از:۔ عمر حیات قائم خانی
" />

"قائد اعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"

(Muhammad Ahmed Tarazi, karachi)
"قائد اعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"
از:۔ عمر حیات قائم خانی
"قائد اعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"
از:۔ عمر حیات قائم خانی
"قائدِاعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"، ایک ایسا موضوع ہے، جو اپنی وسعت اور معنویت میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ نیز، اپنی وضاحت میں پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو ظاہر اور متعیّن بھی کرتا ہے۔ اس عنوان کے دو حصّے ہیں۔ پہلا حصّہ قائدِاعظم، مُحمّد علی جناح کی جدّوجہد، دُور اندیشی، حکمتِ عملی اور فراست و بصیرت سے متعلق ہے، جب کہ دوسرا حصّہ، پاکستان کی نظریاتی اساس"دو قومی نظریہ " کے بارے میں ہے۔ اور یہ دونوں حصّے، باہم لازم و ملزوم ہیں۔ جب تک آپ ایک حصّے کا تاریخی طور پر فہم پیدا نہیں کریں گے، اُس وقت تک دوسرے حصّے کی حقیقت و معنویت منکشف نہیں ہوسکے گی۔ پہلے قائدِ اعظم، مُحمّد علی جناح کی حیات و خدمات کا تذکرہ، پھر ادو قومی نظریہ یعنی کی روشنی میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر بات ہوگی۔
بانیٔ پاکستان، قائدِ اعظم، مُحمّد علی جناح کا شمار عہدِ جدید کی اُن عظیم شخصیات میں ہوتا ہے، جو اپنی حیات وخدمات کی روشنی میں تاریخ کا ایک ایسا باب بن جاتی ہیں کہ آنے والی صدیاں اُن کے تذکرے سے گونجتی رہتی ہیں۔ قائدِاعظم نے اپنی زندگی کے تقریباً چوالیس سال ہندوستان کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کی ترقّی، خوش حالی، سیاسی بالادستی، ثقافتی تحفّظات اور حصولِ آزادی کے لیے بسر کیے۔ اگرچہ ،بعض مراحل پر اُنھیں اپنوں اور غیروں کی جانب سے سخت مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا، مگر اُن کی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں اور ناقابلِ تسخیر سیاسی بصیرت نے بالآخر یہ بات طے کردی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے وہ ہی بلاشرکتِ غیرے" قائدِ اعظم" ہیں۔
جون 1937 ء میں شاعرِ مشرق، علّامہ اقبال نے قائدِاعظم کے نام اپنے ایک خط میں اسی سیاسی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ" اِس وقت جو طوفان، شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والاہے، اُس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے مسلمان قوم محفوظ رہنمائی کی توقّع کا حق رکھتی ہے۔" یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ1935 ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نفاذ سے قبل، ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی وحدت نہ صرف انتشار کا شکار تھی، بلکہ اُن کی نمایندہ سیاسی جماعت،" آل انڈیا مسلم لیگ" بھی ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی۔ لہٰذا تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر، جب مسلمان اپنی بقا اور سلامتی سے بڑی حد تک مایوس ہوچکے تھے، قائدِاعظم، مُحمّد علی جناح نے تدبّر، فراست، غیر متزلزل عزم، سیاسی بصیرت اور بے مثل قائدانہ صفات سے کام لے کر مسلمانوں کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد و منظّم کردیا کہ 23 مارچ 1940 ء کو لاہور میں نہ صرف ایک علیٰحدہ مسلم وطن کی قرارداد منظور ہوگئی بلکہ14 اگست1947 ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔
