مارننگ شوز کا سفر۔۔۔ چاچا جی سے شاندار شروعات لیکن اب صرف تباہی، میزبانوں کی چند خامیاں جو دور ہونی چاہئیں

 
مشہور مارننگ شو میزبان چاچا جی سے کون واقف نہیں۔۔۔ ان کی شخصیت کا جائزہ یہاں ضروری ہے تاکہ موجودہ مارننگ شو میزبانوں سے ان کا تقابل کیا جا سکے۔ تب ہی تو ہم اندازہ لگا سکیں گے کہ ہم کتنی ترقی کر چکے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔
 
 مستنصر حسین تارڑ (چاچا جی) نے اپنے کیریئر میں 50 سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں ناولز اور مختصر کہانیوں کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ ان کی پہلی کتاب یورپ کا سفرنامہ تھا جو 1971 میں "نکلے تیری تلاش میں " کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے سترہ یورپی ممالک کا سفر کیا اور اردو ادب میں سفرناموں کے ایک نئے رجحان کو آگے بڑھایا۔ اب تک ان کے چالیس سے زیادہ سفرنامے شائع ہو چکے ہیں۔
 
وہ ایک ٹیلی ویژن اداکار بھی تھے اور کئی سالوں تک پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (PTV) کے پہلے لائیو مارننگ شو صبح بخیر (1988) کے میزبان بھی رہے۔ مارننگ شو میں ان کی میزبانی کا انداز غیر روایتی اور ہٹ کر تھا - انھوں نے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے نہ صرف لوگوں میں بہت مقبولیت حاصل کی بلکہ انکے دلوں میں رہنے لگ گئے۔ وہ اس وقت کے بچوں میں سب سے زیادہ پہچانی جانے والی شخصیت تھے کیونکہ انکی ٹرانسمیشن کا بنیادی ہدف بچے ہی تھے۔ وہ اپنے آپ کو تمام پاکستانی بچوں کا چاچا جی کہتے تھے اور پھر اسی لقب سے مشہور ہو گئے۔ ان کی باتیں نہ صرف حکمت سے بھری ہوتی تھیں بلکہ سیاح ہونے کے ناطے بہت سے دلچسپ واقعات ان کی گفتگو میں پروئے ہوئے ہوتے تھے جن کو بچے بڑے سن کر محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ باہری دنیا کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتے تھے۔ یعنی ان کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارا جاتا تھا۔آج بھی ان کے مارننگ شوز کو دیکھیں تو ان کی باتوں کا سحر آپ کو اپنے اندر لپیٹ لے گا۔
 
تارڑ کئی سالوں تک ایک سرگرم کوہ پیما رہے اور مشہور پہاڑ K2 اور Chitti Booi Glacier کے بیس کیمپ میں بھی رہے۔ اپنے طویل کیریئر کے دوران وہ ایک اخباری کالم نگار بھی رہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ علم کا خزانہ ہیں۔ ان کی محفل میں بیٹھنا کتنا دلفریب ہوتا ہوگا۔
 
 
اب کچھ آج کے مارننگ شوز کے میزبانوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ آج مارننگ شوز کو گرجنے والے شوز کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا شور شرابے سے بھرپور شاید یہ آج کی ڈیمانڈ ہے۔ جب آپ صبح 9:00 بجے ٹی وی آن کرتے ہیں تو ہر دوسرے چینل پر سجی بنی انتہائی خوبصورت لباس زیب تن کی ہوئی باربی ڈول کی طرح کی لڑکیاں نظر آئیں گی ان کو مارننگ شو کی میزبان کہا جاتا ہے۔ مارننگ شو کی میزبان سے لے کر سیٹ غرض ہر چیز گلیمر سے بھر پور ہوتی ہے۔ عوام میں میک اپ اور اسٹائل عام کرنے میں شاید یہ پروگرامز کامیاب ہوئے ہوں۔ لیکن عوام کی علمی معلومات بڑھانے کے لئے کوئی خاص محنت نظر نہیں آتی۔
 
فیصل قریشی:
ایک آدمی جو اداکاری کے میدان کا بادشاہ ہے لیکن میزبانی میں وہ سست ہیں- ان کی توانائی کی سطح کافی کم ہے جو کہ ایک مارننگ شو میزبان کے لئے لاذمی عنصر ہے۔ وہ بولتے وقت لمبا وقفہ لیتے ہیں شاید یہ ان کے ایکٹر ہونے کا اثر ہے لیکن چاچا جی بھی تو ایکٹر تھے جب وہ میزبانی کر رہے ہوتے تھے تو وہ ایک مکمل میزبان نظر آتے تھے۔ میزبان ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتا ہے جہاں اسے بحث کو بھڑکانا ہوتا ہے۔ مارننگ شو میں دو مزاحیہ اداکاروں کو فٹ کیا ہوا ہے جن کا کام قابل رحم لطیفے سنانا ہے۔
 
