ظریفانہ: ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

کمل والے للن نے کمان والے کلن سے کہا یار یہ بھگت سنگھ کوشیاری کی ہوشیاری ہم لوگوں کو مروا دے گی ۔
کلن بولا کیا بات کرتے ہو آج جو تمہاری سرکار بنی ہے اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ اسی کوشیاری کی ہوشیاری کو جاتا ہے۔
للن نے پوچھا اس بیوقوف نے کیا کیا؟ یہ ایکناتھ شندے کا کمال ہے ۔
ارے بھیا ایکناتھ کا اصلی ناتھ تو فردنویس وہ اگر شئے نہیں دیتا تو بیچارہ شندے کیا کرلیتا؟
اس طرح تو سار ا کھیل ای ڈی کا ہے ۔ اسی نے باغی ارکان پارلیمان کو مات دی ہے۔ اس میں کوشیاری نے کیا کیا ؟
دیکھو بھیا سپریم کورٹ میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کیا ملا جانتے ہو؟
جی نہیں مجھے تو ممبئی میں اپنی ناو ٔ ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے اس لیے میں یہ سب نہیں جانتا ۔
سپریم کورٹ میں جب شیوسینا نے ایک درجن ارکان اسمبلی کی رکنیت خارج کرنے کی درخواست دی تو وہ مسترد ہوگئی ۔
للن نے سوال کیا اچھا وہ کیوں ؟
کلن بولا اس لیے کہ وہ حکم اسپیکر کا نہیں بلکہ ڈپٹی اسپیکر کا تھا اور سپریم کورٹ کے نزدیک دونوں کی اہمیت یکساں نہیں ہے۔
لیکن شیوسینا نے اسپیکر سے یہ فیصلہ کیوں نہیں کروایا؟
یہی کوشیاری کی ہوشیاری ہے ۔ انہوں نے نانا پاٹولے کے بعد نیا اسپیکر نامزد ہی نہیں کیا ۔ اس لیے مجبوراً ڈپٹی سے کام چلانا پڑا۔
یار تب تو ماننا پڑے گا کہ یہ پرانا چاول بہت ہوشیار ہے ۔
اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ تم اسے کیوں کوس رہے ہو۔ اسی کی بدولت توفردنویس کی دوسری بار حلف برداری ہوسکی تھی ۔
یار میں تو کہتا ہوں کہ اگر وہ نہ ہوتی تو اچھا تھا ۔ اس کی وجہ سے ہمیں بہت خوار ہونا پڑا تھا ۔
ہاں ہاں لیکن کسے پتہ تھا کہ این سی پی نہیں ٹوٹے گی ۔ ہم لوگ تو سمجھ رہے تھے گھڑی والے لائن لگا کر پہنچ جائیں گے۔
ہمیں بھی یقین تھا کہ وزارت کی لالچ میں گھڑی کے کانٹے الٹی سمت میں گھومنے لگیں گے لیکن شرد پوار نے کمال کردیا ۔
کلن نے کہااسی لیے تم لوگوں نے اس بار گھڑی اور ہاتھ کو چھوڑ کر کمان کو توڑ دیا ۔
جی ہاں جب ادھو ٹھاکرے بیمار ہوئےتو انہوں نے ایکناتھ شندے پر بھروسہ کرکے اپنی ساری ذمہ داریاں انہیں سونپ دیں ۔
اور ایکناتھ نے ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ۔ یہ تو بہت بڑا وشواس گھات ہے۔
لیکن وہ بیچارہ بھی کیا کرتا ۔ کئی ماہ تک وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کے بعد پھر دوبارہ ایک معمولی وزیر بن جانا پتہ ہے کتنا مشکل ہوتا ہے؟
جی ہاں اس کا درد تو تمہارا فرد نویس ہی جانتا ہے۔ وہ بھی تو اسی کرب سے گزر رہا تھا ۔
للن بولا تم صحیح سمجھے اسی مشترک غم نے دونوں کو ایک دوسرے کا غمخوار بنادیا ۔
کلن نے سوال کیا لیکن یہ ڈیڑھ متوالوں کا کھیل کب تک چلے گا ؟ وہ لوگ وزارت سازی کیوں نہیں کرتے؟
بھیا وہاں ایک انار اور سو بیمار کا معاملہ ہے ۔ شندے کے پچاس حامیوں میں سے ہر کوئی وزارت کا خواہشمند ہے۔
ہاں تو ٹھیک بنا دو سب کو وزیر، مسئلہ کیا ہے؟
