دُعا ہاشمی (Dua Hashmi)
(ادیبہ/شاعرہ وائس پرنسپل ادارہ علوم الہادی اسلامیہ شرعیہ ۔لاہور)
" />

" نفاذ اردو میں خواتین کا کردار"

(Arif Jameel, Lahore)

" نفاذ اردو میں خواتین کا کردار"
دُعا ہاشمی (Dua Hashmi)
(ادیبہ/شاعرہ وائس پرنسپل ادارہ علوم الہادی اسلامیہ شرعیہ ۔لاہور)

3ِنومبر2021ءکو پاکستان قومی زبان تحریک اور کشف فاونڈیشن کے زیر اہتمام کوسمو پولیٹن کلب باغ جناح لاہور میں " نفاذ اُردو میں خواتین کا کردار" کے عنوان پر ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں پاکستان کی اپنے اپنے شعبوں کی ممتاز خواتین و مرد حضرات نے شرکت کی۔ جن میں پروفیسر اشتیاق احمد جو سائنس کے اُستاد ہونے کے ساتھ نفاذ اُردو زبان تحریک کے بانی ہیں۔ محترم جمعیل بھٹی صدر نفاذ اُردو زبان تحریک۔ نشست کی صدارت پاکستان کی نامور ادیبہ' محترمہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کی۔ تقریب میں شرکت کرنے والی شخصیات میں محترمہ صفیہ اسحاق' ڈاکٹر نوشین خالد' ڈاکٹر پونم گوندل'' صباممتاز بانو' ناہید نیازی' صوبیہ نیازی' ڈاکٹر سمینہ ' دیبا' رضیہ اختر'ڈاکٹر پونم گندل' پاکستان قومی زبان تحریک کے نائب صدر پروفیسر سلیم ہاشمی'بیگم و نعیم بٹ' منشا قاضی' رانا شاہد' ام کلثوم' حافظ و بیگم کاشف الیاس' جاگو تحریک کے سیکرٹری جنرل اورنگزیب رانا ' پروفیسر مظہر عالم' معظم احمد' محمد فیض' وردہ نایاب' وحدت مسلم کی سیکرٹری جنرل لاہور حنا تقوی' حمیرا شاہ' ڈاکٹر مدیحہ بٹ ' پروفیسر زرینہ سعید شیریں گل رانا' ثریا شاہد' دعا ہاشمی ' پپلز پارٹی لاہور کی سیکرٹری جنرل سونیا خان ' نجمہ شاہین نے شرکت کی۔
تقریب کی نقابت کے فرائض پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فا طمہ قمر نے انجام دئیے۔نشست کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔۔تلاوت دُعا ہاشمی اور نعت محترمہ رباب صاحبہ نے پڑھی۔ اس نشست کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فاطمہ قمر نے کہا کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی یا تنزلی میں خواتین کا کردار بہت نمایاں ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے کی تاریخ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والی خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ تھیں۔ اسلام کی پہلی شہید خاتون بھی ایک عورت حضرت سمیہ رضی اللہ تھیں۔
اسلام کی پہلی ہجرت حبشہ' اور ہجرت مدینہ منورہ میں خواتین کی بھی موثر تعداد شامل تھی۔ مسلم اُمہ میں جتنی عظیم شخصیات گزری ہیں ان کی تربیت ان کی ماوں نے کی محمد بن قاسم' شیخ عبدالقادر جیلانی' شیر میسور ٹیپو سلطان' علی برادران کی والدہ کا کردار تاریخ میں کس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے! جنہوں نے اپنے اخلاق و تربیت سے ایسی شخصیات پیدا کی جنہوں نے قوموں کے رخ بدلیں۔
قیام پاکستان میں فا طمہ جناح ' بیگم رعنا لیاقت علی خان' بیگم سلمی تصدق وغیرہ کے کردار سے کون انکار کرسکتا ہے؟ پاکستان میں انگریزی کا تسلط بھی دو خواتین کا پیدا کردہ ہے۔ انگریزی کے اس تسلط نے معاشرے میں تعلیم کے نام پر جتنی بے راہ روی ' مغربی اقدار کا غلبہ' اپنی تاریخ سے نابلد ہونا' بدعنوانی ' رٹا بازی' معاشرتی تفریق پیدا کی ہے۔ اس کے ہولناک نتائج پورے معاشرے پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ انگریزی تسلط کی وجہ سے ایک گونگی ' بہری ' رٹو طوطا' بوٹی مافیا قوم پیدا ہوا ہے۔ جس کی تخلیقی صلاحیتیں انگریزی کے تسلط میں کچلی جارہی ہیں اس وقت انگریزی کے تسلط کی وجہ سے پاکستان پرائمری تعلیم میں ساٹھ سال پیچھے اور اعلی تعلیم میں ایک سو چالیس میں سے 124 ویں نمبر پر پاکستان کی کوئی جامعہ دنیا کی ہزار جامعات میں شمار نہیں ہوتی۔ بچے کو ابتدائی تعلیم ایک ایسی زبان میں پڑھانا جس کا رسم الخط تک پاکستان کی کسی زبان سے نہ ملتا ہو۔پاکستان کی تمام زبانیں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں۔ جب کہ انگریزی بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔
