تریپورہ میں سیاسی دہشت گردی‘پولس کی پشت پناہی میں دنگائی بے لگام

(Syed Farooq Ahmed, India)
مسلمانوں کے آپسی اختلافات سے تریپورہ دوسراگجرات نہ بن جائیں

محترم قارئین کرام: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گذشتہ دو ہفتوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبریں دیکھنے اور سننے مل رہی ہیں کہ تریپورہ میں آر ایس ایس بجرنگ دل اورہندو یوا واہنی کے دہشت گرد مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں،مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کے ہر ممکن حربے استعمال کرتے جارہے ہیں،۱۰؍سے زائد مساجد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ،چٹائی ،جائے نماز، اسلامی کتابوں کے ساتھ ساتھ،قرآن کو بھی جلادیاگیا ہے ۔،جان ومال، عزت و آبرو سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ،اورایسا کئی دنوں سے ہورہا ہے۔مسلمانوں کا گھروںسے باہر نکلنا مشکل کردیاگیا ہے۔ اور یہ خبریں بھی سننے ملی ہے کہ پولس کی پشت پناہی میںبجرنگ دل، ہندو یوا واہنی اور آرایس ایس کے غنڈے گلی گلی گھوم کر اقلیتوں کو نشانہ بناتے جارہے ہیں،حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ،انتظامیہ مسلمانو ںکے جان ومال کے تحفظ میں ایک بارپھر جان بوجھ کر ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گودی میڈیا، مین اسٹریم میڈیا میں ابھی تک تریپورہ کے تعلق سے ایک بھی خبر منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔ہندوتو گروپ کے دنگائی آزاد سڑکوں پر گھوم رہے ہیں اور مسلمان اب بھی حکومت وانتظامیہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کے تحفظ کے لئے ڈرے سہمے پولس کی مدد کا انتظارکررہے ہے۔۔۔۔

قارئین یہ صورتحال بالکل گجرات کی صورتحال سے مشابہ نظر آرہی ہے۔ جہاں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پوری منصوبہ بندی کے بعد گجرات کو جلادیاگیا تھاتہس نہس کردیاگیا تھا بالکل اسی طرزپر تریپورہ کو بھی نذرآتش کرنے کی ریہرسل چل رہی ہے۔ اور بہت ممکن ہے کہ اگر حالات کو جلد قابو میں نہ کیا گیا تو ہندو دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو تریپورہ دوسرا گجرات بن سکتا ہے۔اور بی جے پی کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب جب الیکشن قریب ہوتے ہیں تب تب ہندو مسلم فسادات کروا کر ہندوئوں کو بھڑکانے کا کام کیا جاتا ہے اور انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بھارت میں ہندو مذہب خطرے میں آچکا ہے لہذاہندوراشٹر کو مضبوط کرنے کے لئے آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں تشدد برپا کرتی ہے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے اللہ رسول کے شان میں گستاخیاں کی جاتی ہے اور پھر ردعمل میں کوئی حملہ ہوتا ہے یا جواب دیا جاتا ہے تو اس کو بہانہ بنا کر فرقہ وارانہ فسادات برپا کئے جاتے ہیں اور ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو مذہب محفوظ ہورہا ہے اور ادھر بی جے پی اپنے حربے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور اس کا ووٹ بینک مضبوط ہوکر اسے اقتدار تک پہنچادیتا ہے۔بالکل اسی طرح اب یوپی اور تریپورہ میں الیکشن کا بگل بجنے کے بعد سے یہی صورتحال ہے بی جے پی ہندو مسلم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی ہے۔اس لئے اس نے بنگلہ دیش میں ہوئے تشدد کا بہانہ بنا کر تریپورہ کو ٹارگیٹ کیا۔
دراصل دوستومعتبر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تریپورہ شمال مشرقی ہندوستان کی یہ چھوٹی سی ریاست تین اطراف سے پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے گھری ہوئی ہے۔ تقریباً 37 لاکھ کی آبادی والی اس ریاست میں مسلمانوں کی تعدادمحض8.6فیصد ہے۔ بنگلہ دیش سے بھی کافی تعداد میں ہندو آکر یہاں آباد ہیں۔کہاجارہا ہے کہ تریپورہ کے یہ واقعات درگاپوجا کے دوران بنگلہ دیش کے کمیلا ضلع میں پوجا پنڈال میں قرآن شریف رکھے جانے کے بعدوہاں ہوئے تشدد کا ردعمل ہیں۔جس طرح 2002میں گجرات میں ’ردعمل‘ کی مثال پیش کرتے ہوئے شرپسندوں نے مسلمانوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ شروع کردیاتھا، وہی صورتحال یہاں بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ بنگلہ دیش واقعہ کے بعد سے ہی تریپورہ کے مختلف علاقوں میں آباد مسلمانوں کو ہندو شدت پسند تنظیموں نے نشانہ بناناشروع کر دیا ہے۔اور خاص بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک وہاں پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی فساد رونما نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ منگل کو وشو ہندو پریشد نے پانی ساگر سب ڈویزن میں ایک ریلی نکالی تھی جس میں3سے 4ہزار افراد شامل تھے، مسلم مخالف نعرے لگاتی ہوئی اس ریلی کے د وران وہاںکی ایک مسجد اور کم از کم ۸مسلم بستیوں کو آگ لگا دی گئی۔اسی طرح دوسری شدت پسند ہندو تنظیمیں بجرنگ دل اور آر ایس ایس نے بھی ریلیاں نکالیں اور ان ریلیوں کے دوران مسلمانوں اور ان کی مساجد پر حملے کیے گئے۔ راجدھانی اگرتلہ سے155کلو میٹر دورپانی ساگر علاقہ کی مسلم خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن کی باقاعدہ تھانہ میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔لیکن اس کا کچھ اثر نہ پہلے ہوا ہے اور نہ اب ہونے والا ہے۔

