قائدِ جنگ ِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی

(Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore)
یٰسٓ اختر مصباحی
دارالقلم، ذاکر نگر، نئی دہلی
انقلاب ۱۸۵۷ء میں عُلمائے کرام نے مذہبی فریضہ کے طور پر انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتاویٰ جاری کیے اور عملی طور پر بھی جنگ میں شریک ہوکر مجاہدین کے حوصلے بڑھائے اور انقلابیوں کی بھرپور قیادت کی جن میں قائدِ جنگِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی،دِلاور جنگ مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا فیض احمد عثمانی بدایونی کانام سب سے نمایاں ہے۔ مولانا مدراسی اپنے پیر و مرشد حضرت محراب شاہ قلندر گوالیاری کے حکم پر تقریباً ۱۸۴۶ء سے انگریزوں کے خلاف اپنی منصوبہ بند خفیہ مہم چلارہے تھے جسے علامہ خیرآبادی کے ہم سبق ساتھی مفتی صدر الدین آزردہؔ دہلوی کی سرپرستی حاصل تھی۔

مشہور علمائے انقلاب ۱۸۵۷ء میں چند سربرآوردہ حضرات کے نام یہ ہیں۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی ،مفتی صدر الدین آزردہؔ دہلوی، مولاناسید کفایت علی کافیؔ مرادآبادی، مفتی عنایت احمدکاکوروی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبرآبادی، مولانا امام بخش صہبائیؔ دہلوی، مفتی مظہرکریم دریابادی۔
رئیس احمدجعفری ندوی (۱۹۱۲ئ۔۱۹۶۸ئ)لکھتے ہیں: ’’اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں عُلما نے نمایاں حصہ لیا۔بقول ایک اہلِ علم اور محقق کے: مولانا فضلِ امام صدرالصدور دہلی، مفتی صدرالدین خاں آزردہؔ، مفتی عنایت احمدکاکوری منصِف صدر امین کول و بریلی، مولانا فضلِ رسول بدایونی سررشتہ دار کلکٹری صدر دفتر سہسوان، مفتی اِنعام اللہ گوپامئوی قاضیِ دہلی وسرکاری وکیل الہ آباد، مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی سررشتہ دار امین بریلی، علامہ فضلِ حق خیرآبادی سررشتہ دارریزیڈنسی دہلی وصدر الصدور لکھنؤ ومہتمم حضور تحصیل اَوَدھ، مولوی غلام قادر گوپامئوی ناظر سر رشتہ دار عدالت دیوانی وتحصیل دار گوڑ گاؤں، مولوی قاضی فیض اللہ کشمیری سررشتہ دار صدالصدور دہلی وغیرہ۔یہ سب اس وقت کے بے نظیر وعدیم المثال اکابر عُلما تھے۔حکومت کی باگ ڈور انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔

مسلمانوں کی سلطنت کی بربادی ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھی۔موقعہ کا انتظار تھا۔۱۸۵۷ء کا وقت آیا تو سب میں پیش پیش یہی حضرات تھے۔

والیانِ ریاست اور اراکینِ دولت میں ناقوس ِحریت پھونکنے والے یہی تھے۔ عوام کو ابھارنا اور فتواے جہاد جاری کرنا انہیں کا کام تھا۔

اورانقلاب۱۸۵۷ء کے بعد سب سے زیادہ مصائب اٹھانے اور آتشِ حریت میں جلنے والے یہی شمعِ شبستانِ آزادی کے پروانے تھے۔
(ص۸۵۵۔بہادرشاہ ظفر اور ان کا عہد،مؤلفہ رئیس احمد جعفری ندوی، طبعِ اول کتاب منزل لاہور۔ سالِ طبع ندارد۔تقدیمِ کتاب از مؤلف مؤرخہ دسمبر ۱۹۵۵ئ)

تاریخ ِ انقلاب پر لکھی گئی کتابوں کے عام اندازہ کے مطابق لگ بھگ پندرہ ہزار عُلَما اور کئی لاکھ مسلمان جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں شہید کیے گئے تھے۔

مذکورہ عُلَما کو جن عُلما و مشائخِ سلف سے کسی نہ کسی شکل میں فکری و عملی رہنمائی ملی ان میں سے چند اہم نام درج ذیل ہیں:
(۱)حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی۱۱۷۶ھ/ ۱۷۶۲ئ) (۲)حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی دہلوی (متوفی۱۱۹۵ھ/ ۱۷۸۱ئ) (۳)حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (متوفی ۱۲۳۹ھ/۲۴۔ ۱۸۲۳ئ) (۴)حضرت قاضی ثناء اللہ مجددی پانی پتی (متوفی ۱۲۲۵ھ/ ۱۸۱۰ئ) (۵)حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی (متوفی۱۲۳۳ھ/ ۱۸۱۸ئ) (۶)حضرت مفتی محمدعوض بریلوی (متوفی۱۲۳۶ھ/ ۱۸۲۱ئ) (۷)حضرت مفتی شرف الدین رام پوری (متوفی ۱۲۶۸ھ/ ۱۸۵۲ئ)

امام الحکمۃ والکلام قائدِجنگِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی(متوفی۱۲۷۸ھ؍۱۸۶۱ئ) کی دینی وعلمی اور ادبی وسیاسی خدمات نے اپنے پورے عہد کو متأثر کیا اورآپ کے نقوشِ فکر وعمل آج بھی اہلِ وطن اور سوادِ اعظم اہلِ سنت و جماعت کے لئے مَشعَلِ راہ ہیں۔

علم و فضل کے لحاظ سے علامہ فضل ِ حق خیرآبادی جامعِ منقول و معقول عالمِ متبحر اور یگانۂ عصر فاضلِ جلیل تھے۔رئیسانہ شان وشوکت کے ساتھ قلندرانہ جرأت واستقامت کے بھی پیکر تھے۔اوروہ فکر و تحقیق کی بلند چوٹی پہ فائز ایک ایسے ’’بلند پروازشاہین‘‘تھے جس کی مختلف علوم و فنون پر غائرانہ ومجتہدانہ نظر اور جُزئیات وکلیاتِ علوم وفنونِ متداولہ سب پر ان کی دسترس اور گرفت یکساں تھی۔

علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے سوادِ اعظم اہلِ سنت و جماعت کے قدیم ومتوارث عقائد ومعمولات سے مزاحم ومتصادم جدید مذھبی افکار و رجحانات کا شرعی مؤاخذہ اور سخت تعاقب فرمایا جس پر ’’تحقیقُ الفتویٰ‘‘اور’’اِمتناعُ النظیر ‘‘جیسی آپ کی شاہکار کتابیں شاہدِعدل ہیں

ہندوستان کے مشہور خِطۂ اَودھ کا ایک مردم خیزقصبہ خیرآباد(ضلع سیتا پور، اتر پردیش) قائدِ جنگِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی (۱۷۹۷ئ۔۱۸۶۱ء ) کا وطنِ اصلی ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد علامہ خیرآبادی دہلی آگئے۔ دہلی میں اپنے والد ماجد علامہ فضلِ امام خیرآبادی صدر الصدور (چیف جسٹس) دہلی (وصال۱۲۴۰ھ؍۲۵۔۱۸۲۴ئ) وشاہ عبدالقادر محدث دہلوی(وصال۱۲۳۰ھ؍ ۱۸۱۵ئ) وشاہ عبد العزیز محدث دہلوی (وصال۱۲۳۹ھ؍ ۲۴۔۱۸۲۳ئ) سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بعمر تیرہ سال۱۲۲۵ھ؍ ۱۸۱۰ء میں فارغ التحصیل ہوئے اور زندگی بھر آپ درس و تدریس و تصنیف و تالیف سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ رہے۔ آپ کی متعدد اہم دینی وعلمی تصانیف مطبوعہ وغیر مطبوعہ موجود ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں ہندوستان کے جلیل القدر عُلَما مثلاً مولانا عبد الحق خیرآبادی فرزندِ علامہ فضلِ حق خیرآبادی، مولانا ہدایت اللہ جون پوری، مولانا عبد القادر بدایونی فرزندِ علامہ فضلِ رسول بدایونی، مولانا فیض الحسن سہارن پوری جیسے مشاہیر اور مولانا ابو الکلام آزاد کے والد مولانا خیرالدین دہلوی اور خواجہ الطاف حسین حالیؔ کے استاذ مولانا قلندر علی زبیری پانی پتی جیسے حضرات شامل ہیں۔

حکیم محمود احمد برکاتی ٹونکی (کراچی) نبیرئہ حکیم سید برکات احمد ٹونکی (متوفی ۱۳۴۷ھ/ ۱۹۲۸ئ)تلمیذِ علامہ عبد الحق خیرآبادی(متوفی۱۳۱۶ھ؍۱۸۹۸ئ) نہایت اختصار کے ساتھ آپ کا تعارف اس طرح تحریر کرتے ہیں: ’’ولادت ۱۲۱۲ھ/ ۱۷۹۷ئ۔ فراغتِ درس (بعمر ۱۳سال) ۱۲۲۵ھ/ ۱۸۱۰ئ۔ملازمتِ کمپنی ۱۲۳۱/ ۱۸۱۶سے کچھ قبل۔ ولادتِ فرزند گرامی (مولانا عبدالحق) ۱۲۴۴ھ/ ۱۸۲۸ئ۔ ولادتِ فرزند (علاء الحق) ۱۲۴۶ھ/ ۱۸۳۰ئ۔ وفاتِ والد ماجد (مولانا فضلِ امام خیرآبادی)۱۲۴۰ھ/۲۵۔۱۸۲۴ئ۔ کمپنی کی ملازمت (سررشتہ داری عدالت دیوانی دہلی) سے استعفاء ۱۲۴۵ھ/ ۱۸۳۱ء کے اواخر میں۔ ملازمت ریاست ِجھجھر میں ۱۲۴۶ھ/ ۱۸۳۲ئ۔ پھر چند سال اَلْور،سہارن پور اور ٹونک میں قیام کے بعد ۱۲۵۶ھ/ ۱۸۴۰ء سے ۱۲۶۴ھ/ ۱۸۴۸ء تک ریاست رام پور میں قیام ( محکمۂ نظامت اور مرافعۂ عدالتین کے حاکم کی حیثیت سے) ۱۲۶۴ھ/ ۱۸۴۸ء سے ۱۲۷۲ھ/ ۱۸۵۶ء کے اوائل تک لکھنؤ میں قیام (کچہری حضور تحصیل کے مہتمم اور صدر الصدور کی حیثیت سے) ۱۲۷۲ھ/ ۱۸۵۶ء کے ابتدائی مہینوں میں اَلْور تشریف لے آئے اور رمضان ۱۲۷۳ھ/ مئی ۱۸۵۷ء میں سن ستاون کی جنگِ آزادی کے آغاز پر دہلی تشریف لے آئے اور پورے ڈیڑھ سال (مئی ۱۸۵۷ء سے دسمبر ۱۸۵۸ئ) تک دہلی اور اودھ کے مختلف اضلاع میں مجاہدینِ حریت کی رفاقت، اعانت اور قیادت فرماتے رہے۔

جنوری ۱۸۵۹ء میں گرفتار کرلیے گئے۔ مقدمہ چلا اور جرم ثابت ہونے پر تمام زرعی اور مسکونہ جائداد اور ذخیرئہ نوادر کتب خانے کی ضبطی اور حبسِ دوام بعبور دریائے شور کی سزا سُنادی گئی۔ اکتوبر ۱۸۵۹ء میں پورٹ بلیئر (جزائر انڈمان) پہنچا دیئے گئے جہاں ۱۲؍صفر ۱۲۷۸ھ/ اگست ۱۸۶۱ء کو ۶۶ سال کی عمر میں وصال ہوا۔ (ص۲۰ و۲۱۔فضل حق اور۱۸۵۷ء مؤلفہ حکیم محموداحمدبرکاتی ٹونکی،مطبوعہ برکات اکیڈمی۔کراچی۔۱۹۷۵ئ)

