محمد حفیظ سوزوکی مہران اور محمد رضوان۔۔ اگر پاکستانی کرکٹر گاڑی ہوتے تو اپنے اسٹائل کے اعتبار سے کونسی گاڑی ہوتے؟

 
پاکستانی کرکٹ کے کھیل سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کے اندر نت نئے ماڈلز کی گاڑیوں سے محبت اور جنون بھی یکساں ہی ہے۔ آج ہم آپ کے سامنے ایک منفرد خیال کے ساتھ آئے ہیں جس کے مطابق اگر آپ کے پسندیدہ پاکستانی کھلاڑی کوئی گاڑی ہوتے تو آپ کے نزدیک وہ کون سی گآڑی ہوتے-
 
بابر اعظم
کپتان بابر اعظم اپنے منفرد انداز اور قائدانہ صلاحیت کے سبب اس وقت دنیا کے صف اول کے کھلاڑيوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان کے خوبصورت کور ڈرائيو شائقین کرکٹ کے لیے ایک حسین ترین منظر پیش کرتے ہیں- جس طرح بابر اعظم کے انداز میں ایک انفرادیت اور کلاس ہے اسی طرح ان کا موازنہ اگر کسی گاڑي سے کروایا جا سکتا ہے تو اس کا کلاسک ہونا ضروری ہے اس وجہ سے ان کا موازنہ جس گاڑی سے کروایا جا سکتا ہے وہ مرسڈیز ایس کلاس ہے- جس کو دیکھ کر کلاسک ہونے کے ساتھ ساتھ جدیدیت اور آرام کا احساس پیدا ہوتا ہے اس گاڑی کو دیکھ کر بابر اعظم کے خوبصورت انداز کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے-
 
محمد رضوان
پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان اپنے ہنستے مسکراتے انداز اور کول رویے کی سبب عوام میں بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں کریز میں کھڑے ہوئے محمد رضوان جس طرح گراؤنڈ کے ہر جانب شاٹ کھیلتے ہیں وہ ایک منفرد منظر ہوتا ہے- اس کے ساتھ بطور وکٹ کیپر جیسے وہ پوری ٹیم کے حوصلے کو بلند رکھ رہے ہوتے ہیں اور مخالف کھلاڑيوں کے لیے بھی بانہیں پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں- یہ تمام خصوصیات ان کو ایک بہترین اسپورٹ مین ثابت کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا موازنہ کیا اسپورٹیج سے بہتر کسی اور گاڑی سے نہیں کروایا جا سکتا ہے- یہ گاڑی اس وقت پاکستان کی سب سے زيادہ فروخت اور پسند کی جانے والی گاڑيوں کی فہرست میں صف اول ہیں اور اسی طرح محمد رضوان سے محبت کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے-
 
شاہین شاہ آفریدی
پاکستان کے فاسٹ لیفٹ آرم بالر شاہین شاہ آفریدی دنیا بھر کی ٹیموں اور خصوصا انڈیا کی ٹیم کے لیے دہشت کی علامت ہیں- شاہین آفریدی کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی رفتار اور دہشت ہے جس کا سامنا کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے- یہی وجہ ہے ان کے نام ذہن میں آتے ہی ہونڈا سوک آر ایس ٹربو کا بھی نام ذہن میں آتا ہے جو کہ اس وقت نوجوانوں کی پسندیدہ کار ہے اور اس کو چلانے کے لیے بھی پرجوش دل اور جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو شاہین آفریدی کا خاصہ ہے-
 
 حسن علی
حسن علی کا وکٹ لینے کے بعد جنریٹر اسٹارٹ کرنے کا انداز انہیں سوپر سے بھی کچھ اوپر بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی اس سوپر پاور کے لیے کچھ خاص ہونا چاہیے جیسے کہ ٹویوٹا سپرا گاڑی حسن علی کے حوالے سے بہترین ہوتی ہے-
 
شاداب خان
تیزی سے وکٹیں لینے والے اور چھکے پر چھکے مارنے والے شاداب خان کا شمار پاکستان کرکٹ کے ان نوجوان کھلاڑيوں میں ہوتا ہے جن کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سفر دور تک جائے گا اور وہ روز بروز اپنی انفرادیت اور انداز کو نئی جلا بخش رہے ہیں- قدامت اور آرام دہ انداز کے حامل شاداب خان اگر کوئی گاڑی ہوتے تو وہ لازمی طور پر لیکسس ایل ایکس 570 ہوتے جو کہ آرام اور تعیش کا ایک منفرد انداز ہے اور ہر قسم کے راستے پر اپنے ہم سفروں کے لیے سکون اور آرام کا باعث ہوتی ہے جیسے کہ شاداب خان اپنی ٹیم کو ہر حالت میں جیت کی جانب گامزن کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں-
 
محمد حفیظ
محمد حفیظ جن کو پروفیسر بھی کہا جاتا ہے پاکستانی ٹیم کا وہ حصہ ہیں جو کہ اپنے تجربے اور اپنی صلاحیتوں کے حساب سے بالکل ایک سوزوکی مہران کی طرح ہیں جو کہ ہر طرح کے اونچے نیچے راستوں پر ہر قسم کے حالات میں چلتی رہتی ہے۔ راستے تنگ ہوں یا منزل دور یہ گاڑی اپنا سفر اسی طرح جاری رکھتی ہے جیسے کہ محمد حفیظ گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہی مشکل ترین صورتحال کو بھی اپنے تجربے اور صلاحیتوں سے سنبھال لیتے ہیں
 
امید ہے کہ آپ بھی ان تمام تشبیہات سے متفق ہوں گے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
29 Mar, 2022 Views: 1521

Comments

آپ کی رائے