ڈپٹی نذیر احمد کی سو سالہ پرانی کتاب ’’منتخب الحکایات‘‘

کراچی میں علمی ادبی، سیاسی سرگرمیاں اور دیگر رفقاء سے ملاقاتوں کے علاوہ معارف اسلامی’’ اسلامک ریسرچ اکیڈمی‘‘ کراچی فیڈرل بی ایریا بھی جانا ہوا۔معارف اسلامی کراچی کا تعارف یہ ہے کہ مجدد وقت سید ابو الا اعلیٰ مودودیؒ کو اسلامی خدمات پر جب پہلاشاہ فیصل ایورڈ ملا تھا تو اس پیسے سے سید مودودیؒ نے معارف اسلامی کراچی اور معارف اسلامی لاہور کووجود میں لائے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی سید مووددیؒ نے اپنی سیکڑوں کتابوں،سوائے دو چار کتابوں کے، باقی ساری کتابوں کی ریالٹی جماعت اسلامی کی فلاح بہبودکے لیے وقف کر دی تھی ۔ سید مودودیؒ کے قائم کردہ معادف اسلامی کراچی اور لاہور کا کام اسلامی دنیا کے عربی فارسی علمی خزانے کی اُردو میں ترجمہ کر کے پاکستان کے عوام تک پہنچانا ہے۔دنیا میں اسلام پر اثر انداز ہونے والی چیزوں کا اُردور میں ترجمہ کر کے پاکستانیوں کو رُوشناس کرانا ہے۔ یہ دونوں ادارے اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ معارف اسلامی کراچی میں دورہ کرنے کی ایک وجہ ڈاریکٹر معارف اسلامی، جناب اظہار لحق سے ملاقات کرنی تھی جو بوجہ ممکن نہ ہوئی۔ اکیڈی کتب خانے کے انچارچ شہاب الدین صاحب کی منظوری پر مارکیٹنگ کے لیے اپنی نئی کتاب’’ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان‘‘ بھی پہنچانی تھی۔ معارف اسلامی کراچی جا کر اپنے پرانے رفیق کار جناب علی حسین ریسرچ اسکالر سے ملاقات نہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ معارف اسلامی پہنچے پر علی حسین نے اپنے اخلاق کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے باہر آکر ہمارا استقبال کیا۔چلتے چلتے معارف اسلامی کے مختلف شعبے دکھائے۔ جن میں اہل علم کو اپنے اپنے کاموں میں مصروف پایا۔پھر اپنے کمرے میں لے گئے۔ اس کمرے میں ان کے علاوہ چار مذید ریسرچر ز حضرات تشریف فرما تھا۔ علی حسین صاحب نے ان تمام سے ایک ایک کر کے مفصل تعارف کرایا۔ ایک صاحب معارف اسلامی کا پندرہ روزہ معارف فیچرز ترتیب دیتے ہیں۔معارف فیچر میں دنیامیں اسلام سے متعلق مضامین کا غیر ملکی زبانوں سے پاکستان کی قومی زبان اُردود میں ترجمہ کر کے پاکستان کے قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں۔یہ پندرہ روزہ معارف فیچر میرے سمیت کئی لکھنے پڑھنے والوں کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔ان ریسرچرزحضرات میں ایک صاحب خالد امین جو پی ایچ ڈی ہیں سے تعارف کرایا گیا۔ ان صاحب نے ڈپٹی نذیر احمد کا سو سالہ پرانا ایک ادبی شہکار یا موتی کہیے، ڈھونڈ نکال کر’’ مُنتخِبُ الحِکیات‘‘ بچوں کے لیے سبق آموز کہانیاں کے نام سے شائع کی۔اس کتا ب کے ناشر اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی ہے۔ ان کا ڈاک کا پتہ۔ ڈی۔ ۳۵۔ بلاک ۔۵ فیڈرل بی ایریا کراچی ہے ۔ فون نمبر02136349840 برقی پتاirak.pk@ gmail.com .ویب گاہ۔www.irak.pkہے۔خالد آمین صاحب نے یہ کتاب مجھے تحفتاً پیش کی۔ یہ اِن کی ایک بہت ہی بڑی کاوش ہے۔ ملک اوربیرون ملک اس کاوش کی قدر کرنی چاہیے۔ جولوگ اپنے بچوں کو نیٹ اور فیس بک کی خرافات ہٹا کر ان کی تربیت کرنا چاہتے ہیں اس کو چاہیے کہ اس کتاب سے مدد لیں۔
والدین بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اس کتاب سے ایک کہانی ازبر کرائیں۔ہم نے یہ کتاب اپنی بہو کو اس شرط پر گفت کر دی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ایک حکایت اپنے بچوں کو سنایا کرے گی۔پاکستان کے اسکولوں میں اس کتاب کو نصاب میں شامل کر کے اس سے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔اس کتاب کے ۱۳۷ صفحات اور۷۶ سبق آموزحکایت ہیں۔