قائدِاعظم کی سیاسی زندگی کے آخری پندرہ سال، مسلم ہندوستان کی آئینی اور سیاسی بالادستی کے حصول کے حوالے سے بسر ہوئے۔ انہی پندرہ برسوں کے دَوران جہاں اُنہوں نے مسلمانوں کے منتشر ہجوم کو ایک قوم کی صُورت دی، وہاں اُن کو یہ بھی باور کروایا کہ وہ مسلمان ہونے کی حیثیت میں ایک عظیم تاریخی وَرثے کے مالک ہی نہیں، بلکہ ایک ایسے مذہب کے پیروکار بھی ہیں، جو مکمّل ضابطۂ حیات ہے۔ قائدِاعظم نے تحریکِ پاکستان کے دَوران اپنی تقاریر، بیانات اور خطوط کے ذریعے جہاں دو قومی نظریے کی وضاحت کی، وہاں مطالبۂ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کی حقانیت کا بھی اعلان کیا۔ یہ تقاریر، بیانات اور خطوط ایسی بنیادی سچائیاں ہیں، جن کی تفہیم اور تفتیش سے ہم نہ صرف قائدِاعظم کے تصوّرِ پاکستان، حکمتِ عملی اور سیاسی بصیرت سے آشنا ہوسکتے ہیں، بلکہ اپنے مُلک کی ترقّی و خوش حالی اور استحکام کے لیے ایک حتمی لائحۂ عمل تک رسائی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ نیز، جب تک ان تقاریر، بیانات اور خطوط کا مطالعہ نہیں کریں گے اور اُن کا فہم پیدا نہیں کریں گے، اُس وقت تک نظریاتی تحفّظ اور قومی وحدت کے حوالے سے بہت سے سوالات ہمیں قومی مستقبل کے حوالے سے ڈراتے رہیں گے۔
یہاں یہ عرض کرتے چلیں کہ قائدِاعظم، مُحمّدعلی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دَوران یا قیامِ پاکستان کے بعد اپنی تقاریر میں کبھی نظریاتی حوالے سے’’ سیکولر‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ افسوس یہ کیسا غیر اخلاقی رویّہ ہے کہ ایک ایسا لفظ قائدِاعظم کے نظریات سے منسوب کیا جاتا ہے، جو کبھی آپ نے لادینی معانی میں اپنی زبان سے ادا ہی نہیں کیا۔ قائدِاعظم کے کسی بیان یا نکتۂ نظر سے سیاسی روایت کے پیشِ نظر یا آزادیٔ اظہار کی تائید میں اختلاف تو کیا جاسکتا ہے، لیکن اُس کی حقیقی معنویت کو تاویلات میں اُلجھا کر یا اُس میں اپنے نکتۂ نظر کی مماثلت تلاش کرنے کی کوشش ایک واضح بددیانتی ہے۔ ایک مخصوص مکتبۂ فکر قائدِاعظم کے خیالات کو اپنے نظریات کے آئینے میں پیش کرتا ہے، جو یقیناً بابائے قوم کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ شاید اسی لیے یہ مخصوص طبقہ، قراردادِ مقاصد کو بھی مطعون کرتا رہتا ہے اور اس کی ضرورت و اہمیت سے انکاری ہے، جب کہ قراردادِ مقاصد اپنے متن میں قائدِاعظم کی حقیقی فکر کی ترجمان ہے۔
پاکستان کی آئین سازی کی تاریخ میں’’ قراردادِ مقاصد‘‘ ایک بنیادی دستاویز ہے۔ اس قرارداد میں نہ صرف قوم کے مخصوص تاریخی وَرثے کی عکّاسی کی گئی ، بلکہ اس میں قائدِاعظم، مُحمّد علی جناح کے افکار و خیالات کی روشنی میں قومی نصب العین کا تعیّن بھی کیا گیا ۔ قراردادِ مقاصد میں اُن اُصولوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جن کی بنیادوں پر مستقبل میں پاکستان کا آئین مرتّب کیا جانا تھا۔ اسی لیے اس قرارداد کو آئین ساز اسمبلی نے منظور کرکے پاکستان کے مجوّزہ آئین کے دیباچے کی حیثیت دے دی اور پاکستان کے تمام آئین اسی قرارداد کی روشنی میں مرتّب کیے گئے ۔یہاں اس قرارداد کے نکات کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں، لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ قرارداد منظور نہ کی جاتی، تو پاکستان کے آئین کو قرآن و سنّت اور قائدِاعظم کے افکار کے مطابق خطوط میسّر نہ آتے اور وہ طبقہ، جو انگریزوں اور ہندوئوں کے زیرِ اثر پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھا، اپنے مقاصد میں کام یاب ہوجاتا اور ہم تحریکِ پاکستان اور مطالبۂ پاکستان کے حقیقی مقاصد سے رُوگردانی کے مرتکب ہوجاتے۔ اس قرارداد نے پاکستان کی نظریاتی حیثیت کا تعیّن کیا اور ہمیں اپنی نومولود ریاست کو’’ اسلامی جمہوریۂ پاکستان‘‘ کہنے کا اعزاز بخشا۔ یہ سب کچھ بانیٔ پاکستان کی دُور اندیشی، بصیرت اور اپنے مقاصد سے گہری اور ناقابلِ شکست وابستگی کے نتیجے میں ہوا۔ اور ہم اس پر فخر مند ہیں کہ یہی قرارداد قائدِاعظم کے افکار و خیالات کی روشنی میں پاکستان کی نظریاتی اساس ہے۔
