دل ۔ تعلیمات نبوی ﷺ کے آئینے میں

(Fahad Anwar, Rawalpindi)

انسانی بدن میں دل اللہ تعالی ٰ کی وہ مخلوق ہے جس نے طبقہ انسانی کے مختلف افراد کو ہر دور میں اپنی طرف متوجہ رکھا ہے ۔ جسم انسانی پر تحقیق کرنےوالے افراد ، شعراء ، ادباء، صوفیاء حتی کہ گروہ انسانی کے اعلی ٰ ترین افراد انبیاء کرام ؑ نے دل کے حوالے سے خصوصی تعلیمات دی ہیں ۔ بظاہر تو یہ ایک گوشت کا لوتھڑا ہے جو سینے کی ہڈیوں کے اندر بند ہے لیکن حضرت سلطان باہوؒ صوفیاء کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
دل دریا سمندروں ڈونگے
کون دلاں دیاجانے ھو
اردو کے صوفی شاعر خواجہ میر درد کہتے ہیں ۔
جائیے کیوں درد مے خانے کے بیچ
اک عجب مستی ہے اپنے دل کے پیمانے کے بیچ
جبکہ اردو کے ممتاز معاصر شاعر بشیر بدر گویا ہیں ۔
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
طبی تحقیق کے ماہرین دل کو بدن انسانی کا مرکز قرار دیتے ہیں جس کی مسلسل اور مناسب حرکت سے پورےجسم انسانی میں زندگی کے آثار ہوتے ہیں ۔پورے جسم کو صاف خون فراہم کرنا اورجسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل فاسد خون لے کراس کو صاف کرنادل کا کام ہے ۔دل مسلسل بند ہوتا اور کھلتا رہتا ہے ، بند ہونے پر خون سے بھرتا ہے ، یہی بندہونا اورکھلنا ہی دل کی دھڑکنیں ہے۔ ایک منٹ میں دل 72 مرتبہ دھڑکتا ہے ۔ ایک دھڑکن جیسے کارڈیک سائیکل ( Cardiac Cycle ) کہتے ہیں ، اعشاریہ آٹھ 0.8 سیکنڈ کی ہوتی ہے ۔ اتنی مختصر مدت میں دل کئی پیچیدہ مراحل سے گزرتا ہے جن کو بیان کرنا ایک مستقل مقالے کا موضوع ہے ۔ یہ کارڈیک سائیکل جیسے آگے مزید چھ یا سات حصوں میں تقسیم در تقسیم کیا گیا ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی ٰ کی قدرت کاملہ اور کاریگری کی نشانیوں میں سے ہے ۔ اس کے علاوہ دل کی بناوٹ اس انداز کی ہے کہ دل کی بیماری کا اثر پورے بدن انسانی پر پڑتا ہے اوردل اگر تندرست ہو تو باقی تمام بدن پر اس کا خوشگوار اثر پڑتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی ہمیں دل کے متعلق قیمتی تعلیمات ملتی ہیں ، قرآن وحدیث میں بنیادی طور پر ان اعمال واخلاق کو ذکر موضوع لایا گیا ہے جن سے انسان کی دنیا وآخرت سنورتی ہے ، اسی حوالے سے دل کی مختلف حالتوں اوراس کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالے سے اشارات وارد ہوئے ہیں ۔
قرآن کریم اوراحادیث طیبہ دل کو بطور خاص موضوع بناتے ہیں لیکن جسمانی صحت کے اعتبار سے نہیں بلکہ روحانی صحت کے اعتبار سے ، یہ اس وجہ سے کہ نزول قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے مقصود انسان کو سعادت عظمی ٰ اور نجات دائمی سےہم کنار کرنے والے اعمال سے مزین کرنا ہے ۔ اعمال کے نتیجے میں انسان کو جسمانی صحت بھی حاصل ہوجاتی ہے ۔
قرآن وسنت میں غور وفکر (نظر ) کرنے معلوم ہو تا ہے کہ دل کی حقیقت محض ایک گوشت کے لوتھڑی تک نہیں ہے بلکہ دل جذبات ،واحساسات کا مرکز ہے اوراس کی مختلف حالتیں ہیں۔ یہ سخت بھی ہوتا ہے اورنرم بھی پڑتا ہے ۔ نرمی کی حالت میں اس میں قبول حق کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اورسختی کی حالت میں یہ کسی اثر کو قبول نہیں کرتا ۔ دل کی سختی ایک ناپسندیدہ حالت ہے جس کے بارے میں ارشاد ربانی ہے :
فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ (الزمر:22 )
ان لوگوں کے لیے بڑی خرابی ہے جن کے دل اللہ کی یاد کے لیے سخت ہوگئے ہیں ( کہ اللہ کے ذکر اور آیات قرآنیہ کو سن کر اس کا آثر نہ لیں )
جبکہ دل کی نرمی ایک پسندیدہ صفت ہے :
ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ (الزمر:23 )
(قرآن کریم کے آثر سے ) ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لی نرم پڑ جاتے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ نے ایک جگہ اہل ایمان کی تعریف ان کی نرم دلی کی وجہ سے فرمائی ہے ۔ " تمہارے یہاں اہل یمن آگئے ہیں ، ان کے دل کے پردے باریک ، دل نرم ہوتے ہیں ، ایمان اہل یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی (اچھی ) ہے ۔( متفق علیہ )