آخر سوال یہ ہے کہ حکومت پولس اور انتظامیہ ان فسادات کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کررہی ہیں۔جئے شری رام کے متعصبانہ نعرے لگوانے، حضور کی شان میں گستاخیاں کرنے والے ،مسجدوں اور مسلمانو ںکی املاک کو تباہ وتاراج کرنے والوں پر پولس اتنی مہربان کیو ںہیں؟گذشتہ میں جتنی بھی بار بھی فسادات ہوئے اس میں کئی ایسے فوٹیج ثبوت کے طور پر حاصل ہوئے تھے جس میں یہ صاف صاف دیکھا گیا تھا کہ پولس دنگائیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی املاک کو تباہ وبرباد کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ان کے حوصلے بڑھاتی ہیں ۔مسلمانو ںکو حب الوطنی کا درس سکھانے والے خود غدار وطن ہونے کا نمونہ پیش کرتے ہیں ۔یکطرفہ کاروائیاں کی جاتی ہےظلم وستم کے پہاڑ مسلمانوں پر توڑے جاتے ہیں اور مورود الزام بھی مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

ہمارا حکومت انتظامیہ اور پولس سے مطالبہ ہے کہ تریپورہ میں فی الفور مسلمانوں پر حملے روکے جائیں۔اکثریتی فرقے کو جو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اس کو کنٹرول کیا جائے ۔اگر ہندو دہشت گرد تنظیمیں چاہتی ہیں کہ مسلمانو ںکی طرف سے بھی ایکشن کا ری ایکشن آئے تو حالات اور زیادہ خراب ہوسکتے ہیں اور وہ یہی چاہتے ہیں لیکن مسلمان ہمیشہ حکمت اور تدبر کی چادر میں رہ کر جمہوریت کے دائرے میں رہ کر ہی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کرتے آئے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہ نکالا جائے کہ مسلمان کمزور ہیں۔۔۔خیر۔۔۔تریپورہ کے معاملہ پر اکابر ملت اور ملی تنظیموں کی توجہ ضرور ہوگی ، میں تمام ملی تنظیموں کے قائدین سے خاص طور پر جمعیۃ علماء ہند کی دونوں تنظیم ،ملی کونسل اور جماعت اسلامی کے قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ میں پہل کریں ۔پہلے مرکزی حکومت کے ذمہ داروں سے بات کرنے کی زحمت کریں ،پھر حالات کے اعتبار سے صوبائی حکومت سے ، فساد پر قابو پانے کے لئے دونوں پر زور دیا جائے ، جس علاقہ میں فساد ہوا ہے ،وہاں امن و شانتی بحال کرنے کے لئے کوشش کی جائے ، تاکہ حالات معمول پر آسکیں اور امن و شانتی بحال ہوسکے ،نیز حکومت پر روز دیا جائے کہ دنگائیوں کی نشاندہی کی جائے اور ان پر کارروائی کی جائے ۔اور ہم سب کا یہ کام ہے کہ پرزوراحتجاج کئے جائیں۔اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں سے یہ گذارش ہے کہحالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں پوری دنیا میں مسلمانوں کو تباہ وتاراج کرنے کی چالیں چلی جاچکی ہیںاور ایسے میں ہم ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کی دل آزاری کرنے میں سبقت لے جارہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے آپ کو بڑا اور سچ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کوئی کسی کی ماتحتی میں کام کرنے کے لئے راضی ہی نہیں ہے۔۔۔۔خدارا اپنے آپ کو دیکھئے ملک کے حالات کو دیکھئے مسلمانوں کی پستی کے علاج کی طرف غور کیجئے۔ امت واحدہ ہونے کا ثبوت پیش کیجئے۔۔۔جس کام کے لئے ہمیں پیدا کیاگیا ہے اس کی طرف لوٹ آئیے۔۔وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔۔۔

اللہ سے دعا ہے کہ سارے عالم کے مسلمانوں بالخصوص تریپورہ کے مسلمانوں کی جان مال عزت وآبرو کی حفاظت فرمائے۔ مساجد ، خانقاہوں اور مدرسوں کی حفاظت فرمائے۔مسلمانوں میں میں اتحاد واتفاق خلوص ومحبت پیدا فرمائے۔ایک دوسرے کو درگذر کرنے والا بنائے۔ اور ہم سب کا خاتم بالخیر فرمائے۔۔۔بولا چالا معاف کرا۔۔۔زندگی باقی تو بات باقی رہے نام اللہ کا۔ اللہ حافظ ۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ





 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed farooq ahmed

Read More Articles by syed farooq ahmed: 63 Articles with 26957 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2021 Views: 265

Comments

آپ کی رائے