لاہور پولیس TASI صبغت اﷲ کے ہاتھوں یرغمال

میرے ایک قریبی عزیز طاہر خان سے رائے ونڈ میں دکان پرایک واقعہ پیش آیا۔اس واقعہ کے سلسلے میں وہاں جانے کا فوری اتفاق ہوا۔وہاں پہنچ کر اس واقعے کے حوالے سے رائیونڈ پولیس کے'' شاندار'' احوال جاننے کا موقع ملا،احوال کیا ہیں شرمندگی و ندامت کا ایک قصہ ہے۔میرے عزیز طاہرخان کا سامان مالک دکان شیخ غلام نبی کی طرف سے آئے غنڈو ں بابر مونگا،مرزا اشتیاق عرف ٹیٹو کی مدد سے نکال کر باہر پھینک دینے کا معاملہ ہے۔جب میں وہاں پہنچاتوتین دکانوں سے سارا سامان نکال کر باہر نکالا جا چکا تھا۔ہر طرف سامان ہی سامان بکھرا پڑا تھا۔پولیس ہیلپ لائن15 پر اس معاملہ بارے کال چل چکی تھی۔کچھ پولیس والے پہلے ہی موجود تھے اور 15 والے بھی پہنچ چکے تھے۔پولیس والوں نے اس معاملہ بارے ایسے جانا،جیسے پہلے ہی اس بارے سب جانتے تھے۔طاہر(کرایہ دار)نے پولیس سے وہاں موجوددرجن بھر غنڈوں بارے کاروائی کا کہا،کچھ نہ کیا گیا۔اپنا سامان دکان میں دوبارہ سے رکھوانے کی بابت کہا،کوئی مدد نہ کی گئی۔ان دکانوں پر پولیس کو اپنے تالے لگانے کی بابت زور دیا،عمل نہ ہوا۔مالک مکان،ان کے بیٹوں اور درجن بھر غنڈوں نے پولیس کے سامنے لڑنے جھگڑنے کی کوشش کی، گریبان چاک کرنے تک آئے مگر برداشت کرتے رہے،ہم نے پولیس والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کے سامنے ان کا حال یہ ہے تو سوچو بعد میں کیا کرتے ہوں گے مگر پولیس والے کوئی قابل قدر کردار ادا نہ کر سکے ،تاہم دونوں پارٹیز کو تھانے چلنے کا کہہ کر ساتھ لے گئے۔تھانے میں صبغت اﷲ TASI کے سامنے پیش ہوئے،جس کے پاس ان دکانوں کا معاملہ پہلے سے ہی مالک دکان کی طرف سے Reported تھا۔ TASI صبغت اﷲ نے ہماری ایک نہ سنی،TASI صبغت اﷲ کی حماقت کہئے یا آشیرباد کہ یہ کیس اس کے پاس تھا کہ مالکان اور غنڈوں کی طرف سے ایک ماہ قبل کسی تنازعہ پر جبری بندکروائی تین دکانوں کے تالے کھول کر لاکھوں روپے کا نقصان کروا دیا،کچھ سامان باہر پھینک کرتڑوادیااورزیادہ تر قیمتی سامان مجرمان لوڈررکشوں پر ساتھ لے گئے۔پولیس والوں کا انصاف دیکھئے کہ اس غنڈاگردی اور بدمعاشی پر مجرمان کیخلاف کوئی مناسب کاروائی کرتے،الٹاہمیں کہتے ہیں کہ اپنا سامان اٹھا لیں،کوئی اٹھا کر نہ لے جائے،میرا اس پر پولیس والوں سے کہنا تھا کہ ساراقیمتی سامان غنڈے ساتھ لے گئے، اب اس بچے کھچے کچھ سامان کا یہ کیا کریں گے؟انہیں انصاف چاہیے،ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگرانصاف یہ ہوا کہ میرے ہی عزیز طاہرخاں کو ہمراہ مجرمان پارٹی مالک مکان کے ایک بیٹے شیخ مبین کے ساتھ دفعہ751 لڑائی جھگڑا کیس بنا کر حوالات میں بند کرکے الٹا پریشر بڑھایا گیا،اس پر میں نے احتجاج کیاکہ یہ کیا ہے جناب؟توTASI صبغت اﷲ نے اس کا مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا۔