نواب فیض محمد خاں والیِ ریاستِ جھجھر (پنجاب) کی دعوت پر جب علامہ خیرآبادی ۱۸۳۱ء میں دہلی چھوڑ کر جھجھر جانے لگے توآخری مغل بادشاہ، بہادر شاہ ظفر(متوفی۱۸۶۲ئ، رنگوُن، برما) نے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنا دوشالہ آپ کو اُڑھاکر پُرنم آنکھوں سے وداع کرتے ہوئے کہا:’’چوں کہ آپ جانے کو تیار ہیں اس لئے اب اس کے سوا میرے لئے کوئی چارہ نہیں کہ میں بھی اسے منظور کروں مگر اللہ جانتا ہے کہ لفظ ِوداع زبان پر لانا دشوار ہے۔ (یادگار غالب،ؔ مطبوعہ دہلی)

جھجھر(پنجاب)اور ریاست اَلْوروٹونک ورام پور میں ملازمت کے بعد آخر میں آپ لکھنؤ پہنچے اور وہاں صدر الصدور اور مہتمم ’’حضور تحصیل‘‘ ہوئے۔ دہلی میں بھی عرصہ تک آپ سررشتہ دار رہے۔ دو سال تک سہارن پور میں بھی کسی عہدہ پر فائز رہے۔ آپ نے کئی معرکۃ ُالآرا کتابیں لکھیں اور آپ کے کئی ایک شاگرد اپنے دور کے مشاہیر عُلَماو فُضَلا میں شمار ہوتے ہیں۔

علامہ فضل حق اور مفتی صدرالدین آزردہؔ منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور معقولات میں علامہ فضلِ امام خیرآبادی کے شاگرد تھے۔ علامہ خیرآبادی اور مفتی آزردہؔ دہلوی کا گھر دہلی کے عُلَما و فُضَلا و اُدَبا و شُعَرا کا مرکز تھا۔

ماہِ مئی میں انقلاب ۱۸۵۷ء شروع ہوا توعلامہ خیرآبادی ریاست اَلْور(راج پوتانہ۔ موجودہ صوبہ راجستھان) سے دہلی کئی بار آئے گئے۔ بہادر شاہ ظفر سے ملاقاتیں کیں۔جنرل بخت خاں سے مشورے کیے اور انقلاب کی رہنمائی کرتے رہے۔

علامہ فضلِ حق کے دہلی پہنچنے اورفتواے جہاد جاری کرنے کے تعلق سے غلامِ رسول مہرؔ (۱۸۸۵ء ۔ ۱۹۷۱ئ)جوحلقۂ دیوبند واہلِ حدیث کے معروف مؤرخ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ: مولانا (فضلِ حق خیرآبادی)کے دہلی پہنچنے سے پیشتر بھی بعض لوگوں نے جہاد کا پرچم بلند کیا تھا ۔مولانا پہنچے تو مسلمانوں کو جنگ پر آمادہ کرنے کی غرض سے باقاعدہ ایک فتویٰ مرتب ہوا جس پرعلمائے دہلی سے دست خط لیے گئے ۔میرا خیال ہے کہ یہ فتویٰ مولانا فضل حق ہی کے مشورہ سے تیار ہوا تھا او رانہیں نے عُلَما کے نام تجویز کیے جن سے دست خط لیے گئے۔ (ص:۲۰۰۔ ۱۸۵۷ء کے مجاہد۔ مرتبہ غلام رسول مہرؔ،طبع سوم لاہور۱۹۹۱ئ)
علامہ فضلِ حق خیرآبادی کی زندگی کاایک روشن پہلویہ ہے کہ آپ نے انقلاب۱۸۵۷ء میں نمایاں اور قائدانہ کردار اداکرتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی کی غاصبانہ وظالمانہ پیش قدمی روکنے کی بھر پور کوشش کی اور مئی ۱۸۵۷ء میں جب میرٹھ سے دہلی تک کے ہندوستانیوں نے انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کیا تو شاہجہانی جامع مسجد دہلی میں علامہ خیرآبادی نے اپنی ولولہ انگیز تقریر اور فتواے جہاد کے ذریعہ برطانوی سامراج کی بنیادیں ہلادیں اور اس فتواے جہاد کے نتیجے میں نوے ہزار (۹۰۰۰۰) ہندوستانی سپاہی اور فوجی دہلی میں جمع ہو کر اپنے ملک و قوم و وطن کے وقار و خودمختاری کی راہ میں جان ومال کی قربانی دینے کے لئے صف آراوکمر بستہ ہوگئے۔

ملک و ملت و امورِ سلطنت و رفاہِ خلق سے علامہ فضل حق خیرآبادی کی دل چسپی کوئی نئی نہیں تھی بلکہ آغازِ امر ہی سے تھی۔ چنانچہ انقلاب ۱۸۵۷ء سے تقریباً تیس (۳۰)سال پہلے اکبرشاہ ثانی (متوفی ۱۸۳۷ئ) کے نام رعایائے شہر دہلی کے نمایندہ و ترجمان کی حیثیت سے جو درخواست علامہ فضل حق نے تقریباً ۱۸۲۶ء میں پیش کی تھی اس سے آپ کی دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ درخواست بزبان ’’فارسی‘‘ ہے جو نوائے ادب بمبئی جلد۱۳۔ شمارہ ۳؍ جولائی ۱۹۶۲ء میں شائع ہوچکی ہے۔ حکیم محمود احمد برکاتی ٹونکی نے اپنی مذکورہ کتاب(فضلِ حق اور ۱۸۵۷ء ۔مطبوعہ کراچی) کے ضمیمہ (ص۹۱تا ۹۴) میں اس کو شائع کردیا ہے۔ جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

’’یہاں کے باشندے ہندو ہوں یا مسلمان، ملازمت، تجارت، زراعت، حرفت، زمینداری اور دریوزہ گری پر معاش رکھتے ہیں۔ انگریزوں کی حکومت کے قیام سے معاش کے یہ تمام وسائل مسدود و مفقود ہوگئے ہیں۔ ملازمت کے دروازے شہریوں پر بند ہیں۔ تجارت پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ کپڑا، سوت، ظروف اور گھوڑے وغیرہ تک وہ فرنگ سے لے کر خود فروخت کرکے نفع کماتے ہیں۔ معافی داروں کی معافیاں ضبط کرلی گئی ہیں۔ کسانوں کو محاصل کی کثرت نے بدحال کردیا ہے۔

ان چاروں طبقوں کی زبوں حالت کے نتیجے میں اہلِ حرفہ اور ان کے سب کے نتیجے میں دریوزہ گر تنگیِ معاش کے شکار ہیں۔