للن بولابھیا مسئلہ یہ ہے کہ مہاراشٹر کے اندر وزراء کی کل تعداد بیالیس سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور اس میں دو کم ہوچکی ہیں۔
کم ہوگئی کیا مطلب ؟ امیت شاہ نے ان پرکسی گجراتی اور مارواڑی کو تو نامزد نہیں کردیا ؟
نہیں بھیا گجرات یا راجستھان سے کیوں ؟تمہارے شندے اور فردنویس ان پر قابض ہوچکے ہیں اس لیے اب صرف چالیس چور کی گنجائش ہے۔
کلن نے چونک کر پوچھا کیا! کہا چالیس چور ؟
ارے بھیا معاف کرنا ادھیر رنجن کی مانند میری بھی زبان پھسل گئی۔
اس منورنجن میرا مطلب ہے ادھیر رنجن نے تو معافی مانگ لی لیکن یہ ہمارا کوشیاری ایسا کیوں نہیں کرلیتا ۔
للن بولا ارے بھائی زبان پھسل جائے تو انسان سنبھل جاتا ہے لیکن جب خود پھسل جائے تو سنبھلا نہیں جاتا ۔ ویسے معافی سنگھ کی پرمپرا کے خلاف ہے۔
یار تم بار بار کوشیاری کو کوس رہے ہو ۔ آخر ایسا کیا کہہ دیا اس بزرگ شخص نے؟
اس نے کہا کہ اگر ممبئی سے گجراتی اور مارواڑی نکل جائیں تو سارا پیسہ چلا جائے گااور ممبئی ہندوستان کی معاشی راجدھانی کے درجہ سے محروم ہوجائے گی ۔
کلن نے پوچھا تو کیا ممبئی کی یہ حیثیت صرف باہر والے سرمایہ واروں کی بدولت ہے؟ مہاراشٹر کے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟
جی ہاں یہی بات اس نے کہی۔ یہ تو مہاراشٹر کے لوگوں کی کھلی توہین ہے لیکن اس کو کون سمجھائے۔ اس عمر میں کوئی بات سمجھ میں بھی تو نہیں آتی ہے۔
یہ کام ہماری شیوسینا کردے گی ۔ اس کو لوگوں کا دماغ درست کرنا خوب آتا ہے۔ ہم لوگ اس کا گھر سے نکلنا دشوار کر دیں گے ۔
ارے بھیا اس کے پاس زیڈ پلس سیکیورٹی ہے ۔ تم لوگ اس کا کیا بگاڑ لوگے ؟
اس کے پاس سیکیورٹی ہے تو ہمارے پاس بھی تیر کمان ہے ۔ دنیا کا کوئی راون ہمارے رام بان کو روک نہیں سکتا ۔
ارے بھیا یہ تیر کمان بھی تمہارے پاس کچھ دن کا مہمان ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب تمہارے پاس صرف کمان رہ جائے گی ۔
اچھا اور تیر کہاں چلی جائے گا ؟
شندے کے پاس اس نے الیکشن کمیشن کے سامنےتیر کمان پر دعویٰ ٹھونک دیا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے الیکشن کمیشن اس کا بنٹوارہ کردے گا ۔
بنٹوارا کیا مطلب؟ میں نہیں سمجھا ؟
ارے بھائی ایک کو تیر دوسرے کو کمان اس سے بہتر تقسیم اور کیا ہوسکتی ہے ؟
کلن بگڑ کر بولا اچھا تو کیا تم لوگ انگریزوں کی بانٹو اور کاٹو کی حکمتِ عملی پر کاربند ہو؟
جی ہاں ہم ان کے وفادار تھے۔ انہوں نے ہمیں اس کی تربیت دے کر ماہر بنا دیا ہے۔ ہم جب الیکشن ہار جاتے ہیں تو یہ آزمودہ حربہ استعمال کرتے ہیں۔
کلن بولا یار ایک بات بولوں دعویٰ تو بہت بڑا کردیتے ہو لیکن تم لوگوں سے ہوتا جاتا کچھ نہیں ۔
ہوتا جاتا نہیں ہے کیا مطلب؟ ہم نے ٹھاکرے کی سرکار گرا دی اور اس سے زیادہ کیا چاہیے؟
یہ ایک ماہ پرانی بات لیکن اس کے ساتھ تم خود بھی تو گر گئے۔ سوا رکان اسمبلی کی موجودگی کے باوجود اپنا وزیر اعلیٰ نہیں بناسکے۔
ارے بھیا اس دوراندیش حکمت عملی کو تم نہیں سمجھوگے ۔ ہم اس کے ذریعہ شیوسینا کو منقسم کرکے ختم کردیں گے ۔
