کیا کراچی والے تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیں، کراچی یونی ورسٹی کے طلبا ایسے کہنے پر کیوں مجبور ہو گئے

 
گزشتہ مہینے 29 اپریل کو کراچی یونیورسٹی کے اندر ایک خودکش خاتون بمبار نے چینی اساتذہ کی ایک گاڑی کے سامنے آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تین چینی اور ایک گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا-
 
یاد رہے کہ اس خودکش بمبار کا تعلق کسی بھی طرح کراچی یونی ورسٹی سے نہ تھا اور اس دھماکے کی ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کی۔ اس عورت کی کراچی یونی ورسٹی میں دھماکہ خیز مواد کے ساتھ داخلہ یہاں کے سیکیورٹی اداروں کے منہ پر ایک کالک تھی لیکن دھماکہ ہونے کے بعد اور جانی نقصان کے بعد اس کی تلافی ممکن نہ تھی-
 
کراچی یونی ورسٹی
کراچی یونی ورسٹی کراچی کی عوام کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے جہاں پر کراچی کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں اور کراچی جیسا بڑا شہر جو ہر دور حکومت میں یتیم ہی سمجھا جاتا ہے- وہاں اس یونی ورسٹی کی موجودگی یہاں کی عوام اور طالب علموں کے لیے علم کی پیاس بجھانے کا اہم ترین ذریعہ ہے -
 
 
کراچی یونی ورسٹی میں خودکش دھماکے کے بعد صورتحال
خودکش دھماکے کے بعد کراچی یونیورسٹی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور دھماکے کے بعد کچھ دن تک تو اس کو مکمل طور پر بند رکھا گیا اور اس کے بعد اس کو کھولنے کی اجازت تو دے دی گئی مگر اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اداروں کی جانب سے سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا ایسا عمل شروع کیا گیا جس نے طالب علموں کو شدید مشکلات کا شکار کر دیا اور وہ بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا کراچی والے تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیں-
 
1: یونی ورسٹی میں شٹل اور گاڑياں اور بائک کے داخلے پر پابندی
جو لوگ کراچی یونی ورسٹی سے واقف ہوں گے ان کو یہ پتہ ہو گا کہ یہ کراچی یونی ورسٹی کتنے بڑے رقبے پر محیط ہے اور مین گیٹ سے لے کر کسی بھی ڈپارٹمنٹ تک جانے کے لیے کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے- جس کے لیے عام طور پر طالب علم بائک، شٹل یا رکشے وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس واقعہ کے بعد سے سیکیورٹی الرٹ کے نام پر تمام پرائیویٹ گاڑيوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے- س کی وجہ سے طالب علموں کو اس شدید گرمی میں اپنے ڈپارٹمنٹ تک پہنچنے کے لیے ایک طویل راستہ دھوپ میں پیدل چل کر طے کرنا پڑ رہا ہے جو کہ ان کو شدید اذیت میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہا ہے-
 
2: جامہ تلاشی لازمی
اس کڑی دھوپ میں علم کے حصول کے خواہشمند نوجوان بچوں کو سیکیورٹی اداروں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر جامہ تلاشی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس بار چونکہ خود کش بمبار ایک خاتون تھیں جس کی وجہ سے لڑکیوں کی بھی جامہ تلاشی کا سلسلہ جاری ہے- جس کے ساتھ انہیں سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے برے سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے-
 
 
3: ہر قسم کی کینٹین اور ٹک شاپ بند
اس بات سے تو ہم سب ہی واقف ہیں کہ یونی ورسٹی کی تعلیم اسکول اور کالج کی تعلیم کی طرح نہیں ہوتی ہے جس میں صبح اٹھ بجے سے ایک بجے تک پڑھائی ہو- یونی ورسٹی کے طلبا و طالبات کو دن کا ایک بڑا حصہ یونی ورسٹی ہی میں گزارنا پڑتا ہے جہاں پر لیکچر کے ساتھ ساتھ اسائنمنٹ ۔گروپ اسٹڈی اور لائبریری میں ریسرچ شامل ہوتی ہے- سائنس کے شعبے سے منسلک طلبا طالبات کے پریکٹیکل بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دن کا بڑاحصہ گزرانا پڑتا ہے- مگر سیکیورٹی کے سبب تمام ٹک شاپ‎ اور کینٹین بند کر دی گئي ہیں جس کی وجہ سے طالب علموں کو پانی کی بوتل تک میسر نہیں ہوتی ہے-
 
ناکردہ گناہوں کی سزا شائد اسی کو کہا جاتا ہے جس کا سامنا ان دنوں کراچی یونی ورسٹی کے طلبا و طالبات کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک ان کو تعلیم ہی سے متنفر کر دینے کا باعث بھی بن سکتا ہے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
12 May, 2022 Views: 713

Comments

آپ کی رائے