موجود خوبصورت اور بہترین سر ورق کی کتاب’’ منتخب الحکایات‘‘ کی تیاری میں معارف اسلامی کے جملہ حضرات اورجامعہ کراچی ،شعبہ ابلاغ کی طالبہ ربیعہ نے ان حکایات کی نہایت عمدہ تصویریں بنائی ہیں ۔ جوپوری کتاب میں ہر حکایات کے سامنے والے ورق پر موجود ہیں۔ہر حکایات کے نیچے ’’حاصل‘‘ لکھا ہے۔ مثلاً ایک حکایت’’ مرغ کی بھوک اورموتی‘‘ اس طرح ہے( ایک مرغ بھوک سے بے تاب ہوکر دانے کی جستجو۲ میں کوڑے کے انبار۳ کو کرید رہا تھا۔ بہت دیر بعد ناگاہ ایک بیش وقیمت موتی۶ نکلا۔ موتی کو دیکھ کر مرغ نے بڑی حسرت۷ کے ساتھ آہ کی اور کہا! افسوس اتنی جان کاہی۸ کے بعد مجھ کو ملا بھی تو موتی، جس سے میرے دل کو تشفی۹ ہو سکتی ہے اور نہ میری بھوک کو تسکین۔ یہ موتی اگر کسی جوہری یا دولت مند کو ملتا تو وہ اس کی قدر کرتا اور اس کو عزیز۱۰ رکھتا لیکن میرے لیے ایسی زور کی بھوک میں جو اریا چنے کا ایک دانہ اس سے کہیں بہتر تھا) نیچے لکھاہے۔
حاصل: نمائش۱۱ اور آرائش۱۲ کی چیزیں زندگی۱۳ کی اصل ضروتوں میں کام نہیں آتیں۔
معانی:(۱) بے قرار(۲)تلاش(۳)ڈھیر(۴)لکڑی یا ناخن سے اُوپر کھودنے کو کرید ناکہتے ہیں(۵)یکایک، اچانک(۶)بہت قیمت کا(۷)افسوس(۸) محنت

مشقت(۹)تسلی(۱۰)پیارا۔مراد غنیمت سمجھنا(۱۱)دکھاوا(۱۲)بننا سنورنا(۱۳)زندگانی اور زندگی دونوں ہم معنی ہیں۔

کتاب کومرتب کرنے والے لکھتے ہیں کہ مولوی نذیر احمد کی کتاب’’منتخب الحکایات‘‘ کو باتصویر چھاپنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کے پڑھنے والوں میں مطالعے کا شوق عام ہو۔یوں بھی حکایات کے ذریعے نوجوان نسل کی تہذیبی اور علمی تربیت بہتر انداز میں انجام دی جا سکتی ہے۔ مولوی نذیر احمد (۱۸۳۰۔۱۹۱۲) جو ڈپٹی نذیر احمد کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ بلند پایا مصنف، ناول نگار اور مترجم تھے۔ قرآن مجید کے ترجمے کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی تربیت کے لیے کئی اعلیٰ درجے کی کتابیں لکھیں۔
 

Mir Afsar Aman
About the Author: Mir Afsar Aman Read More Articles by Mir Afsar Aman: 1067 Articles with 694575 views born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More