ساحر لودھی:
کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ وہ شاہ رخ خان کے خول سے باہر آئیں تو ان کی اپنی شخصیت سامنے آئے۔ ساحر سب سے زیادہ زیر بحث میڈیا شخصیت ہیں۔ ان کا سیٹ ہمیشہ لوگوں سے بھرا ہوتا ہے اور ایک افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ وہ بہت ذیادہ انرجی کے ساتھ پروگرام کرتے ہیں ہائی بلڈ پریشر والے افراد کو ان کے پروگرام سے گریز کرنا چاہئے. وہ شو کو ڈرامائی انداز دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آڈینس کو متوجہ رکھنے کے لئے کوئی خاص مواد نہیں ہوتا. شاید وہ ایک اچھے ریڈیو ہوسٹ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
 
ندا یاسر:
ندا نے گلیمر کو ان کیا کہنا غلط نہیں ہوگا چاہے وہ سیٹ ہو یا ان کا شاندار لباس ۔ ان کے شو کا واحد ایجنڈا ہے ’’پورے پاکستان کو شادی کرنی چاہیے‘‘۔ اور اب وہ اپنی فلموں کی پروجیکشن اپنے شوز کے ذریعے کرتی نظر آتی ہیں ان سب چیزوں میں مارننگ شو کا مقصد کھو سا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام جو چاہتی ہے وہ ہم دکھاتے ہیں ۔ میڈیا کا کام معاشرے کو باشعور بنانا ہے۔ ساری دنیا میں اس طرح کے شوز کا مقصد عوام کو معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ ہاں اس کے لئے ضروری ہے کہ ہوسٹ کا نقطہ نظر بھی مہذب اور پڑھا لکھا ہو۔
 
جگن کاظم:
جگن کا اپنا ایک جارحانہ رویہ ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے لہجے میں کافی بہتری آئی ہے وہ سادگی میں بھی خوبصورت نظر آتی ہے۔ یہ نقطہ نظر قابل تعریف ہے کیونکہ پی ٹی وی پاکستان کے دور دراز کے دیہی علاقوں میں دیکھا جا تا ہے جہاں آپ پیچیدہ احساسات کا اظہار نہیں کر سکتے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں انھوں نے اپنے شو میں ٹک ٹاکرز بلائے ایک نازیباں گیم کی وجہ سے جگن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ آخر اتنا کام کرنے کے بعد بھی ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ کیا چیز معیاری ہے۔
 
صنم جنگ:
'جاگو پاکستان جاگو' HUM TV سے نشر ہوتا تھا جو بغیر کسی مواد کے ہوتا تھا ۔ لگتا تھا ہوسٹ بس گھر سے نکلتی اور سیٹ پر گھریلو انداز میں باتیں شروع ہو جاتی ان کی باتوں میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آتا تھا۔ صنم جنگ کی شائستہ اور میٹھی زبان ہے لیکن وہ مضحکہ خیز بات کرتی ہے۔ وہ شوکے ذریعے صرف ایک میڈیم فراہم کرتی تھی جس میں ڈیزائنر کپڑوں کی تشہیر کی جاتی تھی اور میک اپ آرٹسٹ مشہوری حاصل کرتے تھے۔
 
شائستہ لودھی:
یہ ڈاکٹر ہیں لیکن ان کے شو میں مفید معلومات کا فقدان ہوتا ہے۔ وہ ایک پرجوش میزبان ہے ۔ وہ مہمانوں کی رائے کا احترام کرتی ہے اور جانتی ہے کہ مہمان سے معلومات کیسے نکالی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ اتنی کھلی ہو جاتی ہیں کہ اپنی حدیں پار کر لیتی ہیں۔ بے شک بہتر TRP کے لیے وہ سنسنی پیدا کرتی ہیں ۔
 
مدیحہ نقوی:
وہ ایک تعلیم یافتہ نفیس میزبان ہے۔ وہ کبھی بھی نازیبا اور نامناسب زبان استعمال نہیں کرتی۔ ان کے شو کا ایک مناسب مینڈیٹ ہے اور وہ جانتی ہیں کہ شو کو کیسے چلانا ہے۔ لیکن انھیں اپنے سامنے مہمان سے زیادہ سے زیادہ معلومات نکلوانے کے لئے اپنی گفتگو پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
 
یہ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی پروگرام کے پیچھے بہت سے لوگوں کی انتھک محنت شامل ہوتی ہے لیکن یہ محنت اس وقت بار آور ہو گی جب مقصد کو حا صل کیا جائے گا ۔ میڈیا ہماری زندگیوں میں بنیادی حیثیت کا حامل ہو چکا ہے ۔ ہماری نسلیں ان ستاروں کی تقلید کرتی ہیں۔ اب ان لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ مادہ پرستی کو پس پشت ڈال کر عوام کی اصلاح کو مدنظر رکھیں کیونکہ معاشرے کی اصلاح کا یہ بہترین اور کارآمد ذریعہ ہیں۔
Comments Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
16 May, 2022 Views: 7361

Comments

آپ کی رائے