یوسف خان: ایک زمینی کردار


ایک عہد کی خاموشی۔۔۔عہد ساز شخصیت کا خاتمہ۔۔۔ عظیم انسان کی موت واقعی دلگیر و دلگداز ہوتی ہے۔۔۔!!
یوسف خان صرف ایک اداکار کی عہد زریں کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک علم دوست شخصیت،ایک سیاست دان، ایک مخیر فرد،ایک قومی شناخت،ایک سماجی کارکن ،ادب شناس، انسانیت نواز، محب اردو اور بارعب شخصیت اور ایک مثالی انسان کا انخلا ہے ۔پردہ سیمیں کی رنگین شخصیات کی بہتات ہے۔ مگر عملی زندگی میں ایک بہترین انسان بہت کم ثابت ہوتے ہیں۔ آسمانوں میں پرواز کرنے والے خود کو زمین کی مخلوق نہیں سمجھتے ہیں۔ان کے زمین پر پیر نہیں ٹکتے ہیں اور دماغ فلک کی سیر کرتے ہیں۔ مگر یوسف خان کی شخصیت اس سے ماورا تھی۔ وہ صرف ظاہری جاذبیت کے مالک نہیں تھے بلکہ باطنی خوبیاں بھی ان میں موجود تھیں۔ شخصیت کا دورخہ پن بھی ان میں نظر نہیں آتا تھا۔اور شاید اسی لئے ان کی شخصیت جاذب اور بارعب رہی تھی۔انسان کی باطنی خوبیاں اور ظاہر داری کا ایک منفرد امتزاج انسان کو منفرد بنا دیتا ہے۔یہی اوصاف انسانوں کو اپیل کرتا اور پر کشش بنا دیتا ہے۔کسی رنگ روغن،مخصوص حلیے اور ظاہری چمک دمک کی اسے ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے وہ منفرد نظر آتے تھے ۔
کئ انسان زبان دانی کے ماہر نہیں ہوتے ہیں۔اور بطور خاص پردہ سیمیں کے افراد انتہائی روکھے پھیکے اور خشک بیان ہوتے ہیں۔ بناوٹ ان کا خاصہ ہوتی ہے۔مگر یوسف خان کی شخصیت ان سے الگ نظر آتی تھی ۔ شستہ زبان ،شریں انداز تکلم، تھمی ہوئی ادائیگی،برمحل الفاظ کا انتخاب اور عمدہ بیان یہ ہی وہ خصوصیات تھیں جس نے انہیں لوگوں کا دلدادہ بنایا۔وہ اردو،پشتو، پنجابی،انگریزی،اور دیگر زبانیں روانی سے بولتے تھے۔

ایک بات جس کے لئے ہم انھیں بھول نہ پائیں گے وہ ان کی زبان تھی۔اردو سے نہ صرف لگاؤ بلکہ معیاری اور اعلیٰ اردو کا استعمال ان کی گفتگو کا خاصہ تھا۔ اردو کس طرح بولیں اور انداز گفتگو کا کیا پیمانہ ہو وہ ہمیں ضرور سکھلا گئے۔ زبان کی ترویج ایک بہتر انداز سے ادائیگی کے ذریعہ بھی ممکن ہے ۔یہ سبق وہ ہمیں پڑھا گئے ۔ایسی گفتگو جس کو سننے کو دل چاہے اور من مسکائے یہی تکلم انکا تھا ۔ایسے زبان دانوں سے اردو کا فروغ ہوتا ہے۔ہر کسی کی یہ خواہش تھی کہ ہم بھی ایسی عمدہ زبان اور عمدہ بیان پر دسترس حاصل کریں۔

ہندو مسلم اتحاد کے پرزور حمایت کیا کرتے تھے۔انسانیت کے خیر خواہ اور انسانی درد ان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔بین المذاھب ہم آہنگی اور امن وآشتی کے وہ دلدادہ تھے۔ امن اور سلامتی کے استحکام کے لئے انھوں نے بہت کام کیا ہے۔اتحاد واتفاق کے شائق رہے اور اس کے لئے سرگرم عمل رہے۔انسانوں سے اپنائیت ،ہمدری، ملنساری،عقیدت و محبت تا عمر رہی۔ یہ ہی وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو آدمیت کے پیکر میں ڈھالتی ہے۔ غرور، گھمنڈ،ego اور اہنکار آدمی کو ملیامیٹ کر دیتے ہیں۔ یوسف صاحب ان سےبلا شبہ دور نظر آتے تھے۔دور حاضر میں ایک معمولی شہرت انسانوں کو آدمیت کے خول سے آزاد کردیتی ہے۔وہ اپنے پیکر خاکی کو بھول جاتے ہیں اور ایک الگ مخلوق سمجھنے لگتے ہیں اور ہوا میں اڑنے لگتے ہیں۔مگر آدمی کے لئے کچھ کر گزرنا یہ آدمیت کی پہچان ہے ۔ ملک اور قوم کو ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے۔بے لوث خدمت اور خلوص دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے آلو سیدھے کرنا کے مزاج سے نکل کر ہی انسانیت کی خدمت ممکن ہے۔ آج ہم ایسے بے لوث انسان کو کھو چکے ہیں۔

