رمضان المبارک سے ہم نے کیا سیکھا ہے

(Haji Latif Khokhar, )

رمضان کا مہینہ اپنی تمام تر عظمتوں، کرامتوں اور رحمت کی فضاؤں کے ساتھ رخصت ہوگیا اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس مہینے میں دنوں کے روزوں، دعا ، ذکر و عبادت اور قرآن مجید کی تلاوت کی برکت سے اپنے قلوب کو زیادہ منور اور خدا سے زیادہ قریب کر لیا۔عیدالفطر، ماہ مبارک رمضان کے بعد انعام حاصل کرنے اور رحمت الٰہی کا نظارہ کرنے کا دن ہے۔عربی زبان میں ہر ایک مکرر آنے والی کیفیت کو خواہ خوشی ہو یا غم عید کہتے ہیں، عرف عام میں یہ خوشی کے دن کے لئے مخصوص کر لیا گیا ہے۔ علماء نے عید کا مفہوم اور اس کی تشریح اس طرح بھی کی ہے کہ : مہینہ بھر کی روحانی و نورانی ریاضتوں اور نفسانی و اخلاقی طہارتوں و پاکیزگیوں کے بعد ایک نئی روحانی زندگی کے عود کر آنے کی وجہ سے بھی اس کو عید کہا جاتا ہے۔ایک مہینہ خدا کے واسطے اور اس کے حکم پر مومن بندہ بھوک و پیاس کی مشقتیں برداشت کرتا ہے نفسانی خواہشات کو دباتا ہے اور پھر جب عید کے دن پھر سے رخصت ملنے پر جو طبعی خوشی ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی طرح رات کی تراویح اور قیام الیل اور رمضان میں صدقات و خیرات کرکے جب مومن بندہ فارغ ہوتا ہے تو وہ خاص لذت اور فرحت محسوس کرتا ہے اور شکرانے کے طور پر دوگانہ ادا کرتا ہے۔عید سعید کی بے شمار مصلحتیں اور مقاصد ہیں اس عید پر اﷲ تعالیٰ نے خاص طور پر اور تاکید کے ساتھ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی خوشیوں میں غریبوں کو ضرور شریک کریں۔ روٹھے ہووں کو منائیں کم درجہ لوگوں کو گلے لگائیں بچوں سے پیار کریں۔ بڑوں سے تعظیم و اکرام سے پیش آئیں اور خاص طور پر افلاس اور غربت کے ماروں کو تلاش کرکے گلے سے لگائیں۔ اس دن صاحب نصاب دوگانہ ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ضرور ادا کردیں۔ کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک کہ صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے۔ اسلام میں عید کی بنیاد اور اساس روح کی لطافت و پاکیزگی قلب کے تزکیہ جسم و بدن اور روح و دماغ کی طہارت ایثار و ہمدردی اتحاد و اتفاق قومی و ملی اجتماعیت و یکجہتی اور انسانیت و مساوات عجز و انکسار اور صلاح و تقوی پہ قائم ہے۔ عید حقیقی خوشی و مسرت اور شادمانی کا نام ہے ۔ افریقہ سے لے کرمشرق وسطی تک تمام مسلم ملک ایک شدید بحران سے گزر رہے ہیں۔ظلم یہ ہے کہ ان کے اپنے ہی حکمران اور کچھ دوست مسلم ملک وہ ظلم کر رہے ہیں جس کی مثال کم از کم اس صدی میں ملنا تو ممکن نہیں۔عراق بری طرح بد نظمی کا شکار ہے۔روز بم دھماکے اور ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں۔یمن میں خانہ جنگی اور اس سب پر اذیت ناک بات یہ ہے کہ ایران اور عرب ممالک مسلمان ہونے کے باوجود ایک ایسی بر تری کی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں فرقہ واریت ، دہشت گردی ،اور شدت پسندی عروج پر ہے۔خود مسلمان حیران اور پریشان ہیں کہ آخر کار ان سب کا انجام کب اور کیسے ہوگا ، یہ سب کہاں جا کر رکے گا؟ مسلمان ،مسلمان کے خون کے در پے ہے۔ یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کو دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے مختلف نوعیت کی آزمائشیں درپیش ہیں۔اب اس صورت حال میں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ان آٹھاون مسلم ملکوں کی مسلم قیادت آخر کس سوچ میں پڑی اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ کیا انہیں نظر نہیں آرہا کہ جو حالات ان کی اپنی نااہلی کی وجہ سے ان کے ملکوں پر مسلط ہو چکے ہیں ان سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔؟ ایک اندازے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ ارب مسلمان رہتے ہیں۔ان میں اٹھاون ملک ہیں جن میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے۔اس کے علاوہ خاصی بڑی اقلیت غیر مسلم ممالک میں بھی آباد ہے۔عید کے موقع کی مناسبت سے دیکھا جائے تو یہ ساری مسلم دنیا کے لیے ایک انتہائی خوشی کا موقع ہے کہ انہوں نے نا صرف رمضان کا مبارک مہینہ پایا بلکہ اس کے اختتام پر عید کی مسرتیں بھی حاصل کیں۔ہر دو صورت میں یہ اﷲ کی رحمت ہے۔لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ خود ان ملکوں میں آباد مسلمان اور ان کی قیادت کس طور سے دنیا میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔کیا یہ وہی کردار ہے جس کے لیئے انہیں چودہ سو سال پہلے اسلام جیسے عظیم مذہب کے پیروکار ہونے کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔کیا اس وقت جو مسلم ممالک کی صورت حال ہے ،وہ ایسی ہے جس پر کسی بھی قسم کا فخر یا خوشی محسوس کی جاسکتی ہو ؟۔یہ بات تو بڑے فخر سے بیان کی جاتی ہے کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں۔ ان کی خوشی ،درد اور پریشانی سب ایک ہے۔ لیکن جس قسم کے حالات اس وقت اسلامی دنیا میں ہیں۔کیا وہ اس بات کو سچ ثابت کر تے ہیں ؟۔ساری دنیا پر سازشوں کا الزام لگانے والے مسلم سیاست دان ، دانشور اور مذہبی لیڈران ،کیا اس بات پر بھی غور کر نے کو تیار ہیں کہ آخر ان کی قوم اس بری طرح سے تباہی کا شکار کیوں ہورہی ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ مسلم قیادت چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی ہو کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔لیکن چند بچے کچے اہل فکر جنہیں اب بھی امت کا درد ہے وہ بار بار اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اس کا حل سب سے پہلا تو یہی ہوگا کہ اپنے اپنے تعصب سے باہر نکل کر ،بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے۔ اگر کوئی اختلاف ہیں بھی تو انہیں مذاکرات کے ذریعے نمٹایا جائے۔ دوسری اہم بات یہ ہوگی کہ مسلم دنیا کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کی جانب بھرپور توجہ دینی ہوگی تب ہی یہ ممکن ہوگا کہ وہ دوبارہ اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکیں۔جب معاشی صورت حال بہتر ہوگی تو لوگ ترقی کی جانب گامزن ہوں گی۔ جس سے مختلف قسم کے تعصبات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ایک مسلم خوشحال امت کا تصور جو سارے مسلمانوں کے دماغ میں ہے وہ اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ اور پھر واقعی ہر آنے والا دن خود بہ خود ایک عید ہوگا۔ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی سخت اشد ضرورت ہے کہ ہم نے اس رمضان المبارک مہینے کا کیا سیکھا ہے ؟کیا ہم نے اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے ؟کیا ہم نے اپنے رب کا منانے کی کوشش کی ہے ؟کیا ہم نے حسد ،بغض ،عباد ،کینہ چھوڑا ہے ؟کیا ہم نے ویسا بننے کی کوشش کی ہے جیسا بننے کا حکم ہمیں رب تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ نے دیا ہے؟؟؟


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haji Latif Khokhar

Read More Articles by Haji Latif Khokhar: 122 Articles with 54677 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2022 Views: 264

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