آپ ﷺ نے دل کی درستگی کوسارے جسم کی درستگی او صلاح کا مدار قرار دیا ہے اوردل کی خرابی کو سارے جسم کی خرابی کا سبب قرار دیا ہے ۔" آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب تک وہ صحیح رہا ہے تو پورا جسم صحیح رہتاہے اورجب وہ بگڑ جاتا ہے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ۔آگاہ رہو وہ دل ہے ۔ ( متفق علیہ )
آپ ﷺ نے دل کو ایمان کے نور سے روشن ہونے والے اور تو اور گناہ کے اندھیروں سے تاریک ہوجانے والا قرار دیا۔ آپ ؤ ﷺ کے ارشادات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان بھی دل میں بسیرا کرتا ہے اور کفر بھی دل میں ڈیرا ڈالتا ہے ۔
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے ، باز آجائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگرہ وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلاجائے تو وہ دھبہ بڑھ جاتا ہے ۔یہ وہی رنگ ہے جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ( کَلَّا بَل رَانَ عَلٰی قُلُوبِھم مَّا کَانُوا یَکسِبُونَ ۔ ( ابن ماجہ )
ایک جگہ آپ ﷺ نے دل کی مختلف حالتوں کا بیان فرمایا ، ابوسعید خدری رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا دل چار طرح کے ہیں ، غلاف (اور نفاق ) سے خالی دل ، چراغ کی طرح چمکتا ہوا۔ غلاف شدہ دل جس سے اس کا غلاف زائل نہیں ہوتا۔ الٹا ہوا دل ۔دو رخا دل ، غلاف سے خالی دل تو مومن کا ہے وہ ایسا چراغ ہے جس میں اس کا نور ہے ۔ غلاف ہوا دل کافر کا ہے ۔ الٹا ہوادل منافق کا ہے ۔ اس نے ( حق کو ) پہچانا پھر اس کا ا نکار کردیا ۔ دو رُخا دل وہ ہے جس میں ایمان اور نفاق دونوں ہیں ۔ ( مسند احمد ، بسند ضعیف رقم : 1112 )
ایک تو دل کی ظاہری صورت وحیات ہے اور ایک دل کی معنوی صورت وموت ہے ۔ ہر ممکن ہے کہ ظاہر میں دل کا لوتھڑا دھڑک رہا ہو لیکن حقیقت میں وہ ایسا مردہ ہو کہ اس سے کوئی خیر کا کام صادر نہ ہو ۔ آ پ ﷺ نے دل کی موت سے بھی خبردار فرمایا :چنانچہ فرمایا کہ زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے ۔
دل کی حالتیں چونکہ پلٹتی رہتی ہیں اور اسکو ایک حالت پر رکھنا ایک دشوار کام ہے جو اللہ تعالی ٰ کی توفیق سے ہی ہوسکتا ہے لہذا آپ ﷺ نے خود اس کی دعا فرماکر امت کو عملی تعلیم دے دی :
"نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی دل ایسا نہیں جو اللہ تعالی ٰ کی دو ا نگلیوں کے درمیان نہ ہو ، اگر چاہیں تو اسے سیدھا کر دیں اور چاہیں تو اسے ٹیڑھا کردیں ۔ اور رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔" اے دلوں کو جمانے والے، ہمارے دلوں کو اپنےد ین پر جمادے ، اور میزان رحمن ٰ کے ہاتھ میں ہوگا ، بعض لوگوں کو قیامت کےدن بلند مرتبہ کرے گا اور بعض لوگوں کو پست مرتبہ کرے گا ۔ ( ابن ماجہ :199 )
دل کا مقام نبی اکرم ﷺ کے نزدیک کیا ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں میں افضل ترین شخص اسے قرار دیا جس کا دل پاک صاف ہو اور پرہیزگار ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن ) رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا آدمی بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نےے جواب دیا " ہر وہ شخص جو مخموم دل اور زبان کا سچا ہو" یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ زبان کے سچے کو توہم جانتے ہیں (کہ زبان کا سچا اس شخص کو کہتے ہیں جو کبھی جھوٹ نہ بولے ) لیکن "مخموم دل " سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : " مخموم دل وہ شخص ہےجس کا دل پاس وصاف ہو ، پرہیز گار ہو، اس میں کوئی گناہ نہ ہو ، اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہو ، حد سے تجاوز نہ کیا ہو، اور اس میں کدورت وکینہ اور حسد کا مادہ نہ ہو ۔( ابن ماجہ : 4216 )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fahad Anwar

Read More Articles by Fahad Anwar: 2 Articles with 748 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2021 Views: 330

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