اس سے کیا ہوگا ؟
وہی جو ماضی میں ہوا تھا ۔ پھر سے ہماری پیشوائی قائم ہوجائے گی؟
کلن بولا ارے میرےخوابوں کے پیشواء شیوسینا کو بانٹنے سے قبل وزارت تو تقسیم کرکے دکھاو ۔ پچیس خود رکھ کر پندرہ شندے کو دے دو بات ختم۔
یہی تو مسئلہ ہے ۔ جن پینتیس ارکان کو وزارت نہیں ملے گی وہ ماتو شری لوٹ جائیں گے ۔ ہر کسی میں عبدالستا ر کی طرح الیکشن لڑنے کا دم خم نہیں ہے۔
ہاں وہ تو میاں بھائی ہے اس کو پارٹی کی ضرورت نہیں ۔ اپنے بل پر الیکشن میں کامیابی درج کرواتا ہے لیکن باقی تو ساتھ لگے رہیں گے ؟
ارے بھائی ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر ایک بار گھر واپسی شروع ہوگئی تو ہمارا بنا بنایا گھر اجڑ جائے گا۔
جی ہاں اور اب تو کوشیاری نے ہمیں ایک مدعا بھی دے دیا ہے۔
اچھا تو اب تم لوگ کروگے؟ اس کی مخالفت کرکے اس کو واپس بھگا دوگے ۔
جی نہیں ہم لوگ مودی سے معافی مانگنے پر اصرار شروع کردیں گے ۔
یہ بیچ میں پردھان جی کیسے آگئے؟
بھائی ادھیر رنجن کو اگرسونیا نےنامزد کیا تو کوشیاری کو مودی نے بنوایا اس لیے انہیں معافی مانگنی ہوگی ورنہ ان کا مہاراشٹر میں داخلہ مشکل کردیں گے۔
یار عجیب بات ہے کہ غلطی کرے مونچھ والا اور سزا ملے داڑھی والے کو یہ تو بڑی ناانصافی ہے۔
ہے تو ہے لیکن ہم کوشیاری کو بھگانا نہیں چاہتے ۔ ہم خواہش ہے کہ وہ اگلے الیکشن تک مہاراشٹر کے گورنر بنے رہیں ۔
یار کمال ہے! جس آدمی نے مہاراشٹر کے عوام کی ایسی توہین کی تم لوگ اس کو روکنا چاہتے ہو؟
جی ہاں کیونکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے۔ اب ممبئی میونسپل الیکشن جیتنے کے لیے ہوشیاری کا یہ بیان کافی ہے لیکن آگے بھی اس کی ضرورت پڑے گی۔
للن نے پوچھا وہ کیسے؟ میری سمجھ میں یہ منطق نہیں آئی ۔
ایسا ہے کہ اب ہمارے ہی لوگ مختلف ناموں سے مہاراشٹر کےالگ الگ علاقوں میں تقریبات رکھ کر اسے بلائیں گے ۔
اس سے کیا ہوگا؟ کیا وہ ڈر کر تمہارا پرچار کرے گا ؟؟
جی نہیں اس کے لیے ہمارے پاس کارکنان کی فوج اور سینا پتی موجود ہے ۔
تو پھر یہ گورنرکیا کرے گا؟
وہ اپنی تقریر میں اسی طرح پھسل جایا کرے گا اور ہم اس کی ویڈیوز کو پھیلاکر عوام کو تمہارے خلاف ورغلائیں گے ۔
للن بولا اچھا ! تب تو ہم لوگ خود اس کا بوریا بستر گول کردیں گے ۔
یہ تم سے نہیں ہوگا ۔ تم لوگوں کی انا آڑے آجائے گی اور ہم اس تُرپ کے پتےّ کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
للن بولا یار یہ تو بڑی مشکل ہے۔ اسی لیے میں نے شروع میں کہا تھا اس کوشیاری کی ہوشیاری ہمارے لیے وبالِ جان بن جائے گی۔
جی ہاں بھیا اگر تم لوگ ادھیر رنجن اور منی شنکر ایرّ کی حماقت کا فائدہ اٹھا سکتے ہو تو ہم یہ کیوں نہیں کرسکتے ؟
ہاں یار اس موقع پر مجھے غالب کا ایک شعر یاد آرہا ہے۔
کون سا شعر ؟ ہمیں بھی تو سناو ۔
للن بولا لو سنو ؎
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

 

Salim
About the Author: Salim Read More Articles by Salim: 1743 Articles with 881918 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.