ایک تو انصاف نہ ملا،دوسرا تین دکانیں چھین لی گئی،سامان باہر نکال کیا،سارا سامان غائب کر دیا،الٹادفعہ 751 لڑائی جھگڑا کا کیس بنا کر طاہر کو اندر کر دیا۔ہم نے اس پر احتجاج کیا کہ ہمارا بندہ چھوڑا جائے،یہ ظلم ہے یہ زیادتی ہے تو TASI صبغت اﷲ ہمارا بندہ چھوڑنے کے عوض بھی پیسے مانگتا رہا،میرا کہنا تھاکہ ایک ظلم دوسرا رشوت طلبی،پیسے نہ دینے اورہمارا بندہ ناحق اندر کرنے پر ہمارے احتجاج پر بھی خاصا آگ بگولہ رہا،دوسری پارٹی سے میرے سامنے پیسے لے لیے اورزیر لب مسکراتا رہا،مجرمان بھی قہقے اور تمسخر اڑاتے رہے۔ہم پر ستم اور مجرم پارٹی پر کرم کی بارش کرتا رہا۔ہمارہ بند ہ حوالات کے اندر آخر کیوں؟ہم اس کو چھڑوائے بغیر تھانے سے واپس نہیں جائیں گے،اس پر ہمیں پولیس والوں نے زبردستی باہر نکالنے کی کوشش کی جبکہ مجرمان ہماری اس بے بسی پر تھانے سے للکارے مارتے،ہم تم سے نمٹ لیں گے،باہر تو آؤ ذرا،ایسے صحافی بہت دیکھے،ہمت ہے توہمارا کچھ بگاڑ کر دکھاؤ۔TASI صبغت اﷲ نے ہمیں تھانے سے نکل جانے کو کہا،پولیس والوں نے مجھے اورایک اوربھائی کو ذبردستی باہر نکالنے کی کوشش کی،ہم نے TASI صبغت اﷲ سے کہا کہ یہ لوگ ہمیں مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ہم اب رات کے وقت تھانے سے باہر نہیں جائیں گے تو غصے سے کہتا ہے کہ ''ٹھیک ہے یہاں بیٹھے رہو،مگراب کوئی آواز نہ آئے'' مجرمان کے تھانے سے باہر آنے کے بعد ان کی گھر کی راہ لینے کے بعد، ہم بھی اپنے گھر چلے گئے۔ایک دوست کے توسط سے اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچائی ،یوں بقول اس دوست کے،رات گئے ایک بجے اے ایس پی بلال سلہری صاحب سے رابطہ ہوا،اے ایس پی کے کہنے پر دفعہ 751 ختم ہوئی اور ہمارا بندہ باہر آیا۔رات گئے تھانے سے طاہر کے گھر کال آئی، طاہر کو لے جاؤ تو میں اور ایک اور بھائی تھانے پہنچے اور ان لوگوں نے میرا نام دستخط انگوٹھا کرکے میرے حوالے کیا۔رات گئے اس سارے معاملے پر ایک درخواست برائے حصول اندراج مقدمہ برخلاف مجرمان یکم جون 2022 تھانے میں جمع کروائی،جس کو فوری طور پر جمع کرنے سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے،بہت کوششوں سے اگر درخواست لے بھی لی تو اسے On line کرنے سے مسلسل گریزاں رہے۔ بعدازاں انتہائی اصرار اور کوشش سے درخواست آن لائن کروائی،یہ کہہ کر کہ آخر آپ ہماری درخواست آن لائن کیوں نہیں کرتے تو جواب میں بولے کہ ہمارا سسٹم خراب ہے دوسرا آپ تو درخواست پھینک کرچلے گئے،کوئی رابطہ نہیں کیا،درخواست جمع کو پھینک کر بولتے رہے،اب جبکہ درخواست جمع کرہی لی ہے تو اب FIR کرنے سے انکاری ہیں جس میں جہاں رائیونڈ پولیس کا بے رحمانہ ،بے شرمانہ کردار کارفرما ہے وہیں TASI صبغت اﷲ کا رویہ بھی مظلومین کے ساتھ انتہائی ناروا اور جاہلانہ تھا جبکہ مجرمان مالک دکان شیخ غلام نبی،اس کے بیٹوں شیخ وسیم،شیخ مبین اور دو اُجرتی غنڈوں بابر مونگا اور مرزا اشتیاق عرف ٹیٹو کے ساتھ انتہائی مشفقانہ،ہمدردانہ ہے۔ TASI صبغت اﷲ اس کیس میں مجرمان کا مکمل پشتی بان بنا ہوا ہے۔دکان مالک شیخ غلام نبی اور مقامی غنڈوں بابر مونگا اور اشتیاق ٹیٹو سے خاصی رقم کھا کر ان کا ساتھی اور رہنما بنا ہوا ہے۔ان کے ووٹرز سپوٹر کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ASI کم ایک پارٹی زیادہ لگتا ہے۔متاثرہ فریق جس کا لگ بھگ 15 لاکھ کا سامان دکان سے نکال باہر کرنے کے ساتھ ساتھ غائب کر دیا گیا کی ایک نہیں سن رہاجبکہ مجرم اور غنڈہ پارٹی کے ساتھ مکمل تعاون فرما رہا ہے ان کی ہی بیٹھک اور محفل کا دلدادہ ہوا پڑا ہے۔صبغت اﷲ سرعام رشوت لے کرسرعام بدمعاشی کر رہا ہے۔غنڈوں اور بدمعاشوں کے ساتھ بھتے طے ہیں۔ اگر ایک معمولیTASI اتنابااختیار ہے کہ سرعام رشوت لیتا ہے۔سرعام دوسری پارٹی کو دھمکیاں لگاتا ہے۔غنڈوں اور بدمعاشوں سے بھتے طے ہیں تو اس ملک میں پولیس کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔سی سی پی او لاہور کو پولیس کی اس بے بسی پر ایکشن لینا چاہیے۔غنڈاگردی پرایک TASIمان نہیں ہے اور SHO رائے ونڈ کا عملی طور پر تھانے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کیونکہ ایس ایچ او تھانے میں موجود ہی نہیں ہوتا یاجان بوجھ کر ایسے معاملات میں اس کو فرنٹ مین بنا کر سائیڈ پر ہو جاتا ہے۔ہم نے ASP رائیونڈ بلال سلہری سے معاملات کو سلجھانے کے لیے رابطہ کیا،ASPبلال سلہری نے بھی اس کو ہدایت کی کہ تم مجرمان کا ساتھ نہ دو، مظلومین کے ساتھ انصاف کرو لیکن یہ اے ایس پی سے بالاتر ہے قانون سے بالاتر ہے کہتا ہے کہ اے ایس پی کون ہوتا ہے میرے معاملات میں مداخلت کرنے والا،تمھارا کیس میرے ہوتے ہوئے اے ایس پی یہاں آ کر نہیں سن سکتااور واقعی اس کی یہ بات سچ ثابت ہوئی،اے ایس پی رائے ونڈ نہیں آئے۔یہ بتانے کے لئے اے ایس پی کو کال بھی کرتے رہے مگر وہ فون اٹھاتے ہی نہیں ہیں۔ہم نے TASIصبغت اﷲ سے کہا کہ آپ کی سی سی پی او لاہور سے کمپلینٹ کرتے ہیں تو TASI صبغت اﷲ انتہائی نخوت و غرور سے کہتا ہے کہ ''میں کسی سی سی پی او لاہور کو نہیں جانتا،ایتھوں دا میں ہی بادشاہ آں'' اعلیٰ افسران بھی ایک کرپٹ TASIجو بھتہ خوروں کاساتھ دے رہا کے ہاتھوں یرغمال ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز جو گڈ گورننس کا بڑا دعویدار ہے جوہمیشہ سے پولیس کلچر کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے لیکن یہ سوالیہ نشان ہے پنجاب گورنمنٹ پر اور سی سی پی او لاہور کو بھی اطلاعاًعرض ہے کہ ایک بندہ جو سی سی پی او کو سی سی پی او لاہور ماننے سے انکاری ہے پولیس کا حصہ کیسے رہ سکتا ہے۔سی سی پی او لاہور کو اس پر ایکشن لینا چاہیئے۔ارباب بست و کشاد سے انصاف کی درخواست ہے۔
 

A R Tariq
About the Author: A R Tariq Read More Articles by A R Tariq: 56 Articles with 30096 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.