اسی طرح دو قومی نظریہ یقیناً پاکستان کے وجود کے لیے روح کا درجہ رکھتاہے، پاکستان کی بنیاد اسی نظریے پر کھڑ ی کی گئی تھی، اس نظریے کی رو سے پاکستان صرف مسلم قوم کا ملک ہوسکتا ہے۔ یہ خطہ کسی اور قوم کا مُلک ومِلک ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بات اسلام کے جذباتی پہلو اور سیا سی تاریخی پس منظر کے اعتبار سے بالکل بجا ہے، کیوں کہ ماضی میں ہمارے سامنے دو قومی نظریے کی سیاسی و شرعی جو تشریح کی گئی تھی، اس کے تنا ظر میں ہماری یہ فکر درست ہے۔ جو نظریاتی پاکستانی اس فکر کے تحت پاکستان کے اسلامی، نظریاتی تشخص کی بابت سخت ردعمل دے رہے ہیں، وہ اپنی جگہ درست ہیں، انہیں غلط قرار دینا آسان نہیں ہے، ورنہ ہمیں دو قومی نظریے کی مبینہ ان سیاسی وشرعی تشریحات سے واضح طور پر دستبردار ہونا پڑے گا، جو اس ملک میں اپنے علاوہ کسی اور کو جگہ دینے میں رکاوٹ ہیں ۔
دو قومی نظر یہ جس طرح ہمارے سامنے ہے، اسی طرح بانیانِ پاکستان کے سامنے قیامِ پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا اور اس کے بعد بھی ان سے اوجھل نہیں تھا، بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد بانیِ پاکستان، حضرت قائد اعظم مرحوم نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ اس ملک میں تمام غیر مسلموں کو وہی انسانی ومذہبی حقوق حاصل ہوں گے جو یہاں کے مسلمانوں کو حاصل ہوں گے۔ قائد کے اس فرمان کے مطابق پاکستان کے مسلم و غیر مسلم شہری، انسانی ومذہبی حقوق میں مساویانہ حقوق رکھتے ہیں، یہی نظریۂ پاکستان ہے، ہاں! پاکستان میں قرآن وسنت کی آئینی بالا دستی کے تناظر میں اس مساویانہ حق کی تشریح کی گنجائش باقی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے سیکولرزم کا ایک نیا سیلاب پاکستان کی نظریاتی سرحدوں سے ٹکرا رہا ہے۔ پاکستان کا سیکولر طبقہ ایک مختلف جارحانہ استدلال اور منفی پراپیگنڈہ کے ساتھ پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ آور ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے ان کااستدلال یہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح سیکولر ، روادار اور متحمل مزاج ریاست کا تصور رکھتے تھے۔ اب ان کا زور اس بات پر ہے کہ قیام پاکستان کا محرک سرے سے کوئی نظریہ (آئیڈیالوجی) تھا ہی نہیں۔ وہ آئیڈیالوجی کی نفی کرکے بالواسطہ اسلام کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ نظریہٴ پاکستان کا دوسرا نام"اسلام" ہے۔
آج کل تواتر سے سیکولر صحافی یہ لکھ رہے ہیں کہ آج پاکستان وہ نہیں ہے، جو جناح کا پاکستان تھا، بلکہ یہ ملاؤں کی طرف سے مسخ شدہ پاکستان کا نقشہ ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ بعض افراد تو افواجِ پاکستان کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ خوامخواہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کا کردار اپنے اوپر طاری کئے ہوئے ہے۔معلوم ہوتا ہے پاکستان کا نظریاتی تشخص مٹانے کی ایک بہت ہی مکروہ سازش ہے جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ذرائع ابلاغ کوبھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی نظریاتی اساس کو اجاگر کرنے اور آج کی نوجوان نسل کو اس سے آگاہی کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بانی پاکستان اور مقصد پاکستان کو واضح کیا جائے۔