دہلی میں ہوڈل وغیرہ بہت سے پرگنے جاگیر میں شامل تھے اور جاگیرداروں کے یہاں ہزاروں آدمی فوج، انتظامی امور اور شاگرد پیشہ کی خدمت پر مامور تھے۔ اب یہ پرگنے اور دیہات و مواضعات انگریزوں نے ضبط کرلیے ہیں اور لاکھوں کسان بے روزگار ہوگئے ہیں۔

بیوائوں کی معاش چرخہ کاتنے، رسیاں بٹنے اور چکی پیسنے پر موقوف تھی۔ اب رسّی کی تجارت حکومت (کمپنی) نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور ہاتھ کی چکیوں کی جگہ پن چکیاں لگ گئی ہیں تو یہ ذریعۂ معاش بھی جاتا رہا۔

عوام کی اس بے بضاعتی اور بے روزگاری کی وجہ سے اہلِ حرفہ اور ساہو کار بے روزگار اور رزق سے محروم ہوگئے ہیں۔

ان سب پر مستزاد چارلس مٹکاف نے یہ حکم دیا ہے کہ غریب زرِ چوکیداری ادا کریں۔ (ولایات متحدہ اودھ و آگرہ میں ۱۸۱۴ء میں چوکیدارہ ٹیکس کا قانون نافذ ہوا۔ اسی دوران یا چند سال بعد دہلی میں بھی یہ قانون نافذ کیا گیا۔ حاشیۂ کتاب)

دوسرا حکم یہ ہوا کہ ہرگلی کے دروازے پر پھاٹک لگایا جائے جس کا کوئی فائدہ معلوم و متصور نہیں ہے۔
تیسرا حکم یہ ہوا ہے کہ ان پھاٹکوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر ہوں جس سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

چوتھا حکم یہ ہوا ہے کہ ہر محلے میںپانچ پانچ پنچ مقرر کیے جائیں۔‘‘

اس درخواست سے جہاں مولانا فضل حق خیرآبادی کی سیاسی بصیرت اور عوام کے مسائل اور شہری زندگی کی مشکلات پر ان کی گہری نگاہ کا ثبوت ملتاہے وہاں یہ بھی اندازہ ہوجاتاہے کہ انھوں نے ان تمام مشکلات و مصائب کے سرچشمہ پر انگلی رکھ کر صحیح تشخیص کرلی تھی۔ اور اسباب کا تجسس کرکے اس کا تعین فرمادیا تھا کہ یہ سارے مسائل غیرملکی حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں۔

پھر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ درخواست دہلی کے ریزیڈنٹ کے نام نہیں ہے جو شہر و ضلع کا حقیقی (عملاً) حاکم تھا۔ بلکہ ’’حضور جہاں پناہ ‘‘ کے نام ہے۔ یعنی ساکنانِ دہلی کے مسائل لال قلعہ کے بے اختیار و محروم ِاقتدار مغل ’’شہنشاہ‘‘ (اکبر شاہ ثانی) کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ حالاں کہ لال قلعہ ۱۸۰۳ء سے ویران تھا اور اکبر شاہ ثانی کے والد شاہِ عالم کی حکومت دہلی سے پالم تک رہ گئی تھی۔ اکبرشاہ ثانی کی تو صرف لال قلعہ تک محدود تھی۔ خود ’’شہنشاہ‘‘نے کمپنی کی وظیفہ خواری پر قناعت کرلی تھی اور عوام بھی اپنی تمام ضروریات کے سلسلے میں نئے حکمرانوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ (ص۲۴تا۲۶۔ فضل حق خیرآبادی اور ۱۸۵۷ئ۔ از محمود احمد برکاتی ٹونکی۔ مطبوعہ کراچی ۱۹۷۵ئ)

باشندگانِ شہر دہلی کے نمائندہ کی حیثیت سے علامہ فضل حق خیرآبادی کی طرف سے اکبرشاہ ثانی کی خدمت میں پیش کردہ درخواست پر ایک جامع اور فکر انگیز تبصرہ کرتے ہوئے حکیم محمود احمد برکاتی ٹونکی مزید تحریر فرماتے ہیں: ’’ان حالات میں برصغیر کا ایک عالم دین۔ جس کے لئے کہاجاتاہے کہ وہ سیاست نہیں جانتا— عوام کو دوبارہ لال قلعہ کے پھاٹک کی طرف لیے جارہا ہے اور ان کی طرف سے درخواست لکھ کر اور ان کے حالات و خیالات کا ترجمان بن کر ان کو ’’حضور جہاں پناہ‘‘ کے دیوانِ عام میں لا کھڑا کردیتاہے۔

اور اس طرح ایک پیچیدہ نفسیاتی تحریک چلاتاہے جس سے ایک طرف عوام کو دوبارہ اپنے جانے پہچانے مرکزِ حکومت سے گرہ کشائی اور حلِ مشکلات کی توقعات پیدا ہوں گی۔

دوسری طرف خود ان ’’جہاں پناہ‘‘ کی خودی کے بیدار ہونے کے امکانات ابھریں گے اور ان کی غیرت و حمیت بھی ممکن ہے انگڑائی لے کر جاگ اٹھے۔تیسری طرف برطانوی حکومت کے کارکن چونکیں گے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ سمتِ قبلہ پھر تبدیل ہورہی ہے۔

اور وہ چونک کر ایک طرف تو ان مشکلات پر توجہ دیں گے، دوسری طرف شاہ کے ساتھ اپنے رویہ میں نرمی اختیار کریں گے اور ان گستاخیوں اور اہانت کوشیوں کو لگام دیں گے جن کا سلسلہ انھوں نے کئی سال سے شروع کر رکھا تھا۔ (ص۲۷۔ فضل حق خیرآبادی اور ۱۸۵۷ئ۔ از حکیم محمود احمد برکاتی۔مطبوعہ کراچی۱۹۷۵ئ)

