میرے والد نے اس سے میری زندگی بچائی۔۔ شوہر کے ظلم سہنے والی مضبوط فنکارائیں

image
 
شادی شدہ زندگی میں اتار چڑھاؤ تو آتے ہیں لیکن جب شوہر اذیت پسند ہو تو زندگی گزارنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔۔ شوبز کی ایسی کچھ اداکارائیں ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ایسے ظالم شوہروں کا سامنا کیا جنہوں نے کبھی انہیں ذہنی اذیت دی تو کبھی جسمانی۔۔۔ایک حد تک سہا گیا اور پھر اس کے بعد ان خواتین نے اپنے راستے الگ کر لئے
 
مزنا ابراہیم
مزنا ابراہیم شوبز انڈسٹری کا ایک ایسا نام ہے جنہوں نے اپنے اچھے اخلاق اور اچھے کام کی وجہ سے بہت مختصر عرصہ میں اپنا نام بنایا۔۔ وہ بچوں کی ڈاکٹر بھی ہیں اور باقاعدہ پریکٹس بھی کرتی ہیں۔۔۔آج کل مزنا اپنی بیٹی کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں لیکن یہ زندگی ہمیشہ اتنی پرسکون نہیں تھی۔۔۔مزنا کی پہلی شادی ایک اذیت سے کم نہیں تھی۔۔۔انہوں نے اپنے پہلے شوہر کے بہت مظالم سہے اور پھر بڑی ہی مشکلوں سے وہاں سے نکلیں۔۔۔ دوسری بار جب زندگی میں کوئی شامل ہوا تو مزنا خوش تھیں لیکن یہ خوشی عارضی تھی کیونکہ پہلے جسمانی اور دوسری بار ذہنی اذیت کا شکار ہونا ان کے نصیب میں تھا۔۔۔انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ الگ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
image
 
جگن کاظم
چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ سجائے اپنے تین بچوں کے ساتھ اور ایک نئے شوہر کے ساتھ خوشگوار انداز میں نظر آنے والی جگن کاظم نے ایک بہت درد بڑا وقت بھی دیکھا ہے۔۔۔ انہوں نے ہمیشہ اس پر کھل کر بات کی کہ کس طرح وہ انتہائی اذیت ناک رشتے سے آزاد ہوئیں اور پسند کی شادی نے کیسے انہیں روز روز کی مار پیٹ اور ظلم کا عادی بنا دیا تھا۔۔۔لیکن جب ان کی پریگنینسی کے دوران بھی یہ ظلم بند نا ہوا اور ان کا بچہ موت کے منہ میں پہنچ گیا تو جگن نے اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کرنے کا سوچا اور بالآخر وہ کامیاب ہوگئیں۔۔
image
 
کومل رضوی
اداکارہ کومل رضوی نے کچھ عرصہ قبل اپنی ناکام شادی کی حقیقت بتائی اور وہ دل دہلا دینے والی تھی۔۔ ان کا کہنا تھا کہ میں شادی کے بعد عمان چلی گئی جہاں چھے سال میں نے ایک انتہائی دردناک زندگی گزاری۔۔۔ ہر دن ایک نئی کہانی سناتا تھا۔۔۔کومل کا سابقہ شوہر ایک ذہنی مریض تھا۔۔۔وہ کومل رضوی کو قید میں رکھتا تھا اور ان کا ورک ویزا اور ویزا اپنے پاس رکھ لیا تھا۔۔۔کومل کو باہر جانے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔۔۔ انہوں نے بہت مشکل سے کوکنگ کی کلاسز لیں اور آن لائن کھانا پہنچانے کا کام کیا جس سے کچھ پیسے ملتے ورنہ تو کیش بھی نہیں ہوتا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بار میرے ابو نے میری آنکھ پر مار کا نشان دیکھ لیا اور وہ مجھے زبردستی پاکستان لے آئے۔ میں اس وقت بھی ڈر رہی تھی کہ وہ مجھے مار دے گا۔۔۔ چھے سال کی یہ اذیت ناک زندگی میرے والد نے ختم کروائی۔
image
YOU MAY ALSO LIKE: