جسم کے کن حصوں کو ہیٹ ویو کے دوران سورج کی گرمی سے بچانا سب سے زیادہ ضروری ہے؟

 
کڑی دھوپ اور ہیٹ ویو کے دوران ہم اکثر احتیاطی تدابیر کے دوران جسم کے ایسے حصوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جنہیں سورج کی تپش سے بچانا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کڑی دھوپ میں کونسے اعضاء کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔
 
آپ کی کھوپڑی
یاد رکھیں کہ انتہائی خوشنما تالے بھی آپ کی کھوپڑی پر لگ جائیں تو بھی آپ کو وہ دھوپ کی سخت ترین روشنی سے نہیں بچا سکتے۔ اس لئے سخت گرمی کے دوران دھوپ میں ٹوپی ضرور پہننی چاہیے اور کوشش کریں کہ ٹوپی ایسی ہو جس سے زیادہ پسینہ بھی نہ آئے کیونکہ اکثر ٹوپیوں کی وجہ سے سر زیادہ گرم ہوجاتا ہے ۔ کوشش کریں کہ کپڑے کی ٹوپی یا رومال استعمال کریں۔
 
آنکھیں
دھوپ اور گرمی کے دوران آنکھوں کو حفاظت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ ہیٹ ویو کے دوران آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور کڑی دھوپ اور گرمی سے آپ کی آنکھیں خراب ہوسکتی ہیں۔ دھوپ کی تمازت سے آپ کی آنکھوں کے اندر کی جھلی متاثر ہوسکتی ہے اور آپ کی آنکھوں میں انفیکشن ہوسکتا ہے، اس لئے آپ کو تیز دھوپ میں آنکھوں پر عینک کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔
 
 
چہرا
گرمی کے دوران لوگ مختلف اقدامات کے دوران چہرے کو نظر انداز کردیتے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ کڑی دھوپ کی وجہ سے آپ کا چہرہ جھلس سکتا ہے اس لئے دھوپ میں نکلنے سے پہلے چہرہ پر کوئی معیاری لوشن لگائیں تاکہ آپ کی جلد دھوپ کی شدت سے محفوظ رہے۔
 
ہونٹ
ہونٹ ہمارے جسم کے نازک ترین حصوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں لیکن دھوپ کی شدت ہمارے ہونٹوں کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے اور جسم میں پانی کی شدید کمی اور دھوپ کی وجہ سے ہونٹ پھٹ سکتے ہیں اس لئے ہونٹوں پر اچھی کریم لگائیں تاکہ آپ کے ہونٹ دھوپ سے خراب نہ ہوں۔
 
 
پاؤں
ہمارے پیر زیادہ تر وقت جوتوں میں گزارتے ہیں، اس لیے پاؤں کی جلد دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے کی عادت نہیں رکھتی لہٰذا پاؤں کے اوپر کی جلد کے لیے جلنا کافی آسان ہے۔ جب آپ دھوپ میں ہوں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ پاؤں دھوپ سے محفوظ رہیں کیونکہ اگر آپ کے پاؤں ننگے ہونگے تو آپ کو دھوپ سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوگا۔

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
13 May, 2022 Views: 3081

Comments

آپ کی رائے