یہ ہے اصل تاریخ انقلاب کا وہ تسلسل جسے علامہ فضل حق خیرآبادی کی دور بیں نگاہوں نے اپنی خداداد ذکاوت و فطانت و استقامت و بصیرت سے دار السلطنت دہلی کی سرزمین پر رقم کی ہے مگر اس تاریخ کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ڈیڑھ صدی سے مٹانے، چھپانے، بھلانے بلکہ اپنے خونِ جگر سے اس تاریخ کو رقم کرنے والے فرزندِ عظیم و بطلِ جلیل کی شخصیت و حیثیت کو مجروح و داغ دار کرنے کی بھی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ اس غفلت شعاری و احسان ناشناسی و محسن کشی پر رئیس احمد جعفری و نادم سیتاپوری جیسے حضرات بھی اپنا درد و کرب نہ چھپاسکے اور انھیں لکھنا پڑا کہ: ’’مولانا فضل حق خیرآبادی ایک یگانۂ روزگار عالم تھے۔ عربی زبان کے مانے ہوئے ادیب اور شاعر تھے۔ علوم عقلی کے امام اور مجتہد تھے۔ اور ان سب سے بالا ان کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ بہت بڑے سیاست داں، مفکر اور مدبر بھی تھے۔ مسندِ درس پہ بیٹھ کر وہ علوم و فنون کی تعلیم دیتے تھے اور ایوانِ حکومت میں پہنچ کر وہ دور رس فیصلے کرتے تھے۔ وہ بہادر اور شجاع بھی تھے۔

’’غدر‘‘ کے بعد نہ جانے کتنے سورما اور رزم آرا ایسے تھے جو گوشۂ عافیت کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے، لیکن مولانا فضل حق ان لوگوں میں تھے جو اپنے کیے پر نادم و پشیماں نہیں تھے۔ انھوں نے سوچ سمجھ کر میدان میں قدم رکھا تھا اور اپنے اقدام و عمل کے نتائج بھگتنے کے لئے وہ حوصلہ مندی اور دلیری کے ساتھ تیار تھے۔ سراسیمگی، دہشت، اور خوف یہ ایسی چیزیں تھیں جن سے مولانا بالکل ناواقف تھے۔

مولانا کی شخصیت، سیرت، کردار اور علم و فضل پر ضرورت تھی کہ ایک مفصل کتاب لکھی جاتی۔ لیکن وہ ایک زود فراموش قوم کے فرد تھے۔ فراموش کردیے گئے، اور کچھ دنوں کے بعد لوگ حیرت سے دریافت کریں گے کہ۔ یہ کون بزرگ تھے؟ ‘‘(ص۸۵۴۔ بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد۔ مؤلفہ رئیس احمد جعفری، طبع اول۔کتاب منزل لاہور)

’’ انگریز اور ان کے ہوا خواہ تو مولانا (فضل حق خیرآبادی) سے اس لئے ناراض تھے کہ انقلاب ۱۸۵۷ء کے سلسلے میں کسی نہ کسی نہج (بلکہ قائدانہ حیثیت سے ۔ اختر مصباحی) سے ان کانام آگیا۔ لیکن خود مسلمانوں کا ایک ’’پروپگنڈسٹ گروپ‘‘ مولانا سے اس لئے بے زار تھا کہ وہ ان کے مذہبی نظریات کے خلاف عالمانہ مجاہدہ کرچکے تھے۔

یہ باوقار علمی مباحثے کوئی ذاتی اور عامیانہ جنگ نہیں تھی جس کا سہارا لے کر مولانا خیرآبادی کے خلاف ایک مستقل محاذ قائم کردیا جاتا۔ لیکن ہوا کچھ ایسا ہی‘‘۔ (ص۱۰۱۔ غالب نام آورم از نادم سیتاپوری ۔مطبوعہ لاہور)

علامہ فضل حق خیرآبادی کی بصیرت و مآل اندیشی، ہمت و شجاعت اور ان کے استقلال و استقامت پر قربان جائیے کہ ایک طرف لگ بھگ ۱۸۲۶ء میں وہ برطانوی اقتدار کو نظر انداز کرتے ہوئے باشندگانِ دہلی کی قیادت و نمائندگی کرتے ہوئے اپنے قدیم مرکز لال قلعہ سے ان کی وابستگی مضبوط کرنے کے لئے اکبرشاہ ثانی کے دروازے پر ایک جم غفیر کے ساتھ دستک دیتے ہیں اور دوسری جانب عین حالتِ اسیری میں جزیرئہ انڈمان سے اپنے ملک کے باشندوں کی اور خود اپنی داستانِ کرب و بلا (بشکل الثورۃ الھندیۃ و قصائد فتنۃ الھند) لکھ کر ۱۲۷۷ھ/ ۱۸۶۰ء میں مفتی عنایت احمد کاکوروی (متوفی ۱۸۷۹ئ/ ۱۸۶۳ئ) کے بدست انڈمان سے ہندوستان لکھ بھیجتے ہیں اور اس خطرناک و زہرہ گداز اقدام پر ان کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی کہ انگریز ظالموں کو اگر اس کی خبر لگ گئی تو پھر اس کا انجام کتنا بھیانک ہوگا؟ ایسے ہی اصحاب عزیمت و استقامت کی بارگاہ میں یہ شعر نذر کیے جانے کے لائق ہے اور صحیح معنوں میںیہی علمائے حق اس کے مستحق بھی ہیں کہ ان کے بارے میں کہا جائے۔
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رو باہی

علامہ فضلِ امام خیرآبادی (علامہ فضلِ حق خیرآبادی کے والد ماجد) صدر الصدور (چیف جسٹس) دہلی کے ایک مقتدرونامور شاگرد مفتی صدر الدین آزردہؔ دہلوی(وصال ۱۸۶۸ئ) بھی ۱۸۴۶ء سے ۱۸۵۷ء تک دہلی کے صدر الصدور (چیف جسٹس ) رہے جو علامہ فضلِ حق کے گہرے دوست اور آزادیِ وطن کے اولین منصوبہ سازوں کے سرپرست تھے۔

۱۸۴۸ء سے اوائلِ ۱۸۵۶ء تک علامہ فضلِ حق خیرآبادی لکھنؤ کے صدر الصدور (چیف جسٹس) تھے پھر ریاستِ اَلْور (میوات) کے راجہ کی خواہش ودعوت پر ریاست اَلْور سے وابستہ ہوگئے اورآخری مغل تاج دار بہادرشاہ ظفر (وصال ۱۸۶۲ء ) کی ’’کِنگ کونسل‘‘ جسے ’’پریوی کونسل‘‘ بھی لکھاگیا ہے اس کے علامہ فضل حق خیرآبادی ایک اہم ممبر اور پھر اس کے ڈائرکٹر بھی مقرر ہوئے۔