زیر نظر کتاب"قائد اعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"اسی حوالے ایک بہت ہی عمدہ ، کامیاب اور بے مثال کوشش ہے۔جناب عمر حیات قائم خانی نے کمال علمی دیانت کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخ پر پڑی گرد ہٹا کر ہمیں نہ صرف تشکیل پاکستان کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا ہے بلکہ مقصد وجود پاکستان کو بھی نہایت جامع اور پراثر انداز میں قلم بند کیا ہے۔نیز یہ کہ سیکولر ٹولے نے قائد اعظم اور پاکستان سے متعلق اُن کے وژن کو سیکولر جامہ پہنانے کے لیے جو تانا بانا بن رکھا رکھا تھا۔جناب عمر حیات صاحب نے علمی دلائل اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اُسے اُدھیڑ پھینکا ہے۔عمر حیات کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور ناقابل تردید حقائق کا سہارا لیا اور اپنی بات کے ثبوت میں تاریخی شہادتوں کو پیش کیا ہے۔
جناب عمر حیات قائم خانی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں ۔پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں اور پاکستان کے پسماندہ علاقے ٹنڈو آدم سے تعلق رکھتے ہیں۔"قائد اعظم اور پاکستان کی نظریاتی اساس"اُن کی پہلی تصنیف ہے۔جو اپنے اندازاسلوب اور حقائق و دلائل سے کسی کہنہ مشق تجربہ کار محقق کی تحریر محسوس ہوتی ہے۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ عام طور پر محققانہ طریقہ کار متن کو خشک اور بے روح بنا دیتا ہے ،لیکن عمر حیات نے علم اور جذبے کو اس طرح باہم آمیز کیا ہے کہ اُن کی تحریر میں چاشنی اور ایسی دلکشی پیدا ہوگئ ہے کہ قاری کو پہلے صفحے سے آخری صفحےتک وابستہ رکھتی ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ یہ ملک دین، اسلام کی بنیاد پر بنا تھا یہاں لادینیت کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک بغیر "نظریے" کے وجود نہیں رکھتا۔ لبرل جمہوریت ایک نظریہ ہے، مارکسزم ایک نظریہ ہے، سیکولرزم ایک نظریہ ہے، دین اسلام ایک نظریہ ہی نہیں عظیم ترین خدائی نعمت اورالٰہیاتی نظام ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر ہی وجو دمیں آیا تھا اور ہمیشہ "اسلامی" ہی رہے گا۔اورہمارا یہ یقین کامل ہے کہ پاکستان کی بقا کارازصرف "اسلام" میں ہے۔
وقت ضرورت اور موجودہ حالات کی اہمیت اورضرورت کے تناظر میں ایسی کتاب کی تصنیف پر جناب عمر حیات قائم خانی کو جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے۔سندھ کے ایک پسماندہ شہر میں رہتے ہوئے انہوں نے جدید تحقیق جو اصول اپنائے اور جو کارنامہ سرانجام دیا وہ لائق صد ستائش ہے۔ خوبصورت سرورق اور اعلیٰ پیپر سے مزین یہ کتاب تاریخ کےطالبعلم اور بالخصوص نوجوان نسل کے لیے لائق مطالعہ ہے ۔اہل ذوق پوسٹ میں موجود ایڈریس سے رابطہ کرکے کتاب حاصل کرسکتے ہیں۔
ہم جناب عمر حیات قائم خانی صاحب کو اس اعلیٰ کوشش پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور پر امید ہیں کہ وہ اپنے رہوارقلم کوپاکستان ،تحریک پاکستان اور اکابرین پاکستان کے وقف رکھیں گے اور کبھی رکنے نہیں دیں گے ۔
ہم برادر جناب محمد متین خالد صاحب کے خصوصی شکر گزار ہے کہ انہوں نے یہ کتاب ہمیں ارسال فرماکر ایک نوجوان صاحب تحقیق سے وابستگی اور انسیت کا موقع عنایت فرمایا۔اللہ اکریم برادرم محمدمتین خالد اور عمر حیات قائم خانی کو دین و دنیا کی آسانیاں و فراوانیاں عطا فرمائے ۔آمین
محمد احمد ترازی
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.Ahmed Tarazi

Read More Articles by M.Ahmed Tarazi: 266 Articles with 210630 views »
I m a artical Writer.its is my hoby.. View More
20 May, 2022 Views: 866

Comments

آپ کی رائے