ان زبانوں کے رسم الخط میں مماثلت نہ ہونے کے سبب بچہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ جو اس کی عملی زندگی میں بھی جاری رہتی ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک انگریزی کی تدریس کے خلاف نہیں۔ بس ! پاکستان میں انگریزی کو بطور اختیاری مضمون پڑھانے اور تمام ذریعہ تعلیم اردو میں کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ مقابلے کے تمام امتحانات اردو میں لینے کا مطالبہ کرتی ہے جس کا حکم پاکستان کی سب سے اعلی عدالت عظمیٰ دے چکی ہے۔ فا طمہ قمر نے کہا جس طرح پاکستان میں حالیہ تسلط خواتین کا پیدا کردہ ہے اِن شاءاللہ! خواتین ہی انگریزی کے غلبے کو ختم کر کے آئیں پاکستان کی روشنی میں نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروائیں گی۔ محترمہ شیریں گل رانا اور محترمہ ثریا شاہد نے نفاذ اُردو سے متعلق بہت خوبصورت منظوم کلام پییش کیا۔ اس نشست کی کے انعقاد میں سرگرم کشف فاونڈیشن کی صدر نشین محترمہ صفیہ اسحاق صاحبہ نے کوسموکلب کے صدر ڈاکٹر افتخار بخاری کی کلب کے حوالے سے خدمات کو منظوم شکل میں پیش کیا۔پاکستان قومی زبان تحریک کے نائب صدر پروفیسر سلیم ہاشمی کی نفاذ اردو مشن سے لگن کا اندازہ کیجئے کہ ان کے بیٹے کی شادی تھی اس کے باوجود وہ اپنا نفاذ اردو کا پیغام دینے کے لئے اس نشست میں بطور خاص شریک ہوئے۔ اس خصوصی نشست سے ڈاکٹر افتخار بخاری' محترمہ ناہید نیازی' ڈاکٹر سمینہ' ڈاکٹر نوشین خالد' صباممتاز بانو' پپلز پارٹی کی سونیا خان ' محترمہ حنا تقوی' منشاءقاضی شامل ہے۔ صباممتاز بانو' نے تجویز پیش کی کہ ایک صحافی اور کالم نگار ہونے کے ناطے میں یہ تجویز پیش کرتی ہوں کہ تمام کالم نگار نفاذ اردو مشن کو اپنی تحریروں کا محورو مرکز بنائیں انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کی کوششوں کو سراہا کہ آج کی نشست میں اتنی اہم شخصیات کی شرکت فا طمہ قمر کی مخلصانہ کوششوں کی غماز ہے کہ نشست کی صدر محترمہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے اپنے صدارتی کلمات میں اُردو سے اپنی وابستگی کو انتہائی عقیدت و محبت سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ میں بہاولپور سے تعلق رکھتی ہوں میری مادری زبان سرائیکی ہے لیکن میری پہچان اُردو ہے۔ میں آج یہاں اُردو ہی کی شناخت کی بناءپر آپ سے مخاطب ہوں۔ انہوں نے بطور استاد انگریزی ذریعہ تعلیم کے زہر آلود مشاہدات و تجربات بیان کئے کہ انگریزی ذریعہ تعلیم سے بچے اُردو سے تو دُور ہوئے ہیں لیکن ان کو انگریزی پربھی کوئی کمال حاصل نہیں! محترمہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے نفاذ اُردو کے لئے پاکستان قومی زبان تحریک کی کوششوں کو بہت سراہا ہے۔۔ڈاکٹر سمینہ' نے اُردو ذریعہ تعلیم پر بہت موثر و مختصر بات کی۔ محترمہ جنا تقوی نے علم حاصل کرنے پر زور دیا۔ علم حاصل کرو ماں کی گود سے گور تک! محترمہ ناہید نیازی نے تجویز پیش کی کہ حکومت پر زور ڈالا جائے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری ملکیت میں لیں۔ منشاءقاضی صاحب نے نفاذ اُردو سے متعلق خاکسار کی کوششوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ آج وہ بطور خاص اس نشست میں ہماری حوصلہ افزائی کے لئے شریک ہوئے! محترمہ وردہ نایاب نے نفاذ اُردو سے متعلق قرارداد پیش کی کہ عدالت عظمیٰ کے نفاذ اُردوفیصلے پر عملدرآمد کیا جائے! ڈاکٹر مدیحہ بتول بٹ نے پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فا طمہ قمر کو حرا فاونڈیشن اور ٹونی ٹی وی نیویارک کی جانب سے سب سے اعلیٰ اعزاز " آنریری رائلٹی ایوارڈ" پیش کیا۔ جو ابھی تک پاکستان میں کسی شخصیت کو دیا جانیوالا پہلا اعزاز ہے۔ ہم اس عزت افزائی کے لئے محترمہ ڈاکٹر مدیحہ بتول ' پروفیسر شاہینہ کشور' پروفیسر ڈاکٹر ٹونی جاوید کے انتہائی ممنون ہیں۔ جنہوں نے نفاذ اردو کیلئے ہماری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب کے اختتام پر محترم فیض صاحب نے دعا کروائی۔ بعد میں مہمانوں کی تواضع کے لئے پرتکلف چائے پیش کی گئ۔ ہم اس تقریب کے انعقاد کے لئے اپنی بہت پیاری دوست ' سماجی کارکن' قومی خدمت سے سرشار محترمہ صفیہ اسحاق اور کوسمو پولیٹن کلب کے صدر ڈاکٹر افتخار بخاری صاحب کے ممنون ہیں جن کے تعاون و رہنمائی سے یہ تقریب منعقد ہوئی۔ ہم اپنے ان دونوں معاونین کی دائمی سلامتی و خوشیوں کے لئے دعا گو ہیں!
ہم تقریب کی کامیابی پر اپنے تمام شرکاءاور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اور ان تمام مہمانوں محترمہ بشری رحمن' سعدیہ سہیل' پروین سجل کی صحت کے لئے دُعا گو ہیں جو ڈینگی بخار کے باعث تقریب میں شریک نہ ہوسکیں۔ لیکن نفاذ اُردو کی مخلص اور عملی ساتھی ہیں اللہ ان کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ آمین!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 166 Articles with 203459 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
14 Nov, 2021 Views: 331

Comments

آپ کی رائے