری زاد نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں- یہ ڈرامہ ایک ایسے انسان کی کہانی پر مشتمل ہے جو اپنے والدین کی سب سے چھوٹی اولاد ہوتی ہے اور اس کی گندمی رنگت کے سبب بچپن سے اس کو لوگوں کی جانب سے تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے- اپنی شخصیت کی اس کمی کو وہ اپنی تعلیم میں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر غربت کے سبب تعلیمی میدان میں بھی ادھورا سفر چھوڑ کر عملی زندگی میں قدم رکھ دیتا ہے جہاں اس کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- احمد علی اکبر نے اس ڈرامے میں پری زاد کا کردار اس خوبصورتی سے ادا کیا کہ سب ہی ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کے معترف ہو گئے-
 
رانجھا رانجھا کر دی
فائزہ افتخار کا تحریر کردہ ڈرامہ رانجھا رانجھا کردی کی کہانی بھولا نامی ایک کردار کے گرد گھومتی تھی جو کہ ذہنی طور پر پسماندہ تھا۔ اس کردار کو عمران اشرف نے بہت ہی اچھے انداز میں ادا کیا ۔ یہ ڈرامہ اپنے اندر ذہنی پسماندہ افراد اور ان سے جڑے افراد کے مسائل کو بیان کر رہا تھا۔ فائزہ افتخار نے اس ڈرامے میں اس کہانی کو نہ صرف بہترین انداز میں پیش کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی طبقاتی نظام کی خرابیوں کی بھی نشاندہی کی۔ اس ڈرامے نے اپنے وقت میں مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے اور نوری اور بھولے کا کردار اور جوڑی عوام میں بہت مقبول ہوئی تھی اپنی منفرد کہانی کے سبب آج تک یہ ڈرامہ لوگوں کو یاد ہے-
 
پیار کے صدقے
پیار کے صدقے نامی ڈرامہ زنجبیل عاصم شاہ کے زور قلم کا نتیجہ تھا ۔ جس میں انہوں نے عبداللہ (بلال عباس ) اور مہہ جبین (یمنی زیدی) کی کہانی پیش کی تھی جو کہ تعلیمی میدان میں عام بچوں کی طرح پوزیشن ہولڈر تو نہ تھے مگر زندگی کو اپنے انداز میں محسوس کر سکتے ہیں- اس ڈرامے کے ذریعے انہوں نے ان تمام بچوں کے والدین اور اسکول اساتذہ کو یہ سبق بھی دیا کہ بچوں کے اچھے اور برے ہونے کا فیصلہ ان کے امتحان میں حاصل کیے جانے والے نمبروں کی بنیاد پر غلط ہے بلکہ ان کو ان کی شخصیت کے مطابق ڈیل کرنا چاہیے- اس ڈرامے نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی بہت مقبولیت حاصل کی اور اس کی منفرد کہانی کو بہت سراہا گیا-
 
ڈر سی جاتی ہے صلہ
جنسی ہراسگی ڈراموں میں بیان کرنا موضوع کی حساسیت کے سبب ایک بہت مشکل موضوع تصور کیا جاتا ہے- مگر بی گل نے اس موضوع پر ڈرامہ تحریر کر کے نہ صرف وقت کے اہم ترین موضوع کو اجاگر کیا بلکہ اس کو بہت ہی بہترین انداز میں پیش بھی کیا- یہی وجہ ہے کہ اس ڈرامے نے نہ صرف عوام میں مقبولیت حاصل کی بلکہ اس ڈرامے کو اپنے وقت کے سارے اہم ترین ایوارڈ بھی ملے۔ اس ڈرامے میں مرکزی کردار صلہ (یمنیٰ زیدی ) جوئی نامی رشتے دار کے ہاتھوں جنسی ہراسگی کا سامنا کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کی خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے اور دنیا کی نظر میں وہ ایب نارمل قرار پاتی ہے اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے والا جوئی اس کو خوف کا شکار کرتا نظر آتا ہے-
 
یہ تمام ڈرامے اور ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر منفرد موضوعات پر ڈرامے بنائے جائيں تو عوام نہ صرف ان کو شوق سے دیکھتی ہے بلکہ اس سے سبق بھی سیکھتی ہے -
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
09 Oct, 2021 Views: 8259

Comments

آپ کی رائے