والدین اور اساتذہ پر حد ستم مت کرو

(Ghulam Murtaza Bajwa, Sialkot)

جیسا کرو گے ویسا بھروگے ۔ یہ خدا کا قانون ہے ۔ آج کل مہنگائی اوربدعنوانی عروج پر ہے ۔ کوئی بھی اپنا اپنا احتساب کرنے کیلئے تیا ر نہیں ۔ برفباری ، کورونا اور زلزلہ سمیت قدرتی آفات کیوں آرہی ہیں ۔حکمران کے فیصلے بھی کسی عائب سے کم نہیں ۔رواں مالی سال میں چھ ماہ بعد کے نئے منی بجٹ منظورہوچکا ہے جس کے اثرات آنا شروع ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ پیناڈول سمیت متعدد دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔حکومت کی جانب سے منی بجٹ کے بعد دواؤں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر 17.5 فیصد ٹیکس کے بعد متعدد دوائیں 10 تا 20 فیصد مہنگی ہوگئی ہیں۔بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور معدے کی تیزابیت کی دواؤں میں واضح اضافہ ہوا، جسم کے درر کو فوری دور کرنے والے انجکشنز بھی مہنگے ہوئے،31 روپے میں فروخت ہونے والا درد کش انجکشن وارن 36 روپے کا ہوگیا، معدے یا السر کی دوا وینزا کی قیمت میں بھی 5 روپے کا اضافہ ہوا۔کولیسٹرول کے لیے استعمال ہونے والی دوا روسوویکس بھی 10 روپے مہنگی ہوگئی، اینٹی بائیوٹک میکروبک کی قیمت میں بھی 8 روپے اضافہ ہوا، شوگر کے مریضوں کی دوا میگزا من کی قیمت میں 5 روپے اضافہ دیکھنے میں آیا،15 روپے فی پتہ ملنے والی پیناڈول بھی 25 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔بزرگ کہتے ہیں کہ جیساکروگے ویسا بھرو گے ۔حدستم مت کرو۔
بقول شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال
’’اپنے کردار پہ ڈال کر پردہ اقبال۔ہر شخص کہ رہا ہے زمانہ خراب ہے‘‘

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ والدین ہمارے لیے ایک سرمایہ ہیں انکی خدمت ہمارے اوپر اﷲ کی عبادت کے بعد فرض ہے۔ افسوس کہ ہم نے اﷲ کے احکامات کو مسترد کر دیا اور ہم اج ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں وجہ کیا ہے؟ وہ ہے ماں باپ کی خدمت سے دوری۔جب انکی خدمت کا وقت آتا ہے تو ہم انکو اولد روم میں بھیج دیتے ہیں کیا یہی ہمارا اسلام ہمیں سبق دیتا ہے؟ نہیں نہیں اسلام تو ہمیں انکی خدمت کا سبق دیتا ہے۔ مشہور قول ہے کہ ’’جس نے معالج کی عزت نہ کی، وہ شفا سے محروم رہا اور جس نے استاد کی عزت نہ کی، وہ علم سے محروم رہ گیا۔‘‘قوموں کی ترقی و عروج کے حوالے سے علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے، علم سے ہی آگہی میسر آتی ہے اور آگہی انسان کی تہذیب و ترقی کا زینہ بن کر اس کو عظمتوں و رفعتوں سے ہم کنار کرتی ہے۔ خالق کائنات کا انتہائی کرم ہے کہ اس ذات پاک نے انسان کو صاحب علم بنایا جو اس کی بلند ترین صفت ہے اور یہی نہیں بل کہ اس کو قلم کے ذریعے لکھنے کا فن بھی سکھایا، جو بڑے پیمانے پر علم کی ترویج و ترقی، اشاعت اور نسل در نسل اس کی بقا و تحفظ کا ضامن بنا۔ علم کو دل کی پاکیزگی، لطافت اور آنکھوں کے نور کا درجہ حاصل ہے۔
بقول شاعر
’’ہواٹکڑے تمہاراشاہزادہ۔ہوئے اس پر ستم حد سے زیادہ‘‘(ناسخ)

والدین انسان کے وجود کا ذریعہ ہیں، بچپن میں انھوں نے ہی اس کی دیکھ بھال اور پرورش کی ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ والدین میں ماں کا درجہ باپ پر مقدم ہے۔ کیونکہ پیدائش میں ماں نے زیادہ تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ لہٰذا مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اپنی طاقت بھر ان کے ساتھ ہر نیکی اوربھلائی کریں۔ ان کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کریں، ان کے سامنے نیچا بن کر رہیں اور ان کی آواز سے اپنی آواز پست رکھیں۔ ان کی عزت وتوقیر ملحوظ رکھیں اور ان کی رضا اور خوشی کی تلاش میں رہا کریں اور ان کی ہرجائز بات میں فرماں برداری کریں۔ ان کے لیے ہمیشہ غائبانہ طور پر دعا کرتے رہیں۔ دل وزبان سے ان کے حقوق کا اعتراف کریں۔ ان سے دعائیں لیا کریں۔ ان کے دوستوں کی عزت کریں۔ان کی وجہ سے قائم رشتوں کو جوڑیں اور صلہ رحمی کریں۔ لوگوں سے ان کے کیے ہوئے وعدے ان کی وفات کے بعد بھی پورے کریں۔ دوسری جانب والدین کی نافرمانی اور ان کی ایذا رسانی سے۔ ان کی ناراضی اور ناخوشی سے۔اپنی بیوی اور اولاد کو ان پر فوقیت دینے سے۔ ان کی بددعا سے۔ ان کو گالی دینے، برا بھلا کہنے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور جھڑکنے سے۔ ان کو گالی دلانے کا سبب بننے سے، بایں طور کہ آپ کسی کے ماں باپ کو گالی دیں تو وہ پلٹ کر آپ کے ماں باپ کو گالی دے۔ ان کی کسی بات پر اُف یا ہشت یا ہونہہ کہنے سے ،وغیرہ نہ بولا کریں ۔موجوددورمیں اگرہمارے پاس چند خوشیاں ہیں تو یہ حقیقت میں ہمارے والدین کی دعاؤں کے صدقے میں اﷲ تعالیٰ نے عطاء کی ہوئی ہیں ۔

والدین اوراستاد کی معاشی ضروریات و حاجات میں معاونت اور استاد کی خدمت، سعادت مندی اور عین عبادت ہے۔ ذوقِ علم کی تسکین اور حصول کے لیے محنت و مشقّت اٹھا کر دوردراز کا سفر کرکے استاد کے پاس جانا پڑے، تو ضرور جائیں۔ استاد خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم، طلباء کے بہترین حسن سلوک کا مستحق ہے۔غرض یہ کہ استاد، علم کا سرچشمہ، معلم و مربّی، علم کے فروغ کا ذریعہ اور اﷲ کا بہت بڑا انعام و احسان ہے۔اپنے والدین اور اساتذہ کے لیے دعائے خیر کرتے رہیں کہ اﷲ کے نزدیک یہ سعادت مندی بڑی پسندیدہ ہے۔ اﷲ تبارک تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت، ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن کے والدین اور اساتذہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کی علمی خدمات کے عوض انہیں جنت میں بہترین انعام و اکرام سے نوازے۔ (آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa

Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 271 Articles with 137049 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2022 Views: 482

Comments

آپ کی رائے