انگریزوں کا ایک گماشتہ جاسوس عبد اللطیف اپنے روزنامچہ میں لکھتا ہے:جب ہنگامہ (مئی ۱۸۵۷ئ) برپا ہوا تو مولوی فضل حق آئے۔ دربارمیں حاضر ہوئے۔ نذر پیش کی۔ روپیہ صدقے اتارے۔ انہیں انتظام سنبھالنے کی خواہش تھی۔ (ص۹۶۔ ۱۸۵۷ء کاروزنامچہ ۔ مرتبہ پروفیسر خلیق احمدنظامی ، مطبوعہ دہلی)

منشی ذکاء اللہ دہلوی( متوفی۱۹۱۰ء ) انقلاب ۱۸۵۷ء کے وقت پچیس سالہ نوجوان تھے جو انگریزحامی ذہن رکھتے تھے، انہوں نے اپنی ضخیم تاریخی کتاب میں لکھا ہے کہ:ضلع گوڑگانوہ ( میوات) کے زمین داروں کی طرف سے درخواست آئی کہ سارے ضلع میں بدنظمی ہے۔ کوئی حاکم انتظام کے لئے بادشاہ کی طرف سے بھیجا جائے۔بادشاہ ( بہادرشاہ ظفر) نے یہ کام مولوی فضلِ حق کے سپرد کیا۔

مولوی (فضلِ حق) صاحب عالمِ متبحر مشہور تھے۔ وہ اَلْوَرْ(میوات) سے ترکِ ملازمت کرکے (دہلی ) آئے تھے۔ انہوں نے بادشاہ کے لئے دستور العمل لکھا تھا۔ (ص۶۸۷۔ تاریخِ عروجِ عہدِ سلطنتِ انگلشیۂ ہند، مؤلفہ ذکاء اللہ دہلوی۔ مطبوعہ شمس المطابع دہلی۔ ۱۹۰۳ئ)

انگریزوں کے ایک ہندوستانی جاسوس گوری شنکر نے ۱۸؍ اگست ۱۸۵۷ء کی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے ، شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اُکسانے میں مصرو ف ہے۔
(INDIAN OFFICE LONDON, MUTINY COLLECTION NO.170- PP. 442-443)
ایک دوسرے جاسوس منشی جیون لال نے ۱۸؍ اگست ۱۸۵۷ء کی اپنی یادداشت میں لکھا ہے : مولوی فضلِ حق نے بیان کیا کہ: انگریز وں نے اخبار میں چھاپا ہے کہ جس وقت دہلی فتح ہوگی شہر میں قتلِ عام کیا جائے گا اور شہر خوب غارت ہوگا اور بادشاہی خاندان میں سے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا نہیں ہوگا۔

اور کمالِ تأسف کی بات یہ ہے کہ سپاہیوں نے لڑائی کے قواعد چھوڑ دیے ہیں لہٰذا کوئی صورت انگریزوں پر فتح کی معلوم نہیں ہوتی۔

اس پر بادشاہ(بہادرشاہ ظفر ) نے کہا کہ: تم فوج میں اپنا بندوبست کرو اور آپ ان کو خود لڑانے لے جایا کرو۔
اس کے جواب میں اس (فضلِ حق) نے کہا کہ: فوج بھوکوں مرتی ہے اور جب تک اس کوخرچ نہیں دیا جائے گا یہ ہرگز کسی کا کہنا نہیں مانے گی۔ اس پر (شاہی ) حکم ہوا کہ: تم اپنے ساتھ فوج لو اور خود مال گذاری کی تحصیل کرو۔( غدر کی صبح وشام مطبوعہ دہلی ۱۹۲۶ئ، مشمولہ ، ص:۲۱۲۔ سرگذشتِ دہلی ۔ مؤلفہ ڈاکٹر درخشاں تاجور۔ مطبوعہ رضا لائبریری رام پور، یوپی، انڈیا)

شاہی طبیب اور برطانوی وفادار حکیم احسن اللہ خاں علامہ فضل حق خیرآبادی کے جہادِ مسلسل کا ذکر اس طرح کرتاہے: مولوی (فضلِ حق) صاحب جب بھی بادشاہ (بہادرشاہ ظفر) کے پاس آتے، بادشاہ کو مشورہ دیتے کہ: جہاد کی مہم میں اپنی رعایا کی ہمت افزائی کریں اور ان کے ساتھ باہر (میدان جنگ میں) بھی نکلیں ۔ فوجی دَستوں کو جس حد تک ممکن ہوبہتر معاوضہ دیں۔
(Memoirs of Hakeem Ahasanullah khan, karachi- p:24)

سید مبارک شاہ کوتوالِ دہلی بزمانۂ انقلاب ۱۸۵۷ء کابیان ہے: بہادرشاہ ظفر نے جنرل بخت خاں، مولوی سرفراز علی اور مولوی فضلِ حق پر مشتمل ایک ’’کِنگ کونسل‘‘ تشکیل دی تھی۔
(THE GREAT REVOLUTION OF 1857- D.S. MOEENUL HAQUE- KARACHI, 1968- P.182-183)

بہاد رشاہ ظفر سے علامہ فضلِ حق خیرآبادی کی ملاقات ومشورہ، علمائے دہلی سے تبادلۂ خیالات اور انقلابیوں سے رسم وراہ کا یہ سلسلہ مئی ۱۸۵۷ء سے جاری رہا۔ اور جب جنرل بخت خاں روہیلہ ۲۴؍ جون یا پہلی جولائی ۱۸۵۷ء کو بریلی سے چودہ ہزار فوج لے کر دہلی پہنچا تو:علامہ فضل حق خیرآبادی نے بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد دہلی میں عُلَما کے سامنے تقریر کی۔ استفتا پیش کیا ۔مفتی صدر الدین آزردہؔ صدرالصدور دہلی، مولوی عبدالقادر، قاضی فیض اللہ دہلوی، فیض احمد بدایونی، ڈاکٹر وزیر خاں اکبرآبادی، سید مبارک شاہ رام پوری نے دست خط کیے۔

