عمران خان کا زہر دینے کا انکشاف۔۔۔ خادم رضوی، جسٹس وقار اور ارشد ملک کے انتقال پر بھی سوال اٹھنے لگے؟

 
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار سے معزولی کے بعد مختلف الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں انہوں نے جلسے میں یہ انکشاف کیا کہ کیسے ایک زہر کھانے میں ڈال کر دینے سے ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے۔ عمران خان کے انکشاف کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے خادم رضوی، جسٹس وقار اور ارشد ملک کے انتقال پر بھی سوال اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
 
عمران خان کا انکشاف
16 مئی کو فیصل آباد میں جلسے کے دوران عمران خان نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے کیسز کی تفتیشی افسر کو دباؤ ڈال کر مار دیا گیا اور ڈاکٹر رضوان اور نعمان اصغر کو دل کا دورہ کیسے پڑا سپریم کورٹ سو موٹو لے، جن کے اوپر کیسز ہیں انہیں ہی حکومت سپرد کردی گئی، جنہوں نے ایف آئی اے کے افسران کو تبدیل کردیا، میں اس زہر کو جانتا ہوں جس کے کھانے سے ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے۔
 
ارشد ملک
سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو کرپشن کے ایک مقدمے میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا انتقال4 دسمبر 2020کو ہوا۔جج ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی- تاہم بعد میں ان کی ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ارشد ملک کورونا میں مبتلا تھے اور پھیپھڑوں میں انفیکشن کی بنا پر مصنوعی تنفس دیا جا رہا تھا تاہم وہ جان کی بازی ہار گئے۔
 
جسٹس وقار سیٹھ
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ 12 نومبر 2020کو کورونا کے باعث کرگئے تھے، سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کے بعد انھیں سزائے موت سنانے والے جج اور پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد اور ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ لگ بھگ دو ہفتوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔وفات سے تین روز پہلے ان کی حالت بہتر ہوئی لیکن ایک مرتبہ پھران کی طبیعت زیادہ بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا جس کے بعد وہ خالق حقیقی سے جاملے۔
 
خادم رضوی انتقال
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی شدید بخار میں مبتلا ہونے کے بعد 19نومبر2020کو انتقال کرگئے تھے، راولپنڈی میں دھرنے کے دوران انہیں بخار ہو گیا تھا اور جو شدت اختیار کر گیا اور خادم رضوی جانبر نہ ہوسکے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان کا انتقال دل کی دھڑکن بند ہونے سے ہوا۔
 
سوشل میڈیا صارفین
زید نامی نے ٹوئٹر پر پیغام میں سوال اٹھایا کہ ارشد ملک نے جب سچ بولنا چاہا تو اچانک ہسپتال سے خبر آئی کے ان کا انتقال ہو گیا- اس کے بعد جسٹس وقار سیٹھ اور خادم رضوی جس نے حکومت کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا ان سب کی وفات کیسے ہوئی اس کی انکوائری ہونی چاہئے شاید ان کیسز میں بھی وہی زہر استعمال ہوا ہے جس کا عمران خان ذکر کر رہا ہے۔
 
 
راشد ہاشمی نامی صارف نے لکھا کہ عمران خان کے خلاف فی الفور ارادہ قتل کا مقدمہ کرکے کاروائی کی جائے۔
 
چوہدری اشفاق جٹ نے لکھا کہ خادم رضوی صاحب فوت ہونے سے آٹھ دن پہلے ایک مسجد میں تقریر کر کے بتا رہے تھے میں آنے والے جمعہ میں بتاؤں گا مجھے فیض آباد چوک میں کس نے بٹھایا اور کیوں بٹھایا کیا مقاصد تھے اور مجھے کتنے پیسے دیے تھے اور کیوں دیئے گئے تھے پھر آٹھ دن بعد ان کی موت واقع ہوگئی انکوائری تو بنتی ہے۔
 
 
کامی نامی صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں جو اس کے سخت ناقدین تھے انکو بھی شائد اس قسم کا زہر دیا گیا تھا۔
 
 
عاصمہ جہانگیر۔ ہارٹ اٹیک
جسٹس وقار سیٹھ۔ ہارٹ اٹیک
مولانا خادم رضوی۔ ہارٹ اٹیک
جسٹس ارشد ملک۔ ہارٹ اٹیک
صحافی ارشد وحید چودھری۔ ہارٹ اٹیک
اس زہر کی انکوائری ہونی چاہیے یہ کون کیسے استعمال کرتا ہے؟
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
16 May, 2022 Views: 6027

Comments

آپ کی رائے