قومی مسائل کے لئے جب بھی ضرورت محسوس ہوئی وہ بے جہجک اٹھے ۔قومی مسائل پر بے لاگ گفتگو کی۔ہندو مسلم فسادات کے دوران بھی وہ بےخوف ہوکر بولے ۔ قومی پشت پناہی کے لئے ہمیشہ کھڑے رہے۔آج کئی قومی مسائل پر خود ساختہ بڑے لوگ مصلحت کی چادر تان کر سو جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر مظالم پر خاموش رہنے والے آج ہر طرف نظر آتے ہیں۔ مگر عملی اقدامات کر کر گزرنے والے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

وہ سیاسی سرگرمیوں سے شغف رکھنے والے تھے۔کوئی ذاتی مفادات کے لئے نہیں بلکہ اس دور میں موجود شفاف سیاست کے علم برداری کے لئے کوشاں تھے ۔بلا امتیاز نسل و مذہب سیاسی فضا چاہتے تھے۔ ارغونییت سے پاک سیاسی خدمات دینے سے بھی نہیں ہچکچائے۔کام بنوانے اور کام نکالنے کی سیاست سے دوری بنائے رکھا۔ نفرت کی سیاست سے دوری بنائے رکھا۔آج ہم تلاش کریں تو شفافیت اور خدمت سیاست سے رخصت ہوگئے ہیں ۔۔۔۔!!! انگلیوں پر ایسے افراد کو گنا جاسکتا ہے۔ کر پشن، بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔

ہند پاک کے بہتر تعلقات کے لئے بھی انھوں نے کوششیں کی تھیں۔ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں رہے تھے۔ بہترین تعلقات ہی خوشحال اور خوشگوار حالات پیدا کر تے ہیں۔ مملکت کا استحکام اور ترقی عوام کی خوشگوار تعلقات پر انحصار کرتی ھے اور اس بات سے وہ بخوبی واقف تھے۔ ریاستوں کی ہم آہنگی اور بین الاقوامی خیر سگالی کے جذبے سے وہ سرشار تھے ۔اور اس امر کی انھوں نے کوشش بھی کی تھی۔آج بھی ہمارے مسائل کا حل بہترین تعلقات اور خوشگوار حالات پر ہی منحصر ہے ۔

1992 کے فسادات کون بھول سکتا ہے۔جب بے یار و مددگار مخلوق خدا در بدر ممبئی کی شاہراہوں پر بھٹک رہی تھی۔اس وقت یوسف صاحب نے اپنے گھر کو رلیف سینٹر میں نہ صرف تبدیل کیا تھا بلکہ انکے ہر طرح سے امداد کی تھی۔آج کئ ریاستوں کے مظلوم مسلم عوام بھٹکتی ہے ،مددکے آواز لگاتی ہے تو ہمارے در کھلتے ہیں اور نہ NGOS کے عمارتوں کے دروازے۔۔۔۔!!! باوجود اس کے بھی ہم بے داغ ہیں۔۔۔۔!!!
TADA
کا جب نفاذ عمل میں آیا تھا اس وقت بھی مسلمانوں کےلئے بے خطر کھڑے ہوئے تھے ۔ قانونی چارہ جوئی کے اخراجات برداشت کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا ۔ ہمارے کاموں کا تو ہم ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور کسی کے کار خیر پر چپکی سادھ لیتے ہیں۔اندھوں کے لئے چلائے جانے والے ادارے NAB کی فنڈنگ بھی کرتے رہے تھے ۔1980 میں sheriff of Mumbai
بنائے گئے تھے ۔ بحثیت ایک سماجی کارکن بہت کام کر گئے تھے ۔

یوسف خان بر صغیر میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔نہ صرف اپنی منفرد اداکاری کے بدولت بلکہ اپنی ادبی ،علمی،سیاسی ،سماجی ،ملی ،ملکی بے شمار کارناموں کے سبب وہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔ شخصیات آتی ہیں اور گذر جاتی ہیں مگر اعمال و کارناموں کو زندہ چھوڑ جاتی ہیں۔ خیرالناس من ینفع الناس۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔

Umair khan
About the Author: Umair khan Read More Articles by Umair khan: 5 Articles with 3234 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.