اس فتویٰ کے شائع ہوتے ہی ملک میں عام شورش بڑھ گئی۔ دہلی میں نوے ہزار سپاہ جمع ہوگئی۔ (تاریخ ذکاء اللہ دہلوی مطبوعہ دہلی ۱۹۰۳ء ۔ص:۲۱۵۔باغی ہندوستان مؤلفہ عبد الشاہد شیروانی علی گڑھی،طبعِ پنجم مبارک پور ۔وطبع اول مدینہ پریس بجنور، ۱۹۴۷ء ۔مع مقدمۂ مولانا ابوالکلام آزادؔ)

انگریزوں کے مُخبرچنی لال اور تراب علی کی رپورٹ ہے: مولوی فضلِ حق اپنے مواعظ سے عوام کو مسلسل بھڑ کارہے ہیں۔ (اخبارِ دہلی ۲۷۳۔فائل ۱۲۷۔ رپورٹ از چنی لال)

مولوی فضل حق کی اشتعال انگیزیوںسے متأثر ہو کر شہزادے بھی میدان میں نکل آئے ہیں۔ سبزی منڈی (دہلی) کے پھل والے محاذ پر صف آرا ہیں۔ (اخبارِ دہلی۔ رپورٹ تراب علی)

ستمبر۱۸۵۷ء میں انقلاب کی ناکامی اور دہلی پر انگریزوں کے مکمل قبضہ کے بعد جب ہندوستانیوں کی روپوشی اور داروگیر کا سلسلہ شروع ہوا تو سیتاپور، اَوَدھ سے جنوری ۱۸۵۹ء میں علامہ فضل حق خیرآبادی بھی گرفتار ہوئے اور لکھنؤ کورٹ میں آپ کے خلاف مقدمہ دائرہوا۔آپ نے اپنے مقدمہ کی خود وکالت کی اور جب کورٹ کے انگریز جج نے انگریزوں کے خلاف آپ کے فتواے جہاد کا ذکر چھیڑا تو آپ نے بے خوف وخطر انگریز جج کے سامنے برملا اعلان کیا کہ:ہاں! وہ فتویٰ صحیح ہے۔ اسے میں نے ہی لکھا ہے او رآج بھی میں اپنے اس فتویٰ پر قائم ہوں۔

مولانا رحمن علی نے تذکرۂ علماے ہند، مطبوعہ لکھنؤو کراچی ۔مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی نے ’’غدر کے چند عُلَما‘‘ مطبوعہ دہلی۔ غلام رسول مہرؔ نے ’’۱۸۵۷ء کے مجاہد‘‘ مطبوعہ لاہور۔ مولانا عبد الشاہد شیروانی علی گڑھی نے ’’باغی ہندوستان‘‘ طبع اول مدینہ پریس بجنور ۱۹۴۷ء مع مقدمۂ مولانا ابو الکلام آزاد ۔ مولانا امداد صابری دہلوی نے ’’داستانِ شرف‘‘ مطبوعہ دہلی۔ رئیس احمد جعفری ندوی نے ’’بہادرشاہ ظفر اور ان کا عہد‘‘ مطبوعہ لاہور۔ مولانا عبد السلام ندوی نے ’’حکماے اسلام ‘‘ جلد دوم، مطبوعہ اعظم گڑھ۔ اور حکیم محمود احمد برکاتی ٹونکی نے’’ ۱۸۵۷ء اورفضلِ حق‘‘ مطبوعہ کراچی میں مذکورہ حالات و واقعات تفصیل سے لکھے ہیں۔

مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی لکھتے ہیں:دلاور جنگ مولوی احمد اللہ مدراسی آگرہ سے لکھنؤ آئے۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار کے خلاف عُلما میں سرگرمیِ عمل پیدا کررہے تھے ۔ مولانا (فضلِ حق خیرآبادی) بھی ان کے ہم نوا ہوگئے۔ اور سرکاری ملازمت ترک کرکے اَلْور (میوات) چلے گئے۔ ہنگامہ ۱۸۵۷ء رونما ہوا۔ دہلی آئے ۔بہادر شاہ ظفر سے ملے۔ یہاں جنرل بخت خاں کے ٹھاٹ جمے ہوئے تھے ۔ نصاریٰ کے خلاف جہاد کا فتویٰ مولانا نے دیا اور اس پر مفتی صدر الدین آزردہؔ، مولوی فیض احمد بدایونی، ڈاکٹر مولوی وزیر خاں اکبرآباد وغیرہ کے دست خط کرائے گئے۔( ص۵۶۔علمائے حق اور ان کی مظلومیت کی داستانیں۔ مؤلفہ انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی)۔

مولانا سعیداحمد اکبرآبادی فاضلِ دارالعلوم دیوبند وسابق صدر شعبۂ سنی دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، یوپی لکھتے ہیں: ان (مولانا فضلِ حق خیرآبادی) کا ایک الگ مستقل فتوائے جہاد تھا جس کا ذکر ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی کی اسلامی تاریخوں میں تفصیل کے ساتھ کیاگیا ہے۔

……انہوں ( فضل حق خیرآبادی) نے ہر چیزسے بے نیاز ہو کر دلی کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد جہاد کے واجب ہونے پر ایک نہایت ولولہ انگیز تقریر کی اور اس کے بعد جہاد کے ایک فتویٰ کا اعلان ہوا۔ جس پر مفتی صدر الدین آزردہؔ، مولانا فیض احمد بدایونی ، ڈاکٹر وزیر خاں اکبرآبادی اوردوسرے عُلَما کے دست خط تھے۔ (ص ۴۲۔ ہندوستان کی شرعی حیثیت از مولانا سعید احمد اکبرآبادی۔مطبوعہ علی گڑھ)

تاریخِ آزادی کے مشہور مؤرخ رئیس احمد جعفری ندوی (فاضل دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ) لکھتے ہیں :مولانا فضلِ حق خیرآبادی بادشاہ(بہادرشاہ ظفر) کے معتمد، مقرب اور مشیر تھے ۔ ان کے دربار میں شریک ہو ا کرتے تھے۔ انہیں اہم معاملات و مسائل پر مشورے دیا کرتے تھے اور اس بات کے داعی وساعی تھے کہ آزادی کی یہ تحریک کامیاب ہو اور انگریز اس دیس سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوجائیں۔

