صورتحال کی سنگینی

وقت کی سنگینی کون سمجھے گا؟پاکستان کے تمام لیڈروں،تمام سیاستدانوں،سول سوسائٹی کے تمام نمائیندوں کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے ان سب کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کے تما م حل موجود یں مگر کوئی اس سوچ کو کیسے اپنائے
وقت کی سنگینی کون سمجھے گا؟پاکستان کے تمام لیڈروں،تمام سیاستدانوں،سول سوسائٹی کے تمام نمائیندوں کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے ان سب کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کے تما م حل موجود یں مگر کوئی اس سوچ کو کیسے اپنائے،کوئی اس پہ عمل کیوں کر کرے ،سب دھکم پیل ہے سب اپنوں چکروں میں ۔مجھے تو اایسا لگتا ہے آپ کو کیسا لگتا ہے میرے قارئین!ہر ایک صلاحیت موجود ہونے کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہا، پاکستان لگ بھگ چوبیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور یہاں خدانخواستہ ایسی صورتحال سے صرف پاکستان کا ہی نقصان نہیں ہو گا بلکہ دنیا کو اس کے منفی اثرات کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ اللہ نہ کرے ایسا وقت آئے، اللہ نہ کرے کہ ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے لیکن پھر بھی موجودہ حالات کے پیشِ نظر آنے والے وقت میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے حکومت وقت کی توجہ اس طرف دلانا ضروری ہے۔نہ صرف حکومتِ وقت کی بلکہ آل پاکستان کے ہر ٖفرد کی اردگرد مشکلات کو دیکھ کر کسی بھی بڑی مشکل سے بچنے کیلئے بروقت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقیناً ہمارے فیصلہ ساز اردگرد کے حالات سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ۔ عالمی طاقتیں دہائیوں کے تجربوں اور مشقت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اب دشمن کس زیر کرنے یا پھر مفادات کے راستے میں رکاوٹ بننے اور بات نہ ماننے والے ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کی جنگ نہیں کی جائے گی بلکہ اب مخالفین یا دشمنوں کو معاشی جنگ کے ذریعے قابو کیا۔ پاکستان میں کمزور ہوتی معیشت اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی خطرناک ہے۔ ان حالات کو سنبھالنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت بلا شک و شبہ محب وطن ہیں لیکن راستے سے بھٹکنے کی گنجائش ہر جگہ موجود ہے ہمیں سب کو بھٹکنے سے روکتے ہوئے ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے واقعات اور اردگرد ہونے والی تباہی ہمیں سبق دے رہی ہے، ہمارے دشمن ڈھکے چھپے نہیں ہیں، دشمن ایک مرتبہ پھر ہمارے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہے، ہم کسی کو الزام دے کر ایک طرف نہیں ہو سکتے، ہم نے حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور ملک کو موجودہ مشکل صورتحال سے نکالنا ہے۔ کیونکہ یہ حالات ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ جو فیصلے کرنے کی جگہ بیٹھے ہیں ان سے بھی کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں اور اصلاح کا راستہ کون سا ہے۔ یہ مت سمجھیں کہ راتوں رات سب کچھ بدل جائے گا، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، سیاسی سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی، دہشت گرد دبک جائیں گے اور حکومت کو ہر طرف سکون نظر آئے گا ایسا ممکن نہیں ہے۔ ملک میں بیک وقت ہر جگہ مختلف واقعات ہوتے رہیں گے اور ان سب مثبت اور منفی سرگرمیوں میں ہی معیشت کو مضبوط بنانے اور استحکام کیلئے کام کرنا ہو گا۔ قائد اعظم نے فرمایا! آزادی کا مطلب بے لگا ہو جانا نہیں ہے۔ آزادی سے آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ آپ ایک منظم و منضبط قوم کی طرح کام کریں

 
Tasawar Abbas
About the Author: Tasawar Abbas Read More Articles by Tasawar Abbas: 20 Articles with 5050 views Journalist/کالم نگار.. View More