مولانا( فضلِ حق) نے غدر(۱۸۵۷ئ) میں دلیری اور جرأت کے ساتھ علانیہ حصہ لیا۔انہوں نے متعدد والیانِ ریاست اور اُمَرا ے ہند کو اس تحریک میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ جِس جِس والی ِ ریاست سے ان کے ذاتی تعلقات ومراسم تھے خواہ ہندوہو یا مسلمان خود اس کے پاس پہنچے اور اسے آزادیِ وطن کا واسطہ دے کر اس جدوجہد میں شریک کرنے کی کوشش کی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کو مولانا(فضلِ حق) کی شرکت سے بڑی تقویت ملی ۔(ص ۸۶۲۔بہادرشاہ ظفر اور ان کا عہد، مؤلفہ رئیس احمد جعفری ندوی۔ طبع اول کتاب منزل لاہور)

مولانا حسین احمد مدنی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیۃ العلما ہند لکھتے ہیں:جس مُخبِر نے ان (فضلِ حق خیرآبادی) کو گرفتار کرایا تھا اس نے (لکھنؤ کورٹ میں) انکارکردیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ فتواے جہاد پر جس نے دست خط کیے ہیں وہ یہ فضلِ حق ہیں یا کوئی اور ہیں؟

مولانا (فضلِ حق خیرآبادی) نے فرمایا: مُخبِر نے جو رپورٹ پہلے لکھوائی تھی وہ بالکل صحیح ہے کہ فتویٰ میرا ہے ۔ اب میری شکل وصورت سے مرعوب ہو کر یہ جھوٹ بول رہا ہے۔قربان جائیے علامہ کی شانِ استقلال پر! خدا کا شیر گرج کر کہہ رہا ہے کہ: میرا اَب بھی وہی فیصلہ ہے کہ انگریز غاصب ہے اور اس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے۔

خدا کے بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ وہ جان کی پروا کیے بغیر سربکف ہو کر میدان میں نکلتے ہیں اور لومڑی کی طرح ہیر پھیر کرکے جان نہیں بچاتے ہیں بلکہ شیروں کی طرح جان دینے کو فخر سمجھتے ہیں ۔
(ص۶۵۔ تحریکِ ریشمی رومال، مؤلفہ مولانا حسین احمد مدنی ، مطبوعہ کلاسیک لاہور)

ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر علامہ فضلِ حق خیرآبادی کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی (وصال ۱۸۹۸ء ) کے بارے میں لکھتا ہے:موجودہ ہیڈ مولوی اس عالمِ دین کے صاحبزادے ہیں جن کو ۱۸۵۷ء کے غدر نے نمایاں کردیا تھا اور جنہوں نے اپنے جرموں کا خمیازہ اس طرح بھگتا تھا کہ بحرِ ہند کے ایک جزیرہ (انڈمان/کالا پانی) میں تمام عمر کے لئے جلا وطن کردیے جائیں۔

اس غدار عالمِ دین (فضلِ حق خیرآبادی) کا کتب خانہ جس کو حکومتِ ہند نے ضبط کرلیا تھا۔ اب کلکتہ کالج میں موجود ہے۔ (ص ۲۰۳۔ ہمارے ہندوستانی مسلمان ، مؤلفہ ڈبلیوڈبلیوہنٹر۔ مطبوعہ الکتاب انٹرنیشنل۔ بٹلہ ہاؤس، جامعہ نگر، نئی دہلی۲۵)

علامہ فضلِ حق خیرآبادی کے اسی فرزند مولانا عبد الحق خیرآبادی (وصال ۱۸۹۸ئ) کے بارے میں مولانا عبد الشاہد شیروانی علی گڑھی سابق لائبریرین لٹن لائبریری(مولانا آزاد لائبریری) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۔یوپی لکھتے ہیں:مولانا عبد الحق خیرآبادی نے آخر وقت یہ وصیت بھی فرمائی کہ: ’’جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کردی جائے‘‘

چنانچہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو رفیقِ محترم مولوی سید نجم الحسن رضوی خیرآبادی نے مولانا (عبد الحق خیرآبادی) کے مدفن (درگاہ مخدومیہ، خیرآباد ضلع سیتا پور ، یوپی) پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی۔ خبر سنا کر وصیت پوری کی۔جَزاہٗ اللّٰہُ خیرَالجزائ۔(ص۱۲۔ مقدمہ زبدۃ الحکمہ از عبد الشاہد شیروانی علی گڑھی۔ مطبوعہ علی گڑھ ۱۹۴۹ئ)

قائدِجنگِ آزادی علامہ فضلِ حق خیرآبادی کو ۳۰/جنوری ۱۸۵۹ء کو سیتا پور (یوپی) سے گرفتار کرکے ۲۱ / فروری ۱۸۵۹ء کو آپ کے خلاف لکھنو کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا اور ۴/ مارچ کو الزامِ بغاوت میں تمام جائداد کی ضبطی اور کالا پانی کی سزاسنائی گئی۔ کالا پانی ( جزیرۂ انڈمان ) ہی میں ۱۲/صفر۱۲۷۸ھ/مطابق ۲۰/اگست ۱۸۶۱ء کو آپ کا وصال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔

اب ۲۰۱۱ء میں علامہ فضلِ حق خیرآبادی کے وصال کو ڈیڑھ سوسال پورے ہورہے ہیں اس لئے برصغیر ہندوپاک وبنگلہ دیش کا مشترکہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے اس عظیم محسن وقائدِ ملک و وطن کا عظیم الشان
ڈیڑھ سوسالہ جشن (از جنوری تا دسمبر ۲۰۱۱ء ) مناکر اس کی بارگاہ میں خراجِ تحسین وعقیدت پیش کریں۔ اور اپنے اسلاف کی روشن خدمات اور بے مثال قربانیوں سے نئی نسل کو واقف کرانے کے ساتھ اس کے اند ر قوم وملت کی خدمت اور وفاداری کا جذبہ پیدا کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saqib Raza Qadri

Read More Articles by Muhammad Saqib Raza Qadri: 147 Articles with 241653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jul, 2011 Views: 1543

Comments

آپ کی رائے